اسٹیل ملز انتظامیہ زیادہ ہوشیاری نہ دکھائے، چیف جسٹس

0
313

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو نکالنے کا معاملہ۔

س سپریم کورٹ نے پاکستان اسٹیل ملز کے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی حکومتی منصوبے پر سنگین سوالات اٹھا دیئے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہ حکومت جو کرنے جا رہی ہے اس سے تباہی پھیلے گی اور آپ اس معاملے کو انتہائی برے طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔ حکومت اپنے کیے ہصئے فیصلوں پر کیوں کھڑی نہیں ہو پا رہی اور عدالت آپ کو سہارا نہیں دے سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے مذید کہا کہ آپ کو اندازہ ہی نہیں وہ کیا کررہی ہے اور پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ کی اتنی اہلیت ہی نہیں ہے۔ پاکستان اسٹیل مل سے متعلق جو منصوبہ بنایا گیا اس سے پانچ ہزار مقدمات عدالتوں میں آجائیں گے اور آپ کو دوبارہ انہی لوگوں کو ملازمت پر رکھنا پڑے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسٹیل ملز انتظامیہ زیادہ ہوشیاری دکھائے گی تو یہ انہی کے گلے پڑے گی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ متعلقہ قانونی شق اس معاملے میں آڑے آئے گا، یہ آڑے نہیں بلکہ پورا آئے گا۔ چیف جسٹس نے اسٹیل ملز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز معاملے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کا منصوبہ یہ ہے کہ 95 فیصد ملازمین کو نکالا جائے گا اور کنٹریکٹ پر نئے ملازمین بھرتی ہوں گے۔ اس وقت اسٹیل ملز ملازمین کے ہائیکورٹس میں 320 اور سپریم کورٹ میں 29 مقدمات زیر سماعت ہیں۔

وکیل اسٹیل ملز کا کہنا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 40 ارب روپے خرچ آئے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا نہ ہو انتظامیہ کو برطرف کیے گئے ملازم ہی دوبارہ رکھنے پڑیں، جس پر وکیل نئیر رضوی نے کہا کہ انڈسٹریل ریلیشن قانون کی شق 11 آڑے آئے گی۔

عدالت نے پاکستان اسٹیل ملز سے نئی رپورٹ طلب کرلی اور عدالت نے فریق مقدمہ کے وکیل کامران مرتضیٰ کی علالت کے باعث سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں