اخلاقی تعلیم کی بہترین مثال

0
171

یہ تصویر باگڑیاں کے ہائی سیکنڈری اسکول کے باہر کی ہے۔ ایک طرف سے لڑکیاں آ رہی ہیں جب کہ دوسری طرف لڑکے جا رہے ہیں۔

رپورٹر نے یہ فوٹو بنائی اور آگے چل دیا۔ جب دفتر جا کر اس نے فوٹو غور سے دیکھی تو اس نے دیکھا کہ کوئی بھی لڑکا کسی لڑکی کی طرف نہیں دیکھ رہا بلکہ سب کے رخ دوسری طرف ہیں اور لائن میں کھڑے ہیں۔

وہ اگلے دن واپس آیا اور لڑکوں سے پوچھنے لگ گیا کہ اس کی کیا وجہ ہے۔ اتنا ڈسپلن اور اتنی عزت یہ سب کیسے؟
تو لڑکوں نے جواب دیا کہ سر ہمارے اسکول میں روزانہ پہلا ایک گھنٹے کا پیریڈ اخلاقیات پر ہوتا ہے۔ جس میں ہمیں اسلام کی روشنی میں معاشرے میں رہن سہن، لوگوں سے برتاؤ، لین دین غرض ایک ایک چیز پر تفصیلی لیکچر دیا جاتا ہے۔

 پھر انگلش، میتھ، فزکس اور بعد میں کیمسٹری پڑھائی جاتی ہے۔ پہلے اخلاقیات سکھائی جاتی ہیں۔ یہ سب اسی کا نتیجہ ہے کہ بغیر کسی ٹیچر کے ڈنڈے کے ڈر اور خوف کے ہم خود ہی اس ڈسپلن کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب صرف یہاں تک نہیں ہے بلکہ الحمدللہ کھیل کے میدان میں ہوں یا گھر یا کسی دفتر میں غرض زندگی کے ہر پہلو میں ہم اسلامی نقطہ نظر سے اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

ثابت ہوا کہ فزکس کیمسٹری کے ساتھ ساتھ اخلاقیات بہت اہم چیز ہے جس کے لیے ہر اسکول میں خصوصی لیکچرار ہونے چاہیے۔ جو بچپن سے بچوں کی ایسی بہترین زہن سازی کر دیں کہ وہ کل کو معاشرے کے لیے بہتری کا سبب بنیں۔

تاکہ اسکول سے نکل کر جب کوئی لڑکا ڈاکٹر، وکیل، جج، جرنیل، پولیس یا سیاستدان بنے کمشنر بنے تو اس میں اخلاقیات کوٹ کوٹ کر بھری ہوں اور جب اس کے ہاں کوئی فریادی جائے تو وہ اسے جانوروں کی طرح ٹریٹ کرنے کے بجائے انسانوں کی طرح ٹریٹ کرے۔

کسی پولیس ایس ایچ او یا کسی بھی آفیسر کی میتھ فزکس یا کیمسٹری کمزور ہے تو اس سے معاشرے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اگر اس کی اخلاقیات کمزور ہیں اور وہ درندہ صفت ہے خود ہی چرسی شرابی ہے، حرام خور ہے تو وہ معاشرے میں سدھار کیسے لا سکتا ہے۔

بلکہ وہ معاشرے کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ یہاں اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ جو جتنا بڑا آفیسر ہے اور اتنا بڑا چور ہے۔

ریاست مدینہ کوئی بازار سے ملنے والی چیز نہیں جو کوئی خرید کر قوم میں تقسیم کرے گا بلکہ ہمیں اپنے مردہ ضمیر کو جگاکر دل میں خوفِ خدا پیدا کرنا ہو گا، اچھے برے اور حرام حلال میں تمیز کرنا ہوگی۔

 یقین مانئیے خود ہی ریاست مدینہ نافذ ہوجائیگی،
انشاءاللہ۔
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں