کلبھوشن کیس بھارت آخر چاہتا کیا ہے

0
111

آرٹیکل: حنید لاکھانی
رہنما تحریک انصاف وسربراہ بیت المال سندھ ۔

حسین مبارک پٹیل کے فرضی نام سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے کلبھوشن یادیو نے کچھ دیر کے لیے تو سوچا ہوگا کہ جب انڈین سفارتکاورں نے مجھ سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو مجھ سے ملنے کی رسائی کی مانگی گئی تھی۔ کیونکہ کلبھوشن کے معاملے میں انڈیا سے جو بات طے ہوئی تھی ان کی منشا کے مطابق ہی انڈین سفارتکاروں کی تمام خواہشات کو پورا کیا گیا اور کلبھوشن تک رسائی دی گئی مگر پھربھی انڈین سفارتکارکلبھوشن سے ملے بغیرچلے گئے یقینی طور پر انڈین سفارتکاروں کا رویہ حیران کن تھا جسے پاکستان سمیت خود بھارت کی عوام میں بھی محسوس کیاہوگا۔ کلبھوشن چیختا رہا اپنے ہمدردوں کو پکارتا رہا مگر انہوں نے کلبھوشن کی ایک نہ سنی، اس سے قبل گزشتہ برس ستمبر میں بھی انڈین سفارتکاروں نے کلبھوشن سے ملاقات کی تھی جبکہ 2017 میں تو بھارتی دہشت گرد کلبھوشن سے اس کے بیوی بچے اور دیگر اہلخانہ بھی ملاقات کرچکے ہیں۔

پاکستان میں بھارتی دہشت گردوں اور جاسوسوں کا پکڑے جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کلبھوشن سے قبل بھی سربجیت سنگھ نامی ایک بھارتی جاسوس کو اگست 1990 میں پاکستان کے خفیہ اداروں نے گرفتار کیا تھا۔ جس پر انڈیا نے ایک مضحقہ خیز موقف یہ دیا کہ ہمارا یک پنجابی کاشت کار جو کہ نشے میں دھت تھا اور اسی حالت میں غلطی سے سرحد پار کرگیا تھا جبکہ بھارتی جاسوس کشمور سنگھ 1973 میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوچکاہے۔ ایک اور بھارتی جاسوس رویندرا کوشک، رام راج،سرجیت سنگھ، بخش رام، وبود سانھی سمیت دیگر بھارتی ایجنٹ پاکستان میں تخریب کاری کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہ وہ سب دہشت گرد جاسوس لوگ تھے جن کے زریعے بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلاتا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کی براہ راست حوصلہ افزائی اور فنڈنگ کرتا ہے۔ تاکہ تحریک طالبان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسے انتہا پسندوں کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ پاکستان نے جب مارچ دوہزار سولہ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی خبراور ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں کلبھوشن یادیو اپنے اعترافی بیان میں یہ کہہ رہا ہے کہ وہ انڈین نیوی کے ایک حاضر آفسر ہیں اور بلوچستان میں ان کے آنے کے مقاصد بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھی جن کو انڈیا پاکستان کے خلاف امداد مہیا کرتا ہے۔

 پاکستان میں فوجی عدالت کی جانب سے اپریل 2017 میں کلبھوشن یادیو کوجاسوسی، تخریب کاری اور پاکستان میں دہشت گردی کرنے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جو انڈین حکام کو شاید پسند نہ آیا۔ جس پر انہوں نے مئی2017 میں کلبھوشن یادیو کی سزا معطلی کے لیے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا اور یہ اپیل کی کہ کلبھوشن کی سزاکو معطل کرکے اسے رہا کروایا جائے ۔ لیکن تمام ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے عالمی عدالت انصاف نے بھارت کی اس استدعا کو بری طرح سے نظر انداز کردیا تھا۔ تاہم یہ حکم ضرور جاری کیا کہ پاکستان اپنی مرضی کے مطابق مجرم کو قونصلر تک رسائی دے اور چاہے تو سزائے موت پر نظر ثانی کرے مگر یہ کیا کہ جب پاکستان بھارت کی تمام خواہشات کے مطابق کہ کوئی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں ہوگی اور درمیان میں کوئی شیشہ بھی نہیں ہوگا اس کے باجود انہوں نے خود کی اور اپنے جاسوس کی ہرزہ سرائی پوری دنیا میں کروائی ہے۔ وہ اب سب دیکھ چکے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان نے اس جزبہ خیر سگالی کے جزبے کو جاری کھتے ہوئے تیسری بار بھی بھارت کو قونصلررسائی کی پیشکش کرڈالی ہے۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی اس بھرپور پیشکش کا بھارتی حکام نے اس لیے فائدہ نہیں اٹھایا کہ کسی بھی طرح سے پاکستان کو اس انسان دوست قدم کا کریڈٹ نہ مل سکے لہذا یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ اسلام آباد میں انڈیشن ہائی کمیشن کے لوگوں نے کلبھوشن سے گفت وشنید نہیں کی اور اس کے چیخنے چلانے کے باوجود چلے گئے۔

انڈین ہائی کمیشن نے جو بلاوجہ کے اعتراض اٹھائے ہونگے وہ یقینی طورپر ان کی کج فہمی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنے لیے ایک اچھے موقع کو گنوادیا ہے۔ کیونکہ کلبھوشن کا چیخنا چلانا یہ بتارہا تھا کہ وہ انڈین ہائی کمیشن کے لوگوں سے پوچھ سکے اسے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے بچائو کے لیے اپیل کرنی چاہیے کہ نہیں۔ علاوہ ازیں وہ اپنی فیملی کو بھی کچھ پیغامات دینے کی خواہش رکھتاہوگا۔ یہاں اس بات کا تزکرہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی یہ پیشکش کہ کلبھوشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتا ہے۔ ایک بہت بڑی رعایت ہے جو عموماً اس قسم کے جاسوسوں، دہشت گرد اور ملک دشمنوں کو نہیں ملنی چاہیے اور وہ دشمن جو اپنی تمام سازشوں کو بغیر کسی دبائو کے قبول کرچکا ہوں لیکن پھر بھی پاکستان نے اپنے رویئے میں نرمی پیدا کی اور اپنی صفائی کا ایک اور موقع فراہم کیا۔ اب زرا ہم اس بات کی طرف آتے ہیں کہ بھارت ایسا کیوں کررہا ہے اور وہ چاہتا کیا ہے۔ یہ بات پوری دنیا ہی جان چکی ہے کہ بھارت کے سفاک اور بے رحم ملک ہے جس کی تاریخ میں انسانیت کے ساتھ رحم کرنے والی کوئی تاریخ موجود نہیں ہے۔ کیونکہ جو وہ اپنے ملک میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے ساتھ کررہا ہے اور جس طرح سے پوری دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ بھارت نہتے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ جو ظلم وستم کررہا ہے وہ اب کوئی ڈھکمی چھپی بات نہیں رہی ہے۔ لہذا اب اس بات کے ثبوت بھی واضح ہوچکے ہیں کہ بھارت پاکستان کا امن تباہ کرنے کے لیے فنڈنگ کرتا ہے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کرتا ہے انہیں تیار کرتا ہے تاکہ پاکستان کشمیر کے ایشوسے پیچھے ہٹ جائے۔ بھارت یہ بھی جان چکا ہے کہ جو ان کا جاسوس پاکستان میں پکڑا جاتاہے وہ کسی بھی لحاظ سے ان کے کسی کام کا نہیں رہتا ہے اور میر اتجربہ یہ ہے کہ اب جس طرح سے قونصلر رسائی کو ٹھکرا کر بھارتی ہائی کمیشن کلبھوشن سے ملے بغیر چلا گیا ہے اس سے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ جس میں پہلے نمبر پر یہ ہی نتیجہ اخز کیا جاسکتا ہے کہ بھارت اپنے جاسوس کلبھوشن کو رہا کروانے میں اب سنجید ہ دکھائی نہیں دیتا جس کی وجہ تمام ثبوتوں اور شواہد کا منظرعام پرآنا ہے۔ جس کا جواب خود بھارت کے پاس بھی موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ بھارت کلبھوشن کی پھانسی کو عالمی دنیا میں کیش کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہندوستان کے یہ سفارتکار اور ان کے دیگر حکام یہ چاہتے ہیں کہ کلبھوشن ہائی کورٹ میں اپیل نہ کرے اور اس کی موت اور سز کا معاملہ یونہی پھنسا رہے۔ سب سے بڑھ کر ہندوستان یہ بھی چاہے گا کہ کلبھوشن کی سزا پر عملدرآمد ہو تاکہ بھارت پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کرسکے کیونکہ یورپ کے اندر موت کی سزا کی بہت مخالفت ہے اور بھارت اسی یورپی جزبے کو پاکستان کے خلاف استعمال کریگا مگر یہ سب کرنے کی سوچ رکھنے والا بھارت یہ بھی اچھی طرح جان لے کہ صرف پورپین ممالک میں نہیں بلکہ پوری دنیا اس وقت بھارت کے اس جارحانہ رویے کو بھی دیکھ رہی ہے جو انہوں نے کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے مقبوضہ کشمیر میں جاری رکھا ہوا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں