کراچی: پاکستان اسٹیل کو بحال کرنے کیلئے اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہمایوں اختر خان روس سے ایم او یو سائن کررہے ہیں، ایک طرف وزارت صنعت پیداوار کا ایڈیشنل سیکریٹری، قائم مقام سی ای او اسٹیل ملز اسد اسلام ماہنی اپنے من پسند لاڈلے غیر قانونی ڈیپوٹیشنسٹ ملازم کو غیر قانونی تحفظ فراہم کررہا ہے جبکہ دوسری طرف آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے پاکستان اسٹیل ملز کی مالی سال 2024-25 کی 36 صفحات پر مشتمل آڈٹ رپورٹ میں ہو شربا انکشاف سامنے آرہے ہیں۔ گورنمنٹ آڈٹ میٹنگ میں ایڈہاک انتظامیہ اسٹیل ملز کو انجنئیر شعیب خان، محمد اکرم اور دائود صادق کیانی کی اسٹیل ملز کے رول اور ریگولیشن کے خلاف غیر قانونی تعیناتی، بحالی سمیت وزارت صنعت و پیداوار میں غیر قانونی ڈیپوٹیشن پر ‘آبزرویشن میمورنڈم’ جاری گیا تاہم جب فائنل آڈٹ رپورٹ جاری کی گئی تو ڈی جی کمرشل آڈٹ نے وزارت صنعت و پیداوار میں غیر قانونی ڈیپوٹیشن پر تعینات شعیب خان پر آبزرویشن میمورنڈم جی سی اے/او ایم-28/2024-25 (او ایم) کا آڈٹ پیرا نکال دیا جبکہ 2 لوگوں کا نام آڈٹ رپورٹ کے پیرا 7 اور پیرا 10 میں شائع گیا ہے۔ وزارتِ صنعت و پیداوار کے آڈٹ میں غیر قانونی ڈیپوٹیشنست آفسر پر 5 سال سے زائد ڈیپوٹیشن کی تعیناتی پر بھی اعتراض لگادیا ہے۔ ڈی جی کمرشل آڈٹ سائوتھ کراچی نے موقف دینے سے گریز کیا۔
آبزرویشن میمورنڈم جی سی اے/او ایم-28/2024-25 میں ڈیپوٹیشن میں بے ضابطگیاں اور ایگزیکٹو انجینئر شعیب خان کا دوہرا کردار سامنے پر پاکستان اسٹیل ملز کے مالی سال 2024-25 کے آڈٹ کے دوران مشاہدہ ہوا کہ محمد شعیب (ایکسین) کو وزارتِ صنعت وار اسلام آباد میں مانیٹرنگ آفیسر کے طور پر 23 فروری 2018 سے 2 جنوری 2024 تک ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا گیا۔ 3 سال کی ابتدائی ڈیپوٹیشن مدت ختم ہونے کے باوجود اور وزارت کے ریپیٹری ایشن لیٹر 29 اپریل 2021 کے اجرا کے بعد بھی متعلقہ افسر نے پاکستام اسٹیل ملز میں جوائننگ نہیں دی بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 اپریل 2023 کو شعیب خان کی درخواست مسترد کر دی اور اپنے فیصلے میں قانون 20اے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا آفس میمورنڈم 11 اپریل 2000 کی دفعات کا حوالہ دیا، جس کے مطابق ڈیپوٹیشن کی معمول کی مدت 3 سال ہے۔ تین سال سے زائد توسیع بغیر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی پیشگی منظوری کے نہیں دی جا سکتی۔ کوئی افسر اس وقت تک دوبارہ ڈیپوٹیشن پر نہیں بھیجا جا سکتا جب تک وہ پچھلی ڈیپوٹیشن کے بعد اپنے اصل ڈیپارٹمنٹ میں کم از کم 3 سال کی سروس مکمل نہ کرے۔

نتیجتاً، وزارت صنعت و پیداوار نے شعیب خان کو 3 جنوری 2024 کو ان کے اصل ادارے (پاکستان اسٹیل ملز) واپس بھیج دیا، اور اس نے بجائے پاکستان اسٹیل ملز ہیڈ آفس کراچی کے اسٹیل ملز زونل آفس اسلام آباد میں جوائننگ دی۔ تاہم، اسی دن اس کی جوائننگ کو وزارت صنعت و پیداوار کے ساتھ ‘اٹیچمنٹ’ کی بنیاد پر یکم مارچ 2024 سے مزید فرائض کے طور پر لگا دیا گیا۔
اس کے بعد 19جنوری 2024 کو وزارت صنعت و پیداوار نے اسٹیل ملز انتظامیہ کو ہدایت دی کہ موجودہ افسر کی ڈیپوٹیشن کے لیے پالیسی میں نرمی برتتے ہوئے این او سی (نو اوبجیکشن سرٹیفیکیٹ) جاری کیا جائے، انتظامیہ نے قواعد کی خلاف ورزی کے باوجود نیا این او سی جاری کر دیا، اور شعیب خان کو 24 اکتوبر 2024 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے مزید 3 سال کے لیے وزارت صنعت و پیداوار میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کر دیا گیا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ شعیب خان اس وقت انچارج زونل آفس اسلام آباد کے طور پر بھی کام کر رہا ہے اور ساتھ ہی وزارت صنعت و پیداوار میں مانیٹرنگ آفیسر کے طور پر بھی کام کررہا ہے۔
آبزرویشن میمورنڈم کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے نیا نو اوبجیکشن سرٹیفیکیٹ (این او سی) جاری کرنا اور محمد شعیب کو مزید 3 سال کے لیے وزارت صنعت و پیداوار میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنا واضح طور پر مذکورہ بالا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔
مزید یہ کہ جس دن شعیب خان نے پاکستان اسٹیل زونل آفس اسلام آباد میں جوائننگ کی، اسی دن اس کی خدمات وزارت صنعت و پیداوار کو ‘اٹیچ’ کرنا بظاہر قواعد سے بچنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے، ساتھ ہی شعیب خان کا دوہرا کردار (یعنی انچارج زونل آفس اسلام آباد اور مانیٹرنگ آفیسر وزارت صنعت و پیداوار) زاتی مفادات کا ٹکراؤ ہے اور دونوں عہدوں کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔

آبزرویشن میمورنڈم (او ایم) میں آڈیٹر نے اپنی سفارشات میں لکھا کہ محمد شعیب کی نئی ڈیپوٹیشن کے لیے جاری کردہ ‘نو اوبجیکشن سرٹیفیکیٹ کا جائزہ لے کر منسوخ کیا جائے اور اسے فوری طور پر (متعلقہ اداے کے ڈیپارٹمنٹ) واپس بھیجا جائے، قانون 20 اے (سول سرونٹس قواعد، 1973) اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن آفس میمورنڈم 11 اپریل 2000 پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، غیرقانونی ڈیپوٹیشن اور اٹیچمنٹ میں ملوث ذمہ دار افسران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے، شعیب کے دوہرے کردار (انچارج زونل آفس اسلام آباد اور مانیٹرنگ آفیسر وزارت صنعت و پیداوار) کا جائزہ لیا جائے، مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے اور دونوں ذمہ داریوں کی مؤثر انجام دہی کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
اسٹیل ملز اے اینڈ پی ڈیپارٹمنٹ نے گورنمنٹ کمرشل آڈٹ کے رواں سال 29 اگست کو جی سی اے/او ایم-28/2024-25 میں ڈیپوٹیشن میں بے ضابطگیاں اور ایگزیکٹو انجینئر کے دوہری کردار کے بارے میں آبزرویشن میمورنڈم (او ایم) کے جواب میں 22 ستمبر نمبر اے اینڈ پی/-25-36/ 2پی اینڈ سی میں لکھا کہ انجینئر محمد شعیب پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کا باقاعدہ ملازم ہے اور اس وقت ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ وزارت صنعت و پیداوار کی ہدایت پر اس کی خدمات وزارت کو مراسلہ نمبر 3(1)/2017۔ایڈمن-1 کے 9 فروری 2018 کے ذریعے مانیٹرنگ آفیسر (بی پی ایس-18) کے خالی عہدے پر ڈیپوٹیشن (عارضی تعیناتی) کی بنیاد پر ابتدائی طور پر 3 سال کے لیے فراہم کی گئیں۔ مزید یہ کہ مالی بوجھ کم کرنے کے لیے پاکستان اسٹیل ملز بورڈ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے اجلاس 8 فرور 2018 میں یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ مل کی پیداوار 2015 سے بند ہے، لہٰذا پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو مختلف وزارتوں یا اداروں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ ان کی خدمات مؤثر طریقے سے استعمال کی جائیں۔

ڈیپوٹیشن کی ابتدائی مدت مکمل ہونے پر وزارت صنعت و پیداوار نے 9 اپریل 2021 کو اس کی خدمات پاکستان اسٹیل ملز کو واپس کر دیں، چونکہ مل کی پیداوار تاحال بند تھی، شعیب نے اپنی (ایبزورپشن) کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ معزز عدالت نے ابتدائی طور پر اسٹے آرڈر جاری کیا، تاہم بعد ازاں 4 دسمبر 2023 کو درخواست خارج کر دی گئی، اس کے بعد شعیب خان کو 3 جنوری 2024 کو پاکستان اسٹیل ملز میں واپس بھیج دیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ وہ وزارت صنعت و پیداوار میں اٹیچمنٹ کی بنیاد پر اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں کیونکہ پاکستان اسٹیل ملز کی پیداوار غیر فعال تھی۔

احکامات کی تعمیل میں، اس نے پاکستان اسٹیل ملز زونل آفس اسلام آباد میں رپورٹ کی، جبکہ بیک وقت وہ وزارت صنعت و پیداوار میں اپنی ذمّہ داریاں بھی انجام دیتا رہا۔ اس دوران وہ زونل آفس اسلام آباد اور وزارت صنعت و پیداوار دونوں جگہوں کے امور دیکھ رہا ہے، بعد ازاں اس کی خدمات دوبارہ 3 سال کے لیے نئی ڈیپوٹیشن پر طلب کی گئی اور سیکریٹری صنعت و پیداوار کی منظوری سے 8 اکتوبر 2024 کو اس کی خدمات باضابطہ طور پر وزارت صنعت و پیداوار کے سپرد کر دی گئی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اپنی مانیٹرنگ آفیسر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ شعیب خان پاکستان اسٹیل ملز زونل آفس اسلام آباد کے امور بھی بغیر کسی اضافی معاوضے یا تنخواہ کے انجام دے رہا ہے، وہ پاکستان اسٹیل ملز کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالتوں میں مقدمات، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں، وزارت صنعت و پیداوار اور دیگر وزارتوں کے اجلاسوں نیز ڈیپارٹمنٹل آکائونٹس کمیٹی (ڈی اے سی) اور پبلک آکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاسوں میں شرکت کر رہا ہے۔
پہلے یہ اجلاس پاکستان اسٹیل ملز کے افسران کرتے تھے جس سے سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوتا تھا۔ تقابلی اخراجات میں مالی سال اور سفری اخراجات 2022-23 میں 33 لاکھ 70 ہزار 7 سو 13 روپے اور 2023-24 میں 33 لاکھ 16 ہزار 8 سو 10 روپے جبکہ 2024-25 میں 5 لاکھ 22 7 سو 71 روپے ہوئے ہیں۔
جس سے واضح ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کو شعیب کی خدمات سے خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوا ہے اور ادارے کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا بلکہ نمایاں بچت ہوئی ہے۔ لہٰذا، درخواست ہے کہ آڈٹ آبزرویشن ( ای ایم) کو واپس لیا جائے۔ اگر منظور کیا جائے تو اسے انچارج (جی سی اے – لائژن) کو ارسال کیا جائے۔
وزارت صنعت و پیداوار کے زرائع کے مطابق ڈی جی کمرشل آڈٹ سائوتھ کراچی کامران ہاشمی اور اے اینڈ پی کی ملی بھگت سے مالی سال 2024-25 کے آڈٹ پیرا میں رُول کی وائلیشن کرنے والے وزارت صنعت و پیداوار میں انجینئر شعیب خان کی غیر قانونی ڈیپوٹیشن پر بنا ہوا ”آبزرویشن میمورنڈم-28′ کا آڈٹ پیرا ڈراپ کیا گیا ہے۔ انجینئر شعیب خان نے وزارت میں موجود ایڈیشنل سیکریٹری اسد اسلام ماہنی کے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف بنائے گئے آڈٹ اعتراض کو آڈٹ اتھارٹی کی ملی بھگت سے رپورٹ سے خارج کروایا حالانکہ آڈٹ کا اعتراض بالکل درست تھا۔ اس غیر قانونی عمل سے صرف پسندیدہ افراد کو نوازنے کے لیے قومی خزانے کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آڈیٹر نے او ایم میں ان افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے جنہوں نے شعیب خان کی ڈپیوٹیشن کے لیے این او سی (نو اوبجیکشن سرٹیفیکیٹ) جاری کیا اور اس عمل کو قواعد و ضوابط اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ممکن بنایا۔ اس سہولت کاری پر گورنمنٹ کمرشل آڈٹ اور اے اینڈ پی ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کو عنقریب قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ اسٹیل ملز اے اینڈ پی ڈیپارٹمنٹ کے انچارج نے آبزرویشن میمورنڈم کے جواب میں اے اینڈ پی ڈیپارٹمنٹ نے 8 فروری 2018 کے جس بورڈ آف ڈائریکٹرز اجلاس کے فیصلے کا حوالہ دیا یہ ریزولوش ریٹرنچڈمنٹ سے پہلے کی ہے، 2020 میں ریٹرنچڈمنٹ شروع ہوئی اس کے بعد اس فیصلے کی کوئی وقعت نہیں رہی اور ایسے بورڈ ریزولوشن کا کوئی اثر نہیں ہوتا جب ادارے میں ریٹرنچڈمنٹ ہو۔ اس کے بعد 2020 میں دوبارہ بورڈ میں ریزولوشن پاس ہوئی کہ ‘جو ملازم ڈیپوٹیشن پر ہیں ان کو واپس اسٹیل ملز بلاکر ریٹرنچ کیا جائے۔ اے اینڈ پی ڈیپارٹمنٹ نے مذید اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے بجائے گمراہ کُن طور پر ‘وزارت صنعت و پیداوار میں اٹیچمنٹ کی بنیاد پر فرائض سرانجام دینے کی ہدایت’ لکھ رہے ہیں جو توہین عدالت اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ اسٹیل ملز کے باقی انجنیئرز جو شعیب خان سے کہیں زیادہ قابل اور محنتی تھے ان کو کیوں دوسری منسٹریز میں نہیں بھیجا گیا۔ شعیب خان صرف پی ٹی آئی سے تعلقات اور سفارش کی کارستانیاں ہیں جنھیں یہ چھپا رہے ہیں۔ اگر وزارت صنعت و پیداوار کو اسٹیل ملز سے کسی قابل انجنیئر کی ضرورت تھی تو خط لکھتی کہ ہمیں انجنئیر چاہیئے، اسٹیل ملز 5 نام دیتی منسٹری ان میں سے سب سے قابل کو ٹیسٹ و انٹرویو کے بعد سلیکٹ کر لیتی۔ آخر شعیب خان ہی کو کیوں نام سے مانگا گیا؟ یہ صرف سفارش کی کارستانی ہے جو خود کو ریٹرنچڈمنٹ سے بچانے کی کوشش ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسٹیل ملز کے کاظم لاشاری بھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر گئے تھے جنہیں 3 سال بعد واپس اسٹیل ملز بھیج دیا تھا اور اسٹیل ملز کے ہی دوسرے ملازم سہیل خان بھی این او سی لے کر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں ڈیپوٹیشن پر گئے تھے، اپزا نے جوائیننگ لینے سے انکار کر دیا اور واپس اسٹیل ملز بھیج دیا تھا۔
دی پاکستان اردو نے آڈٹ رپورٹ سے آبزرویشن میمورنڈم کا پیرا شائع نہ کرنے پر ڈی جی کمرشل آڈٹ سائوتھ کامران ہاشمی سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا اور سوالات بھیجے جس پر انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہوں اور جواب نہیں دیا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی شعیب خان کی پٹیشن پر ایبزورپشن ان فیڈرل گورنمنٹ مسترد کردی تھی۔

































