کھیل کو سیاست نے تباہ کیا؟

0
99

تحریر: اکرم خان

کراچی: لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عارف حسن کو کھیلوں کا بہت شوق ہے۔ کھیلنا کھلانا ہی تو آتا ہے، خوب مہارت سے کھیلتے کھلاتے ہیں سو گزشتہ سترہ برس سے اولمپکس کمیٹی کے سربراہ بن کر کھیل کھیل رہے ہیں۔ اولمپکس میں کیا کارکردگی ہے؟ آپ جانتے ہی ہیں، جی اسی کارکردگی پر سترہ سال سے براجمان ہیں۔

بریگیڈئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر گزشتہ چھ سال سے ہاکی فیڈریشن کے صدر ہیں۔ ہاکی میں پاکستان کا نام خوب روشن ہوا جب یہ خبر چلی کہ پاکستان ہاکی اولمپکس کا حصہ ہی نہیں بن پایا، پاکستان کی ہاکی رینکنگ بھی نہ پوچھیں، 18ویں سے نیچے شاید کچھ نہیں ورنہ وہیں ہوتے، کس کارکردگی پر ہاکی کے سربراہ ہیں، جی اسی کارکردگی پر ایک خبر اور دیکھئے، ‏ملک میں اسپورٹس کے فروغ میں بہترین خاکی کارکردگی پر حال ہی میں وفاقی حکومت نے کرنل ریٹائرڈ آصف زمان کو ملک میں کھیلوں کے فروغ کے ادارے پاکستان اسپورٹس بورڈ کا نیا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا ہے، متوقع کارکردگی کیا ہوگی؟ یہ بھی پوچھنے یا بتانے کی ضرورت ہے؟۔

اب دیکھئے کچھ اور نام
‏ایئر چیف مارشل مجاہد خان،
ایئر مارشل شاہد علوی،
گروپ کیپٹن طاہر،
ایئر کموڈور (ر) آفتاب،
اسکواڈرن لیڈر وقاص،
اسکواڈرن لیڈر عامر۔

آپ سمجھ رہے ہیں یہ کوئی جنگی فضائی تربیت کا کوئی گروپ ہے، جی نہیں یہ سب پاکستان اسکواش فیڈریشن کے عہدیدار ہیں۔ کیا کارکردگی ہے؟ جی کارکردگی یہ ہے کہ پاکستان آخری مرتبہ 23 سال قبل کوئی عالمی چیمپئن شپ جیتا تھا۔ اسی کارکردگی پر یہ سب موجود ہیں، آپ چائیں تو اسی کارکردگی پر ملک اور قوم کو بھی پرکھ سکتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داری پر۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں