چیئرمین عمران خان کی 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

0
57

لاہور: سابق وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد کے 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کیلئے لاہور ہائیکورٹ پیش ہوگئے، عدالت نے قرار دیا تھا کہ حفاظتی ضمانت چاہیے تو عدالت میں مقررہ وقت پر موجود ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی جانب سے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اسلام آباد کے دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوگئے۔ عمران خان جسٹس طارق سلیم شیخ کی عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس طارق سلیم شیخ مقدمات کی تفصیلات سمیت دیگر کیسز کی سماعت کریں گے۔ عمران خان کی جانب سے اسلام آباد کے 2 مقدمات (تھانہ گولڑہ اور سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ) میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی، عدالت نے انہیں آج سوا 2 بجے پیش ہونے کا حکم دیا تھا، عدالت نے قرار دیا تھا کہ حفاظتی ضمانت چاہیے تو عدالت میں مقررہ وقت پر موجود ہوں عدالت نے عمران خان کے دستخط اسکین شدہ ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے ان کے وکیل کو تصدیق کی ہدایت کی تھی۔

عمران خان زمان پارک سے اسپیشل اسکواڈ کے ساتھ روانہ ہوئے، اس موقع پر ان کے ساتھ زیادہ کارکن نہیں تھے جب کہ پولیس کی نارمل سکیورٹی انہیں حاصل تھی اور وہ سگنل پر رکتے ہوئے ہائی کورٹ پہنچے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی جانب سے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دے دیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے وکیل خواجہ حارث کے ذریعے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں عمران خان کی طرف سے خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دے دیا، عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی حاضری فائل گم ہونے پر آئی جی اسلام آباد اور ٹرائل کورٹ سے رپورٹ طلب کرلی عدالت نے کہا کہ حاضری فائل گمشدگی سے متعلق 10 دنوں میں رپورٹ پیش کریں۔

واضح رہے کہ سیشن عدالت نے 18 مارچ کو عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس آمد پر وارنٹ منسوخ کردیے تھے اور عدالت نے معاملہ ریمانڈ بیک کرکے سیشن جج کو بھجوا دیا تھا تاہم سیشن جج نے وارنٹ برقرار رکھے تو عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں