قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے اینٹی ریپ سمیت 3 بلوں کی منظوری دے دی

0
44

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ”اینٹی ریپ بل 2020ء“ کی اکثریت رائے سے منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ اینٹی ریپ بل دن رات کی محنت اور کوشش کے بعد تیار کیا گیا ہے، اپوزیشن سے اپیل ہے کہ وہ بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کے دوران مخالفت نہ کرے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہا?س اسلام آباد میں ہوا جس میں ”اینٹی ریپ بل 2020ء“، ”نیب ترمیمی بل 2021 ء“ اور ”کریمنل لا ترمیمی بل 2021ء“ پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمیٹی ارکان کی جانب سے تفصیلی غور وغوض کے بعد تمام بلوں کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

بلوں کی منظوری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اینٹی ریپ بل دن رات کی محنت،کوشش اور تگ و دو کے بعد بنایا گیا ہے، بل پر کافی تحقیق کی گئی اور اس حوالے سے امریکہ، انگلینڈ اور یورپی ممالک کے قوانین سے بھی مدد لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بل کی تیاری کے عمل میں وکلاء،، حقوق نسواں پر کام کرنے والی تنظیموں سے بھی مشاورت کی گئی۔

ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زمینی حقائق کو دیکھ کر اس بل پر کام کیا گیا، اینٹی ریپ بل کو آج دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اس لئے اپوزیشن سے گزارش ہے کہ قومی اسمبلی سے مذکورہ بل کی منظوری کے دوران مخالفت نہ کرے۔

وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس بل کی مخالفت کرکے خواتین کے حقوق کے خلاف اقدام اٹھایا ہے، پیپلز پارٹی کے لوگ اپنے اس اقدام کی خود ہی وضاحت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعت سے سوال کیا کہ کیا آپ نہیں چاہتے کہ ریپ مقدمات کم ہوں؟۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن رکن محمود بشیر ورک کی حمایت کا مطلب ہے کہ بل درست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں 140 اے کا آرٹیکل آیا تب سے تمام صوبے تذبذب کا شکار ہیں۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ ملوث مجرم کی کیمیکل کاسٹریشن (نامزدبنانا)کی جائے گی، عمر قید کاٹ کر جب ریپ کرنے والا دوبارہ جرم کا مرتکب ہوگا تو اس کے لئے کیمیکل کاسٹریشن کی سزا ہوگی۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ نچلے طبقے تک وسائل کی منصفانہ تقسیم کیسے کی جائے اس پر ذیلی کمیٹی بنائی جائے جو صوبوں سے مشاورت کرے، اس ضمن میں تمام تر کوششیں اتفاق رائے سے ہونی چاہئیں۔

اس کے علاوہ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے ”کریمنل لا ترمیمی بل 2021ء“ اور ”نیب ترمیمی بل 2021 ء“ کی بھی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے۔ نیب ترمیمی بل کے بارے میں ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہاکہ مذکورہ بل کے تحت پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد دوبارہ تعیناتی بھی ہوسکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نیب ترمیمی بل میں کسی بھی قسم کا سیاسی عمل دخل نہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں