بلوچستان حکومت کے پارلیمانی وفد کا گوادر کا دورہ

0
86

گوادر: گوادر میں باڑ لگانے کے معاملات پر صوبائی حکومت کی جانب سے بنائی گئی پارلیمانی وفد کا گوادر کا دورہ،

پارلیمانی وفد کی سربرائی صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو کررہے تھے۔ وفد میں مشیر برائے فشریز اکبر آسکانی، ایم پی اے ماہ جبین شیران اور اقلیتی ایم پی اے دنیش کمار شامل تھے۔
دورے کے دوران وفد نے باڑ کے مقامات کا دورہ کرکے جائزہ لیا۔

پارلیمانی وفد نے آر سی ڈی کونسل میں عوامی شنوائی کی۔

شرکاء نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ، گوادر کے بنیادی مسائل اور تحفظات و خدشات پیش کیں۔

عوامی شنوائی کے بعد صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو اور دیگر پارلیمانی وفد کے اراکین نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر میں جاری فنسنگ کے عمل کو عوامی امنگوں کے مطابق فوراً روکنے کا حکم دیا ہے۔ گوادر میں فنسنگ باڈ لگانے کے خلاف عوام سراپا احتجاج رہے۔گوادر کے عوام کے مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں ہوگا گوادر کے عوام ہمارے اپنے ہیں اسی طرح سیکورٹی ادارے بھی ہمارے ہیں۔

ہم سب نے ملکر گوادر کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اور ترقی کو آگے بڑانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے پر جس طرح جام حکومت نے ایکشن لیا تھا اسی طرح باڈ لگانے کے عمل پر بھی ایکشن لے کر فوراً کام بند کروانے کا حکم صادر فرمایا۔

ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر باڑ لگانے کا کام شروع کیا گیا تاکہ گوادر کے جاری میگا پروجیکٹ کی تکمیل ہو سکیں گوادر باڈر ایریا ہے دھشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر واقعات کو روکنے کے لیئے باڑ لگا رہے ہیں ـ

ملکی اور گوادر کے مفادات کو مدِ نظر رکھ کر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ـ سکیورٹی فورسز نے سکیورٹی پوائنٹ کو مدنظر رکھ کر یہ اہم فیصلہ کروایا۔
عوام کی باتیں سنی ہیں ان کی باتوں میں وزن ہیں۔ باڑ ماسٹر پلان کا حصہ ہے ہمارے پاس ان کی ڈاکومنٹ موجود ہیں ماسٹر پلان پہلے سے موجود تھا۔

بلوچستان بھر میں تیل کی کاروبار کی بندش پر ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ بلوچستان نے کہا کہ ریاست کا کام ہے کہ اپنے عوام کو روزگار سمیت بنیادی سہولیات فراہم کریں ڈیزل کے کام کو روکنے کا اعلان ہوا ہے تو اس کا ضرور کوئی متبادل ذریعہِ روزگار ہوگاـ

لیویز فورس کو پولیس میں ضم کروانے پر سوال کے جواب پر کہا ہے کہ لیوز فورس کو پولیس فورس میں ضم کروانے کے لیئے تین ضلعوں میں ٹسٹنگ کے طورپر عمل کیا جارہا ہے ـ
عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں باقی ضلعوں میں فیصلہ کیا جائیگا کہ لیویز فورس کی حیثیت کو برقرار رکھا جائے یا پولیس میں ضم کیا جائے ـ

ٹرالرنگ کے حوالے سےایک سوال کے جواب پر مشیر فشریز حاجی اکبر آسکانی نے کہا ہے کہ،
محکمہ فشریز ٹرالرز مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں ـ ٹرالرنگ کے خلاف محکمہ فشریز کی گشتی ٹیم دن رات کھلے سمندر میں گشت کررہی ہیں کبھی کبھار ایک آدھا واقع پیش آتا ہے ـ 

دورانِ گشت محکمہ فشریز کے گشتی ٹیم کے ایک افیسر کو ٹرالر مافیاؤں نے زخمی کر دیا تھا۔ 12 نائٹیکل میل سے باہر ہماری حدود ختم ہوجاتی ہیں جہاں ہماری اختیارات سے باہر ہیں ـ

میں نے لوکل افسران کو محکمہ فشریز میں تعینات کردیا ہے تاکہ وہ ماہیگیروں کے مسائل کو بخوبی سمجھیں اور ان کے مسائل حل کردیں ـ کرپشن کے الزام میں چودہ افسران کو معطل کردیا ہے ہمارے اختیارات میں جو بھی ہیں ہم وہ کررہے ہیں۔

گوادر کے عوام کو ہم اپنا بھائی سمجھتے ہیں ٹرالرنگ کی روک تھام کے لیئے جامع منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ سیاسی مخالفین اس مسئلے کو سیاسی ایشو بنا کر اچھالنا چاہتے ہیں۔

ماہی گیروں کے لیے گرین بوٹ اسکیم متعارف کروایا جسے رواں ماہ کی 25 تاریخ کو ضلع گوادر سمیت دیگر ساحلی علاقوں کے ماہیگیروں کے لیئے تقسیم کرنے والے تھے لیکن چند افسران کے کرپشن کے باعث ہمیں روکنا پڑا بہت جلد غریب ماہیگیروں کو گرین بوٹ اسکیم کی خوش خبری سنائیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں