جرنلسٹس پروٹیکشن بل کی سندھ اسمبلی سے دوبارہ منظوری پر کے یو جے کا اظہار اطمینان

0
35

کراچی: کراچی یونین آف جرنلسٹس نے صحافیوں کے تحفظ کے قانون کی سندھ اسمبلی سے ایک بار پھر منظوری پر سندھ اسمبلی کے تمام اراکین بالخصوص صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ اور مشیر قانون مرتضی وہاب کا شکریہ ادا کیا ہے۔

 کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر سندھ کی جانب سے بل پر اعتراضات سے کراچی سمیت سندھ کی صحافی برادری میں مایوسی پیدا ہوئی تھی تاہم سندھ حکومت نے جس طرح اس معاملے کی اہمیت کے مدنظر بجٹ اجلاس کے فورا بعد اگلے ہی اجلاس میں پہلے ہی دن اور پہلے ہی سیشن میں بل دوبارہ پیش کرکے اس کی اسمبلی سے منظوری لی ہے۔ یہ قابل تحسین اقدام ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت صحافیوں سمیت میڈیا ورکرز کے تحفظ کے حوالے سے ناصرف سنجیدہ ہے بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔

 کے یو جے کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے بل کی منظوری پر صوبائی وزیراطلاعات ناصر حسین شاہ سے فون پر بات کی اور کراچی سمیت سندھ کی صحافی برادری کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کی۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ گورنر سندھ کی جانب سے بل پر جو اعتراضات کیے گئے تھے انہیں دور کردیا گیا ہے اور بل دوبارہ منظوری کے لیے گورنر سندھ کو بھیجا جائے اور اگر 15 دن میں گورنر سندھ اسے منظور نہیں کرتے تو یہ ازخود قانون بن جائے گا۔

 کے یو جے نے امید ظاہر کی ہے کہ گورنر سندھ بل کی سندھ اسمبلی سے دوبارہ منظوری کے بعد اس کے قانون بننے کی راہ میں اب کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے۔ کے یو جے نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ جولائی کے مہینے میں ہی بل کے تحت جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن کے قیام کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

 کراچی یونین آف جرنلسٹس نے وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کی طرز پر قومی اسمبلی سے جرنلسٹس پروٹیکشن بل منظور کرائے تاکہ وفاق کی سطح پر صحافیوں کے تحفظ سے متعلق کوئی قانون بن سکے۔

 بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے قومی اسمبلی میں بیان پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ صحافیوں پر حملوں کے سب سے زیادہ ملزمان ان کے دور حکومت میں گرفتار ہوئے ہیں۔

کے یو جے نے وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان تمام کیسز کی تفصیلات بھی جاری کریں کہ کن صحافیوں پر حملوں میں ملوث کون کون سے ملزمان گرفتار ہوئے کیونکہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد ہونے والے چیدہ چیدہ واقعات جس میں مطیع اللہ جان اور کراچی سے علی عمران کا اغوا، اور ابصار عالم اور اسد طور پر حملوں کے ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری، شہباز گل کے بیان کی بھی وضاحت کریں جس میں انہوں نے کرنٹ افیئرز کے پروگرامز کے موضوعات اور مہمان مستقبل میں حکومت کی جانب سے طے کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں