ایشیا کپ سے ورلڈ کپ تک

0
201

تحریر: محمد شعیب یار خان

ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کا ایونٹ سے باہر ہونا ورلڈ نمبر ون ٹیم کی ناقص کارکردگی کا آئینہ ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں نیپال اور بنگلہ دیش کو ہرانا ہی شاید ہماری بڑی اور مضبوط حریفوں سے شکست کی وجہ بھی بنی۔ کمزور ٹیموں کےخلاف بھی جس طرح سے مشکل بنا کر بابر الیون نے یہ میچز جیتے وہ یہ سمجھانے کے لئے کافی تھا کہ مضبوط ٹیموں کے خلاف ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ نیپال جیسی کمزور ترین ٹیم کے خلاف بھی ستائسویں اوور تک میچ نیپال کے حق میں تھا ایک نومولود ٹیم کے خلاف ہمارے ابتدائی بیٹسمین روایتی انداز میں ریت کی دیوار ثابت ہوئے بھلا ہو مرد بحران بابراعظم کے ساتھ افتخار کا جن کی شاندار بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے پہاڑ جیسا اسکور کیا مگر اس میچ اور بنگلہ دیش کے خلاف بھی ابتدائی بلے بازی نے جس طرح سے وکٹیں گنوائیں اس سے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ انڈیا اور سری لنکا ہمارا کیا حال کرے گا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ایسی خراب کارکردگی کسی بھی طرح ون ڈے نمبر ون ٹیم کو زیب نہیں دیتی۔

پاکستان ٹیم کا بڑا مسئلہ ہمیشہ سے اس کے ابتدائی بلے باز رہے ہیں سعید انور اور عامر سہیل کے بعد سے کسی بھی اوپننگ پیئر نے مستقل مزاجی سے ٹیم کی جیت میں اپنا کردار ادا نہیں کیا کچھ عرصے کی لئے سلمان بٹ، عمران فرحت، یا اس طرح کی کچھ جوڑیاں ٹیم کو سہارا دیتی رہیں مگر مجموعی طور پر مستند اوپنرز اور عبدالرزاق کے بعد ایک شاندار آل راؤنڈر سے ہم یکسر محروم ہی رہے۔

اس وقت پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کا محور ہر فارمیٹ میں بابر اعظم ہی ہیں جو مستقل عمدہ پر فارم کرکے نمبر ون پوزیشن تک ٹیم کو لے آئے ان کے علاوہ رضوان اور امام الحق ہی ہیں جو گاہے بگا ہے رنز اسکور کرکے بابر کو سپورٹ کرتے ہیں ان کے علاوہ تمام بیٹسمینوں کی کارکردگی اوسط درجے کی بھی نہیں جبکہ کئی میچز میں باؤلرز جن میں حارث رؤف، نسیم شاہ اور شاہین آفریدی قابل ذکر ہیں انہوں نے بیٹسمینوں کی خراب کارکردگی پر پردہ ڈالے رکھا۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ آخر بابر اعظم کب تک اکیلے اتنا بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟ ایک تو بیٹنگ کی ذمہ داری پھر دوسرا کپتانی کا بوجھ وہ بھی ایک ایسی ٹیم کے ساتھ جو چل جائے تو بڑی سے بڑی ٹیم کو نچا دے اور نہ چلنے پر آئے تو آخر رینکنگ کی ٹیم سے بھی جیتنے کے لالے پڑ جائیں۔ یقیناً ذمہ داریوں کا بوجھ بابر کی بیٹنگ پر اثر انداز ہونے لگا ہے اب وہ اکثر ایسے وکٹ گنوانے لگیں ہیں جو یقیناً بابر جیسے ورلڈ کلاس بیٹسمین کو زیب نہیں دیتا۔ اب کچھ ہی دنوں میں ورلڈ کپ ہونے جارہا ہے پاکستانی باولنگ آٹیک بھی شاہین شاہ اور حارث رؤف پر انحصار کررہا ہے نسیم شاہ ان فٹ ہوچکے ہیں جو یقیناً ایسے وقت میں صدمے سے کم نہیں۔ ٹیم کے پاس حسنین، زمان، دہانی، وسیم جونئیر کی صورت میں فاسٹ باولنگ کا متبادل تو موجود ہے مگر شاداب خان اور نواز کی ون ڈے میں مسلسل سطحی کارکردگی بھی بیچ کے اوورز میں دوسری ٹیم کا اسکور بڑھانے کی وجہ بنتا جارہا ہے۔

ہم شروع اور میچ کے آخر میں وکٹیں لے لیتے ہیں مگر درمیان کے سیشن میں اسپنرز مسلسل خراب پر فارم کررہے ہیں جس کا نتیجہ یا تو میچ ہارنے کی شکل میں یا پھر اسکور بورڈ میں رنز کے انبار کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اب وقت تھوڑا ہی صحیح مگر اب بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ صائم ایوب، سعود شکیل، عبداللہ شفیق کو ورلڈ کپ میں ناکام بلے بازوں کی جگہ اور فاسٹ باولنگ میں حسنین، احسان اللہ اور زمان خان کے ساتھ اسامہ میر اور عماد وسیم کو اسپن باؤلر میں سے کسی کو ٹیم کا حصہ بنایا جائے تو شاید پاکستان اس ورلڈ کپ میں نمایاں کارکردگی دکھا جائے ورنہ تو اب اکیلے بابر اعظم کے بس کی بات نہیں کہ اتنے بڑے ایونٹ میں ٹیم کوئی بہتر پوزیشن پر آسکے، بابر اعظم نے جس طرح مشکل اوقات میں ٹیم کی بیٹنگ کو سہارا دیا وہ قابل ستائش اور بابر کی نمبر ون پلیئر ہونے کی دلیل ہے مگر وہ مستقل کپتانی اور مجموعی خراب کارکردگی سے ٹیم کی شکست اور ٹی وی پر بیٹھے مہان تجزیے کار جو کافی وقت کپتانی اور بیٹنگ میں بلا ضرورت صرف منفرد ہونے کے ساتھ ریٹنگ کے حصول کے لئے کیڑے نکال کر بابر اعظم کو اکیلے ذمہ دار ٹہرانے میں ایک منٹ نہیں لیتے تو یقیناً جلد ہی ان سب کا اثر بابر کی بیٹنگ پرفارمنس اور کپتانی کے فیصلوں پر آئے گا جس کا کوئی متحمل نہیں خاص کر ایسا بیٹسمین قسمت سے ہی ملتا ہے جو ہر فارمی میں رنز کے انبار لئے جو بڑا نقصان ہوگا ممکن ہے ایشیا کپ کی طرح ورلڈ کپ بھی ہاتھ سے نکل جائے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں