تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سندھ نے لوکل گورنمنٹ بل کا مسودہ سندھ اسمبلی میں جمع کروادیا

0
37

کراچی: سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کےعوام کو سہولیات نہ ملنے کی وجہ بلدیاتی آرڈیننس 2013 ہے۔ اس وقت مضبوط بلدیاتی نظام صوبے کی ضرورت ہے۔ موجودہ قوانین نے بلدیاتی اداروں کو بے اختیار اور ناکارہ بنادیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اراکین صوبائی اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ بل کامسودہ تیارکیا ہے۔

تحریک انصاف کی جانب سے تیار کردہ لوکل گورنمنٹ بل کا مسودہ کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں ہروارڈ کی سطح پرایک مرد ایک عورت الگ الگ الیکشن لڑیں۔ خواتین کو مین اسٹریم سیاست میں لانے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ ضلعی نظام کو شہری کیا جائے اور دیہاتی حکومتوں کوختم کردیا ہے۔ تعلقہ کاؤنسل دیہی اور لوکل ایریا کاؤنسل شہروں کے لئے ہوگی۔ ساڑہے سات سے دس ہزارآبادی پر وارڈ کاؤنسل بنائی جائے۔ شہری علاقے میں میئربراہ راست منتخب کیا جائے۔ کونسلرز کے ذریعے انتخاب میں لین دین ہوتی ہے۔ ایریا کاؤنسل میں ناظم یا جو بھی بڑامنتخب ہو وہ بھی براہ راست منتخب ہو۔ دیہاتی عاقوں کے فنڈز صوبائی وزارت دیتی ہے۔ ایک تعلقے سے دوسرے کے اتنے وسائل نہیں کہ الگ گاربیج اسٹوریج پراجیکٹ بناسکیں۔ دوتعلقہ کاؤنسلز مل کر بھی منصوبے بناسکتے ہیں۔ تمام ترقیاتی اسکیمزکو لوکل ایریا سے تعلقہ کاؤنسل جائیں گی۔ سپرویژن مقامی لوگ کریں گے۔ لوکل ایریا کونسلرتعلقہ کونسل کے ممبرہونگے۔ دوتہائی اکثریت سے تعلقہ چیئرمین منتخب ہوگا۔ شہری علاقے کی تمام ترتعلیمی ادارے اور بلڈنگ کنٹرول صفائی ستھرائی اوردیگرسہولیات کا اختیار میئر کو دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک بس کے روٹ کا اختیار بھی میئرکے پاس ہوگا۔ کونسلرز لوکل ایریا کونسل کے نمائیندے بنیں گے۔ میئر کا بینہ بناسکے گا۔ کابینہ میں دوتہائی اکثریت فیصلے کرے گی۔ حکومتی نمائیندگی بھی کابینہ میں ہوگی۔ چھوٹے گاؤں میں پنچائت کا نظام رائج ہو۔ پنچائت میں دوخواتین کی نمائیندگی لازمی ہوگی۔ دیہی علاقوں میں عورتوں کو عورتیں ووٹ کریں گی۔ پہلے دس سال اس نظام کو فالو کیا جائے۔ اسکول میئر بنائے گا اور اسے لوکل کونسل چلائے گی۔ اسپتال صوبائی حکومت بنائے گی۔ بڑی اسپتالوں کو صوبائی حکومت چلائے گی۔ پرائمری اورسیکنڈری اسکولز لوکل کونسل چلائے گی۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے نمائیندے بھی میونسپل میں آئیں گے۔ میئرکے قوانین کنٹونمنٹ علاقوں میں بھی لاگوہونگے۔ شہرکی ڈیولپمنٹ میئر کی ذمہ داری ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جرمانوں کا نظام لوکل کونسل کے اختیارمیں ہوگا۔ وہ جوچاہیں سزائیں دے سکتے ہیں۔ میئربینکوں سے قرضے بھی لے سکتا ہے۔ ہم میئر کو با اختیاربنانا چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں میئراپنے قرضے بھی خود اتارے۔ موٹروہیکل اورسروسز ٹیکس میں لوکل کونسلز سے شیئرنگ کا فارمولا ہوگا۔ زرعی ٹیکس کی وصولی جمع صوبائی حکومت کریگی تقسیم محکمہ بلدیات کریگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا ایک بل بھی آج تک پاس نہیں کیا گیا۔ ہمارے قوانین مسترد کئے جاتے ہیں۔ اگرحکومت نے اس بل کو منظور نہ کیا توعدالت جائیں گے۔ یہ بلدیاتی نظام کے پی اور دیگرصوبوں کے بلدیاتی قوانین کودیکھ کربنایا گیا ہے۔ میئرہو یا کوئی اور ہو اگر کرپشن کرتا ہے تواس کو کڑی سزاملنی چاہئے۔ میں احتساب میں پلے بارگیننگ کا حامی نہیں۔ ہم سپریم کورٹ کی پٹیشن میں پارٹی بنیں گے۔ یہ قانون وزیراعظم کوبھی پیش کیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں