آخر حرج ہی کیا ہے؟

0
134

تحریر: صفیہ حیات
ہر روز عورت مرد کے ظلم کا شکار ہوتی ہے مگر بات ساری طاقت کی ہے جہاں جو صنف طاقت میں ہوگی وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ضرور ظلم کی کہانی میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
میں مانتی ہوں کہیں نہ کہیں عورت بھی طاقت کے زعم میں ظلم کرتی ہوگی مگر کیا وجہ ہے کہ ہر آئے دن محرم اور نامحرم رشتوں کی آڑ میں بچیوں کو روندا جاتا ہے۔ مگر کوئی ایسا قانون کیوں نہیں بنایا جاتا کہ بچیاں بھی محفوظ رہیں اور مردوں کو اپنی ہوس کی بھوک مٹانے کے لئے چکلوں میں جانے کی آزادی ہو۔

عالم دین نور الدین مبارک (دورالتمش) نے کہا تھا کہ طوائفوں کو ختم نہیں کرنا چاہئے ورنہ لوگ اپنی نفسانی بھوک مٹانے کے لئے شریفوں کے گھروں کا رخ کریں گے۔ طوائف اپنے جسم کی قربانی دے کر شریف عورت کی عزت محفوظ رکھتی ہیں۔
ہم نے انڈر گرائونڈ نکاسی آب کا سسٹم تو بنا کر گھروں کو صاف شفاف کر لیا مگر انسانی جسم کے تقاضوں کو فراموش کردیا۔ عبادت گاہوں کی قطاریں تو کھڑی کرلیں مگر شہر سے باہر ایک بھی ایسا شہر آباد نہ کیا۔ جسے اکبر بادشاہ شیطان پورہ کہتا تھا۔ دن رات عبادت کرکے بھی آپ اس خواہش کو مار نہیں سکتے۔ جیسے جسم کو روٹی کی بھوک ہے یہ بھی بھوک ہے تو منافقت کے دائرہ سے نکل کر صرف یہ شہر آباد کرلیں تاکہ عورتوں کا یہ طبقہ بھی بھوکا نہ مرے اور شریف زادوں کو بدنامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔ یوں شہر کے شریفوں کی بچیاں بھی محفوظ رہیں گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں