لوٹوں کی مطلوبہ تعداد نہ ملنے پر آزاد کشمیر میں الیکشن ملتوی کرنے کی تیاری

0
46

آزاد کشمیر: (اُصامہ صغیر) مطلوبہ تعداد میں” لوٹے” نہ ملنے کے باعث الیکشن ملتوی کرنے کی تیاری کرلی گئی۔

تحریک انصاف تنویر الیاس گروپ نے کل  5 الیکٹیبلز کے ساتھ بنی گالہ کی یاترا کی اور ان کو دو گھنٹے کے نوٹس پر ٹکٹ دلوا کر آزاد کشمیر کے 90 فیصد حلقوں میں ٹکٹ کی تقسیم مکمل کرلی ہے۔

حلقہ وسطی باغ کی بات کریں تو تنویر الیاس (جو کہ ٹکٹس کی تقسیم میں پارٹی کے اندر گہرا اثرورسوخ رکھتے ہیں) نے اپنے لیے خود اس سرزمین کا انتخاب کیا ہے۔ ہر ذی شعور سیاسی کارکن اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ تنویر الیاس کی وسطی باغ سے الیکشن لڑنے کی خواہش کی وجہ یہ نہیں ہے کہ گراؤنڈ میں انکو کوئی کمیٹڈ ٹیم موجود ہے، یا وسطی باغ کیلئے ان کی کوئی سابقہ خدمات ہیں۔ وہ اس زعم میں ہیں کہ سرمایہ دار ہونے کے ناطے چند کروڑ حلقے میں لگا کر  باآسانی اقتدارِ کی سیڑھیاں چڑھ لیں گے۔ صرف سرمائے کی بنیاد پر شاید یہ ان کے لیے اتنا آسان نہ ہو۔

تحریک انصاف کے اپنے کارکنان اور لیڈرز اس صورتحال سے ناخوش ہیں، بالخصوص وہ لوگ جو گزشتہ پانچ سال فیلڈ میں موجود بھی رہے لیکن مرکزی قیادت نے انہیں یکسر نظر انداز کر دیا۔ اب اگر یہ لوگ علم بغاوت بلند کرکے سفید جھنڈا تھام لیں گے تو یقیناً یہ کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہوگا، ماضی کے دو الیکشن اس بات کا ثبوت ہیں۔

تمام پارٹیز کے ٹکٹس کی تقسیم کے بعد تنویر الیاس کے خلاف میدان میں عبد الرشید ترابی، راجہ یسین اور مشتاق منہاس موجود ہیں، (قمر کے بیلٹ پیپر میں تنویر الیاس کا نام ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ضیاء القمر ان کی مخالفت کے بجائے ان کو ‘فیسیلیٹیٹ’ کرنے کیلئے میدان میں موجود رہیں گے)۔ اس گھمبیر صورتحال میں وسطی باغ کے لوگوں اور اکابرین کا امتحان ہے کہ بجائے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے کسی ایک غیر متنازعہ نام پر ‘کونسیز’ کر کے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص صرف پیسے کے زعم میں ادھر کا رخ نہ کرے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں