پارلیمان اہل افراد کے درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے پر عزم ہے، اسپیکر قومی اسمبلی

0
69

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے بدھ کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کےاجلاس میں بریل سسٹم پر منتقل ہونے والی آئین پاکستان کی کاپی ایوان  میں پیش کرتے ہوئےکہا کہ آج کا دن اس ایوان کے لیے ایک تاریخی نوعیت کا حامل دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ہدایات پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے آئین پاکستان کو مکمل طور پر بریل رسم الخط پر منتقل کر کے اسے بصارت سے محروم افرادکے لیے قابل رسائی بنا دیا ہے اور بصارت سے محروم افراد اب آسانی سے اس کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی خصوصی طور پر اہل افراد کی ملکی امور میں بامعنی شرکت کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی سے پاکستان خطے کا پہلا اور دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن میں آئین بریل میں دستیاب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کو خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعہ نابینا افراد کے لیے قابل رسائی بنایا گیا ہے۔ انہوں نےبتایا کے  پارلیمنٹ کی عمارت کا خصوصی طور پر اہل افراد کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے  ڈسبلٹی آڈٹ کرایا گیا اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں ہر فلور پر خصوصی افراد کے لیے واش روم اور دیگر سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان اقدامات سے پارلیمنٹ کی عمارت پہلی عمارت ہے جو طور پر خصوصی افراد کے لیے مکمل طور پر قابل رسائی ہے۔

اسپیکر نے پارلیمانی سفارتکاری کے میدان میں قومی اسمبلی کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری کے میدان میں بھی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ کے آغاز پر اسلام آباد میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی میزبانی میں اقتصادی تعاون تنظیم کی پارلیمانی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس نو سال کی طویل مدت کے بعد منعقد ہوا اور اس میں افغانستان، آزربائجان، ازبکستان اور ترکی کے سپیکروں نے پارلیمانی وفود کے ہمراہ شرکت کی جب کہ ایران، ترکمانستان اور کازکستان کے سپیکرز اور پارلیمانی وفود  ویڈیولنک کے ذریعہ کانفرنس میں شریک ہوے۔ اس کانفرنس کے انعقاد سے یہ تنظیم نو سال بعد دوبارہ فعال ہوئی اور کانفرنس میں اسلام آباد میں اس کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کی منظوری دی گئی اور سال 2022-2021 کے لیے اسپیکر پاکستان قومی اسمبلی کو اس کا صدر منتخب کیا گیا۔

 علاوہ ازیں پائیکو کے  اسلام آباد اعلامیہ میں مسئلہ کشمیر کو شامل کیا گیا اور تمام ممالک نے اس کی حمایت کی جو ایک تاریخی کامیابی ہے۔ انہوں نے پائیکو کانفرنس کے اعلامیئے کی منظوری پر ایوان کے اراکین کو مبارکباد دی۔

قومی اسمبلی کے قیام کے تاریخی پسِ منظر پر بات کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اس منتخب ادارے کا قیام 10 اگست 1947 کو ہوا تھا اور 10 اگست 2021 کو اس کے قیام کے 74 سال مکمل ہو رہے ہیں اور یہ ایوان اپنی پلاٹینیم جوبلی میں داخل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ پلاٹینیم جوبلی سال کو شایان شان طریقے سے منانے کے لیے مختلف پروگرام ترتیب دے رہا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اراکین قومی اسمبلی کو اپنی تجاویز دینے کے لیے کہا۔ اسپیکر نے کہا کہ یہ ایوان پورے پاکستان کا نمائندہ ایوان ہے اور ایوان کے دونوں اعتراف کے اراکین باہمی اختلافات سے بالا تر ہو کر اس کے وقار اور تقدس کے لیے کردار ادا کریں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں