پی ٹی آئی اور اس کے طرزِ سیاہ ست

0
86

تحریر: راشدالزّماں- کراچی

باپ پر پوت – پتا پر گھوڑا،
بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا !!۔

حالیہ الیکشن میں ہونے والے واقعات کے تناظر میں بس اتنا کہنا ہے کہ یہ فلم ہمارے لیے ریپیٹ ٹیلی کاسٹ یا کسی فلوپ چربہ سے زیادہ کچھ نہیں۔

ہم کراچی والے پی ٹی آئی اور اس کے طرزِ “سیاہ ست” سے بخوبی واقف ہیں کہ ِاس کا قدرے چھوٹا لیکن سفّاک تر ورژن 30 سال تک بھگت چکے ہیں۔

اگر کوئی کراچی والا یوتھیا بھی گیا تو اس میں یا تو وہ برگر شامل ہیں جو ایم کیو ایم کے پورے عرصے میں اپنے خول میں دنیا و مافیہا سے بے نیاز نو سے پانچ والی زندگی میں مصروف رہے، یا وہ خواتین جو عمران نیازی کی شخصیت میں اپنی نا آسودہ خواہشات کا جواب ڈھونڈ رہی تھیں یا وہ فارغ جنہیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا۔

باقی ہر وہ شخص جس نے ایم کیو ایم کو دیکھا یا جھیلا یا جس میں زرہ برابر بھی سیاسی شعور موجود رہا اُس کے لیے پی ٹی آئی ایک ِپٹی ہوئی فلم کے ری میک سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

حالیہ ضمنی انتخابات میں جو کچھ ہوا اس فلم کے سارے سین ہمیں پہلے سے ہی ازبر ہیں کہ اس کے پروڈیوسر و ڈائریکٹر وہی پرانے والے ہیں۔
 
اب بس دیکھنا یہ ہے کہ کب اس میں ایکشن اور فائٹنگ سین ڈالے جاتے ہیں۔

 قصبہ، علیگڑھ، پکا قلعہ، بشریٰ زیدی، 12 مئی 2004، 12 مئی 2007، سانحہ بلدیہ ٹاؤن، طاہر پلازہ، 92 تا 1998 حقیقی وارز،  وغیرہ کی طرح والے۔

جس “گینگز آف وسے پور” کو ہم دیکھ چکے، اس کی نمائش بقایا ملک میں عنقریب ہونے کو ہے!۔

خیر۔۔۔

ہم بھول گئے رے ہر بات،
مگر تیرا “وار” نہیں بھولے!!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں