امریکہ میں کورونا وائرس کے امدادی پیکیج پر ٹھنڈ پروگرام

0
101

کراچی:  امریکہ اس وقت کورونا وائرس کی وبائی ایمرجنسی سے نپٹ رہا ہے اور صدر ٹرمپ اورسینٹ چھٹیوں پرہے۔ دوسرے امدادی پیکج کے لئے ڈیموکریٹس نے تین ہفتے قبل تین ٹریلین ڈالرز کا ایک بل ہیروزایکٹ کانگریس میں پیش کیا تھا۔ اس اقتصادی پیکج میں ہر امریکی شہری کو بارہ سو ڈالر ادا کرنے کےعلاوہ ایمرجنسی ورکرز اور بنیادی ضروریات کے لیے کام کرنے والوں کے لئے خصوصی بونس کی شق بھی رکھی گئی تھی۔ کانگریس میں اس وقت ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے جس کی منظوری کے حق میں 208 ووٹ جبکہ  مخالفت میں 109 ووٹ دیے گئے۔ دو ہفتے قبل مذکورہ بل سینٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا جسے گزشتہ ہفتے کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ اور سینٹ اب دس دن کی چھٹیوں پر چلی گئی ہے اب یہ بل دوبارہ جون کے دوسرے ہفتے میں بحث اور ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

سینیٹ میں ریپبلکن کی اکثریت ہے جس کے رہنم  سنٹر مچل نے چھٹیوں پرجانے سےقبل کہا کہ یہ بے اس حالت میں منظور نہیں کیا جاسکتا اس میں تبدیلیاں کرنی ہونگی۔ عوام کی اکثریت نے سنیٹر میلوینل کے اس بیان پرحیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبل ملنے والے امدادی پیکیج پر طے پانے والے اصول کےعلاوہ اس میں کیا تبدیلی ہوسکتی ہے۔ خصوصا جب امریکہ میں اس وقت 40 ملین لوگ بے روزگاری کے ادارے سے الاؤنس کیلئے رجوع کرچکے ہیں۔ ‏لاک ڈاؤن اور کام کاج نہ ہونے  کے باعث عام امریکن  کو گھروں کے کرائے دینے، بلوں کی عدم ادائیگی اور کھانے کی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور سینیٹ کی تاخیر کے باعث کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مسائل کھڑے ہوچکے ہیں۔ امریکہ میں لاک ڈاؤن کے باعث  مستقبل قریب میں ہزاروں کاروبار دیوالیہ کی کاروائی اور کریڈٹ لاس کے معاملات میں الجھ جائیں گے جس سے مزید بیروزگاری بڑھے گی ۔ اگر دوسرا امدادی پیکج متوسط طبقے تک بروقت نہ پہنچا تو یہ معاملات عام امریکیوں کے گھروں تک پہنچ کرمزید قانونی و سماجی مسائل کا سبب بنے گا۔ دوسری طرف کیمپ ڈیوڈ سے صدرٹرمپ کی گولف کھیلتے ہوئے ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں نہ وہ سوشل ڈسپنسنگ کا خیال رکھ رہے ہیں اور بے فکری سے دوستوں کے ساتھ لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں