سعودی حکومت کا فیصلہ 15 جون تک متوقع ہے، وزیر مذہبی امور

0
26

اسلام آباد: حج ادائیگی کیلئے مختلف امکانات پر تفصیلی غورکر رہے ہیں اور سعودی حکومت کا فیصلہ 15 جون تک متوقع ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے حج مشاورتی اجلاس کی صدارت کے دوران کہی۔ مشاورتی اجلاس میں سیکرٹری مذہبی امور سمیت وزارت کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈی جی حج جدہ ابرار مرزا، ڈائریکٹر مکہ ساجد منظور اسدی اور ڈائریکٹر مدینہ منورہ طارق رحمانی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں حج 2020 کی ادائیگی کے حوالے سے تمام ممکنہ انتظامات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ انہوں نے اجلاس میں بتایا کہ اس سال ہونے والا حج روائیتی حج نہیں ہوگا بلکہ کورونا وبا کی تناظر میں حجاج کرام کیلئے سعودی عرب اور پاکستان میں کئی حفاظتی اقدامات کرنا ہونگے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نے ڈی جی حج جدہ کو ممکنہ تخمینہ لگانے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا اگر سعودی عرب اپنے فیصلے میں حجاج کرام کی تعداد اور سفر حج کے دورانیہ میں کمی کرتا ہے تو اس سے حج پیکیج پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔ اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت نے سعودی حکام کو کیا حفاظتی اقدامات  تجویز کئے ہیں۔ اجلاس میں عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق صرف 20 سے 50 سال کے عازمینِ کرام کو سعودی عرب بھیجنے پر بھی مشاورت کی گئی ۔ سیکرٹری مذہبی امور سردار اعجاز احمد خان نے اجلاس میں کہا کہ وزارتِ مذہبی امور حج انتظامات کے حوالے سے ہر قسم کے ہنگامی حالات کیلئے تیار ہے۔ ہم اپنے حجاج کرام کے محفوظ حج کی ادائیگی کیلئے دن رات کام کرینگے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ بھی سعودی حکام اور دیگر مسلم ممالک سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ سعودی عرب حجاج کرام کی سہولت اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین فیصلہ کرے گا۔ وزارت اور دفتر امورحجاج پاکستان کسی بھی ممکنہ فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تمام تر تیاری جاری رکھیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سعودی حکومت حج کا کرنے یا حج موقوف ہونے کا فیصلہ 15 جون تک متوقع ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں