صحافی اسد طور پر حملے میں قومی ادارے کا نام لیے جانے کی تحقیقات ہونی چاہئیں، کے یو جے

0
101

کراچی: کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اسلام آباد میں صحافی اور بلاگر اسد طور پر حملے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں ایک قومی ادارے کا نام لیا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے متعلق مکمل تحقیقات ہوں تاکہ اصل کردار سامنے آسکیں۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت اسد طور پر حملے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا جس میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، ڈیموکریٹک یوتھ فرنٹ، پائلر اور دیگر سماجی اور سیاسی تنظیموں کے رہنماوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر مظاہرین اپنے ہاتھوں میں مختلف بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے مظاہرین نے اس موقع پر زبردست نعرے بازی بھی کی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ایک طرف وفاقی حکومت صحافیوں کے تحفظ کے قوانین بنانے کی بات کررہی ہے اور دوسری طرف اسلام آباد جیسے شہر میں ایک صحافی کو گھر میں گھس کر مارا پیٹا جارہا ہے ہمیں یہ پیغام دینے کی کوشش جارہی ہے کہ ایسے قوانین بھی ان طاقتوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

 مقررین نے کہا کہ یہ وہ طاقتیں ہیں جو خود کو قانون اور پارلیمنٹ سے بالاتر سمجھتی ہیں اس واقعے میں واضح طور پر ایک قومی ادارے کا نام آیا ہے۔ لہذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف اس کا نوٹس لیں اور اس کی تحقیقات کرائی جائیں اگر کچھ طاقتیں قومی ادارے کا نام استعمال کرتے ہوئے صحافیوں اور قومی ادارے کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتی ہیں تو انہیں بھی سامنے آنا چاہیے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ اسد طور پر حملہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے ملک بھر کے صحافی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی اس پر خاموش نہیں رہے گی اگر اصل کرداروں کو سامنے نہیں لایا گیا تو ہم مجبور ہوں گے کہ اپنے احتجاج کے دائرہ کار کو مزید وسیع کریں۔

مظاہرے سے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے قائمقام صدر اعجاز شیخ، جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی، پائلر کے رہنما سید کرامت علی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ناصر منصور، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے محمد خضر، ڈیموکریٹک یوتھ فرنٹ کی نغمہ خان، شیر خان کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سابق جنرل سیکریٹری احمد خان ملک اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں