حمزہ شہباز ایف آئی اے میں پیش، تفتیشی ٹیم کے روبرو تحریری جواب جمع کروا دیا

0
53

لاہور: حمزہ شہباز کا ایف آئی اے کو جواب میں کہنا ہے کہ نیب کے کیس میں 22 ماہ پابند سلاسل رہا، ایک دھیلے کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہہں ہو سکی۔ ایف آئی اے نے پچھلی پیشی پر میرے حوالے سے جھوٹا بیان منسوب کرکے ٹی وی چینل پر چلوایا۔ ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے 17 دسمبر 2020 کو میرے سے کوٹ لکھپت جیل میں تفتیش کی جو سوالات کیے گئے ان کے تفصیلی جوابات دیے۔

حمزہ شہباز نے ایف آئی حکام سے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو مزید تفتیش کرنے کا خیال چھ ماہ بعد کیوں آیا؟۔ ایسا کیوں ہے کہ میری ضمانت کے بعد  ایف آئی اے نے نیب کے ریفرنس میں لگائے گئے الزامات کے حوالے سے ہی تفتیش شروع کر دی۔ نیب نے میرے تمام اثاثہ جات کی مکمل چھان بین کی اور کسی قسم کی کوئی بے ضابطگی سامنے نہیں آسکی ہے۔ میں اپنے تمام تر اثاثہ جات ایف بی آر اور الیکشن کمیشن میں ڈکلیئر کر چکا ہوں۔ کسی قسم کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے بھی نیب عدالت میں کچھ ثابت نہیں کر سکا۔ ایف آئی اے کی طرف سے بنائے گئے کیس سے حکومت کی بوکھلاہٹ صاف ظاہر ہوتی ہے۔ متعلقہ وفاقی وزیر نے اس حوالے سے کئی بار بیانات بھی دیے۔ ایف آئی اے کی تفتیش سیاسی نوعیت کی تفتیش ہے ، اپنا تحریری جواب تفتیشی ٹیم کے روبرو جمع کروا رہا ہوں۔ حکومتی ایما پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر ایف آئی اے متنازع حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ تمام سوالات کے جواب دینے کے بعد مزید تفتیش کی گنجائش نہیں رہی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں