گلشن حدید زیادتی کیس مزید اُلجھ گیا

0
301

کراچی: گلشن حدید میں فرسٹ ایئر کی طالبہ کے مبینہ اغواء اور اجتماعی زیادتی کیس کی تحقیقات میں پیشرفت، نئی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، زیادتی کے شواہد نہ مل سکے، کیس مزید الجھ گیا۔

گلشن حدید کی رہائشی طالبہ کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی ہے تاہم اہل خانہ کی جانب سے جائے وقوعہ بتائے جانے والے مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد کیس مزید الجھ گیا ہے۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق ڈیفنس کی مبینہ جائے واردات کی ایک سی سی ٹی وی ویڈیو حاصل کر لی ہے۔ فوٹیج مبینہ جائے واردات کے قریب ایک گھر سے حاصل کی گئی۔

حکام کا کہنا کہ متاثرہ لڑکی کے بیان کے برعکس ویڈیو میں ایسا کچھ موجود نہیں ہے۔ متاثرہ لڑکی کے والد کی جانب سے اس مقام کو جائے واردات بتایا گیا تھا۔ تحقیقاتی حکام نے مزید بتایا کہ اس مقام کی ڈی ایچ اے اور کے الیکٹرک دفتر سے مزید دو سی سی ٹی وی فوٹیجز ملنا ابھی باقی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی اور ملزمان کے موبائل فون کی لوکیشنز حاصل کر لی ہیں۔ متاثرہ لڑکی کے موبائل کی لوکیشن اس کے گھر کی ہے اور اس کے اہلخانہ کے مطابق متاثرہ لڑکی اپنا موبائل فون گھر پر رکھ کر جاتی تھی۔ ملزمان کے موبائل فون لوکیشنز بھی اس جائے واردات کی نہیں ہیں بلکہ چاروں نامزد ملزمان میں ہر کسی کی لوکیشن مختلف ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ متاثرہ لڑکی نے ابھی تک پولیس کو بیان نہیں دیا ہے اور ڈاکٹرز نے بھی متعدد مرتبہ درخواست کے باوجود ابھی تک میڈیکل رپورٹ نہیں دی۔ پولیس حکام کا کہنا کہ میڈیکل اور ڈی این اے رپورٹس، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور موبائل فون کے فارنزک رپورٹ سے تحقیقات میں ٹھوس پیش رفت ہوگی۔

واضح رہے کہ کیس میں نامزد ملزم کی بہن اور متاثرہ لڑکی ایک ہی جگہ ٹیوشن پڑھتی تھیں۔ طالبہ کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ ملزمان نے لڑکی کو اغواء کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ بیٹی لاپتہ ہوئی تو پولیس نےاطلاع دی جس پر پولیس نے بتایا کہ آپ کی بیٹی بے ہوشی کی حالت میں ملی ہے۔ ہماری بیٹی کو 16 گھنٹے بعد ہوش آیا تو اس نے بتایا کہ اس کے ساتھ ‏اجتماعی زیادتی کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق کیس کو انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کردیا گیا ہے جبکہ دو ملزمان کا ریمانڈ لے لیا گیا ہے، ڈی این اے کے ذریعے روپوش ملزمان تک پہنچا جائے گا۔دوسری جانب گرفتار ملزمان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہمارے بچوں کو بلاوجہ کیس میں نامزد کیا گیا ہے اور ہمارے بچوں کے خلاف پولیس کے پاس کوئی شواہد نہیں ہیں اس لئے انہیں فوری رہا کیا جائے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں