سینیٹر مشاہداللہ خان کی زندگی پر ایک نظر

0
77

کراچی: مشاہداللہ خان 1952ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور ابتدائی اور کالج تک تعلیم راولپنڈی میں ہی حاصل کی۔ ان کے والدین غیر منقسم ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تو راولپنڈی کو اپنا مستقل مستقر بنایا۔ ان کے مرحوم والدین دونوں ہی جماعت اسلامی پاکستان کے رکن تھے۔

مشاہداللہ خان خود بھی طالب علمی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ اور عملی سیاست کے دوران پی آئی اے کے مزدوروں کی نمائندہ تنظیم پیاسی سے وابستہ رہے۔ اپنی طالب علمی کے دوران ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت میں انہیں اور جاوید ہاشمی کو سردیوں میں برف کی سِلوں پر لٹا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس مردِ حر کے پائے استقلال میں کبھی جنبش نہیں آئی۔

مرحوم غلام اسحاق کے ہاتھوں نواز شریف کی منتخب حکومت کی برطرفی کے بعد مرحوم مشاہداللہ خان نوازشریف کی سیاسی جدوجہد کے راہی ہوگئے اور اپنی بقیہ سیاسی زندگی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ گزاری۔

اپنے دوسرے دورِ حکومت میں نواز شریف نے انہیں بلدیہ کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا۔ 12 اکتوبر 1999ء کے غیرقانونی انقلاب کے خلاف احتجاجاََ بلدیہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کے عہدہ سے مستعفیٰ ہوئے اور ریگل چوک کراچی میں انقلاب کو للکار کر بہادری اور سیاسی کی نئی تاریخ رقم کی۔

قارئین کے لئے شاید یہ بات حیران کن ہو کہ پی آئی اے سے سیاسی بنیادوں پر برطرفی کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ سینئرصحافی محترم نصیر احمد سلیمی، شہید محمد صلاح الدین اور سید محمدعلی کے اشتراک سے شائع ہونے والے ہفت روزہ تکبیر میں ملازمت کی۔

 موجودہ ناکارہ، نااہل اور کرپٹ حکومت کو بے نقاب کرنے اور آڑے ہاتھوں لینے والوں میں سینیٹ آف پاکستان میں وہ سب سے توانا اور موثر آواز تھے۔ اپنی تقریر میں شعروں کے برجستہ اور برمحل استعمال سے وہ اشعار کی معنویت میں اضافہ کرتے۔ بلا شبہ انکی وفات سے سیاست میں دیانت، متانت، بردباری اور وفا شعاری کا ایک باب بند ہوا۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں