وفاقی شرعی عدالت نے دوسری بار سود کو غیر شرعی قرار دے دیا، 5 سال کے اندر حکومت کو قرآن و سنت کے مطابق قوانین بنانے کا حکم

0
220

اسلام آباد: ستائیسویں رمضان کو وفاقی شرعی عدالت کا دوسری بار اہم فیصلہ، ‏جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں اور شخصیات کی درخواست پہ شرعی کورٹ نے سود کو حرام قرار دیتے ہوئے حکومت کو قرآن و سنت کے مطابق قوانین بنانے کا حکم دیا ہے، یہ بھی سنگین لطیفہ ہیکہ اسلام کے نام پہ بننے والے ملک میں سودی نظام معیشت کیخلاف 75 برس بعد فیصلہ آیا۔

19سال بعد وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملک میں رائج سودی نظام کو خلاف شرعیت قرار دے دیا۔ ربا اور سود سے متعلق موجودہ قوانین شریعت سے متصادم ییں۔ ‏بینکوں کے منافع کی تمام اقسام سود کے زمرے میں آتی ہیں۔ سود کی تمام اقسام قرآن وسنت کے متصادم ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت کا پانچ سال میں سود سے پاک نظام نافذ کرنے کا حکم دیتے ہوئے 2027 تک ربا سے پاک نظام بنکاری کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔

‏وفاقی شریعت عدالت نے حکومت کو 31 دسمبر 2027 تک ملک سے سود/ربا کے مکمل خاتمہ کا حکم دے دیا ہے اور 31 دسمبر 2022 تک تمام قوانین میں سے ربا (انٹرسٹ) کا لفظ حذف کر دیا جائے، 32 سال میں وفاقی شرعی عدالت نے دوسری بار سود کو غیر شرعی قرار دے دیا، فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل ہو سکتی۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے فیصلے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ‏دنیا بھر سے اسلامی نظام معیشت کے ماہرین کو جمع کرکے حکومت کو میکنزم بناکر دیں گے، حکومت بھی پانچ برس کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پہ عملدرآمد کا منصوبہ بنائے، عمران خان اور نواز شریف کی حکومت نے سودی نظام کے خاتمے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

یاد رہے ‏‎2001 میں بھی ایک تاریخی فیصلہ آیا تھا، جو جسٹس وجیہ الدین اور جسٹس تقی عثمانی نے لکھا تھا۔ مشرف حکومت نے اس فیصلے پر ریویو ڈال کر اسٹے لیا ہوا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں