تمام ادارے ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں، وزیر ریلوے

0
67

سکھر: وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا ہے کہ تماداروں کو رسیکیو آپریشن میں لگایا ہوا ہے اور زخمیوں کو نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
 
پاکستان ریلویز ،پاک فوج کے جوان، رینجرز، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور سندھ پولیس ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں۔ ضروری مشینری اور آلات کی مدد سے بوگیوں میں پھنسے مسافروں کے ریسکیو کا عمل پایہ تکمیل کے قریب ہے۔ ریلوے میں بڑھتے ہوئے حادثات روکنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں گے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹریک سے ریلیف ٹرین اور کرین کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے اور پاکستان ائرفورس کے جہاز بھی ریسکیو اور ایمرجنسی کے لئے تیار ہیں۔ ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 32 ہوگئی جبکہ زخمی ہونے والے مسافروں کی تعداد 80 کے قریب ہے۔

 ترجمان ریلوے نے کے مطابق ٹرین حادثہ میں جاں بحق 20 مسافر اور 60 زخمی افراد تعلقہ ہسپتال اوباٰو میں اور ڈسٹرکٹ ہسپتال گھوٹکی میں 4 جاں بحق اور 2 زخمی موجود ہیں۔ اسی طرح سول ہسپتال میرپور ماتھیلو میں 8 جاں بحق مسافر اور 12 زخمی موجود ہیں۔ شیخ زید ہسپتال رحیم یار خاں سے ابھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے نے خصوصی ہدایت پر ریلوے انتظامیہ کی جانب سے جائے حادثہ پر کھڑے تمام مسافروں کو پانی کی بوتلیں، جوس اور کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ریلوے اس دکھ کی گھڑی میں اپنے مسافروںاور ان کے اہلخانہ کا بھرپور خیال رکھنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔
پاکستان ریلویز کی جانب سے اپیل ہے کہ صبر اور تحمل کے ساتھ پاکستان ریلوے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ ریلوے نے مسافروں کی سہولت کے لیے کراچی، سکھر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ سینٹر قائم کردیئے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں