وبا کے دنوں میں جیلوں میں موجود قیدیوں کی حالت زار

0
64

تحریر: فہمیدہ یوسفی

پاکستان میں جب بھی جیلوں کی بات کی جاتی ہے اس کے ساتھ ہی ذہن میں کبھی بھی کوئی مثبت خیال نہیں آتا۔ بلکہ ہمیشہ سے ہی تنگ تاریک سیلی ہوئی اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تاریک کوٹھریاں ہیں جہاں موجود قیدیوں کو انسان  نہیں بلکہ بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ جیلوں سے اکثر بدترین کہانیاں میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ جیل کے عملے کا قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کوئی ایسا راز نہیں ہے جس سے کوئی واقف نہ ہو قیدیوں پر بدترین  تشدد ناقص غذائیں اور ناکافی علاج کی سہولتیں ہمیشہ سے سوالیہ نشان تھیں اور رہینگی۔ اسی لیے بدقسمتی سے ہماری جیلوں میں موجود قیدی جب اس تاریک قید سے باہر آتے ہیں تو وہ معاشرے کے لیے ایک ایسا رستا ہوا ناسور بنتے ہیں جس پر کوئی مرہم بھی اثر نہیں کرتا۔

 اس وقت بھی اندازے کے مطابق  پا کستان کی جیلوں میں گنجائش  سے کہیں زیادہ قیدی موجود ہیں۔ ملک میں اس وقت  114 جیلوں میں 77 ہزار قیدی ہیں یا شاید اس سے بھی زیادہ ہوں جبکہ جیلوں میں قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش 50 ہزار سے تھوڑی زیادہ ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق آبادی کے لحاظ  سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی 41 جیلوں میں قیدی رکھنے کی گنجائش ویسے تو 32477 ہے تاہم  اس وقت ان جیلوں میں 47000 سے بھی زائد قیدی موجود ہیں۔

خیبر پختون خوا کی 20 جیلوں میں 4500 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 9900 ہے۔

بلوچستان کی 11 جیلوں میں 2500 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ وہاں پر قیدیوں کی تعداد 2100 ہے۔

 جیلوں میں موجود خواتین کی صورتحال
صوبہ سندھ کی مخلتف جیلوں میں انڈر ٹرائل خواتین قیدی 139 جبکہ سزا یافتہ خواتین قیدیوں کی تعداد 32 ہے۔

پنجاب کی مختلف جیلوں میں خواتین قیدیوں کی تعداد 452 جبکہ سزا یافتہ خواتین قیدیوں کی تعداد 301 ہے۔

خیبر پختونخوا میں خواتین قیدیوں کی تعداد 140 ہے جبکہ 51 قیدیوں کو مخلتف عدالتوں سے سزائیں سنائی گئی ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں 21 خواتین قیدی ہے جن میں سے پانچ خواتین کو مختلف مقدمات میں سزا سنائی گئی ہیں۔

جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی جیلوں میں 120 خواتین قیدی اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔

جیلوں میں موجود بچوں کی صورتحال
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب  کی جیلوں میں 90 بچے، کے پی میں 50، سندھ میں 23 بچے قید ہیں۔

جیلوں میں موجود قیدیوں کے حوالے سے وزارت داخلہ کی رپورٹ وزارتِ انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق تشویش ناک طور پر  پاکستان بھر کی مختلف جیلوں میں ایسے قیدیوں کی تعداد زیادہ ہے جن کے خلاف مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

 ان میں سے سب سے زیادہ ملزمان  کے مقدمات حیران کن طور پر  صوبہ خیبر پختونخوا کی مختلف عدالتوں میں ہیں اور ایسے افراد کی تعداد کل قیدیوں کا 71 فیصد ہے۔ اسی  رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد مجموعی تعداد کا 70 فیصد جبکہ بلوچستان میں 59 فیصد اور پنجاب میں 55 فیصد ہے۔ جبکہ اسی رپورٹ میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ  ملک کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے بہت زیادہ ہے۔

وزارت داخلہ کی جنوری میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو جمع کرائے جانے والی اسی رپورٹ  میں یہ ہولناک انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ ملک بھر کی جیلوں میں قید پانچ ہزار سے زائد قیدی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چاروں صوبوں میں کل پانچ ہزار207 قیدی مختلف بیماریوں کا شکار ہیں جن میں سے 425 قیدی ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہیں۔ ایچ آئی وی ایڈز کے شکار قیدیوں میں سب سے زیادہ پنجاب میں 257 قیدی، سندھ میں 116، خیبر پختنخوا میں 39 جبکہ بلوچستان کی جیلوں میں 13 قیدی ایچ آئی وی ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں۔

اسی رپورٹ میں یہ دل دہلا دینے والا انکشاف بھی کیا گیا تھا ایسے موذی امراض میں مبتلا قیدیوں کے علاج اور ان کے بچاو کے لیے بھی مناسب سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

واضح رہے کہ یہ رپورٹ جنوری میں پیش کی گئی تھی جبکہ اس رپورٹ کو آئے سات مہینے  کا وقت گزرچکا ہے تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ صورتحال بد سے بدترین کی طرف ہی گامزن ہے۔

سندھ کی جیلوں کی حالت زار
واضح رہے سندھ  کی جیلیں انتظامی طور پر تین ریجنوں میں تقسیم ہیں کراچی ریجن، حیدر آباد ریجن اور سکھر ریجن ان تینوں ریجنوں میں کل ملاکر 27 جیلیں ہیں۔

اگر سرکاری اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ان 27 جیلوں کو اس طرح سے تقسیم کیا گیا ہے۔ کراچی ریجن میں کل چار جیلیں ہیں۔ جن میں کراچی سینٹرل جیل، ڈسٹرکٹ جیل ملیر، سینٹرل جیل ملیر اور  کمسن بچوں کا اصلاحی مرکز شامل ہیں جبکہ حیدرآباد ریجن میں 21  اور سکھر ریجن میں 11 جیلیں موجود ہیں۔

حیدرآباد شہر میں تین جیلیں ہیں جن میں سینٹرل جیل، نارا جیل، خواتین کے لیے مخصوص جیل کمسن مجرموں کا اصلاحی مرکز شامل ہیں۔ حیدرآباد ریجن کے دیگر اضلاع میں بدین اور دادو میں دو، دو جبکہ سانگھڑ میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد میں ایک ایک جیل ہے. جبکہ میرپورخاص میں خواتین کی جیل اس وقت بند ہے۔ سکھر ریجن کے سکھر شہر میں سینٹرل جیل، ڈسٹرکٹ جیل کمسن مجرموں کا اصلاحی مرکز ہیں۔ لاڑکانہ میں دو اور خیرپور، شکارپور، نوشہروفیروز، گھوٹکی اور جیکب آباد میں ایک ایک جیل ہے۔

سندھ کی ان جیلوں میں محتاط اندازوں کے مطابق کم از کم اس وقت 16 ہزار سے بھی زائد قیدی موجود ہیں۔ ان قیدیوں میں بھی زیادہ تر  انڈر ٹرائل قیدی ہیں جس کا تذکرہ وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے جس میں صوبہ سندھ کی مخلتف جیلوں میں انڈر ٹرائل خواتین قیدی ہے۔ تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ ان 16 ہزار سے بھی زائد قیدیوں کی  آدھی سے زائد تعداد کراچی کی دو جیلوں میں موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق اس وقت کراچی سینٹرل جیل میں اس وقت 5200 جبکہ لانڈھی جیل میں 4500 قیدی موجود ہیں۔ خیال رہے کہ کراچی سینٹرل جیل میں ویسے قیدیوں کی گنجائش صرف 2400 ہے۔ جبکہ ڈسٹرکٹ ملیر میں قیدیوں کی گنجائش ویسے 1600 ہے۔

اسی طرح صرف 1500 قیدیوں کی گنجائش والے سینٹرل جیل حیدر آباد میں 1750 قیدی موجود ہیں۔ جبکہ 550  قیدیوں کی گنجائش والے سینٹرل جیل لاڑکانہ میں 904، سینٹرل جیل خیرپور میں 950 قیدیوں کی گنجائش ہےمگر وہاں 1003 قیدی ہیں۔

سینٹرل جیل سکھر میں 624 قیدی، ایک سو قیدیوں کی گنجائش والے  ڈسٹرکٹ جیل نواب شاہ میں 349 قیدی، 75 قیدیوں کی گنجائش والے  ڈسٹرکٹ جیل میرپور خاص میں 251 قیدی، 250 قیدیوں کی گنجائش والے ڈسٹرکٹ جیل سانگھڑ میں 346 قیدی، 250 قیدیوں کی گنجائش والے ڈسٹرکٹ جیل جیکب آباد میں 261 قیدی، 250 قیدیوں کی گنجائش والے ڈسٹرکٹ جیل دادو میں 350 قیدی، 250 قیدیوں کی گنجائش رکھنے والے ڈسٹرکٹ جیل بدین میں 443 قیدی، 250 قیدیوں کی گنجائش رکھنے والے ڈسٹرکٹ جیل شکار پور میں 686 قیدی، 250 قیدیوں کی گنجائش والے ڈسٹرکٹ جیل نوشیرو فیروز میں 390  قیدی اور 250 قیدیوں کی گنجائش والے ڈسٹرکٹ جیل گھوٹکی میں 312 قیدی بند ہیں۔

کورونا وائرس اور جیل میں موجود قیدیوں کی حالت زار
کورونا وائرس کے عفریت نے دنیا بھر کی سماجی سیاسی معاشی زندگیوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے چین سے شروع  ہونے والی اس ناگہانی  آفت نے دنیا بھر میں نہ جانے کتنے المیوں کو جنم دے دیا ہے اور  ابھی نہ جانے مزید  کتنے المیے باقی ہیں۔ ہر طرف خوف کی فضا ہے ہر طرف سناٹے ہیں اور ہر طرف موت  کی  پرچھائیاں رقص کررہی ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں موجود قیدیوں کی حات زار کا ویسے  ہی کوئی پرسان حال نہیں ہے جبکہ قیدیوں  میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے انکشاف کے بعد کورونا وائرس نے بھی پاکستان بھر کی جیلوں میں اپنے خون آشام پنجے گاڑ لیے ہیں  دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں موجود قیدی اپنے کمزور مدافعتی نظام کی وجہ سے کورونا کے آسان شکار ثابت ہورہے ہیں۔ جبکہ گنجائش سے زائد قیدیوں، صحت و صفائی کی ناقص اور ناکافی سہولیات اور بڑی تعداد میں قیدیوں کی آمدو خروج کی وجہ سے جیلوں میں کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ عام آبادی سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی  جیلوں میں سماجی دوری اور حفظان صحت کے اصولوں پرعملدر آمد ناممکنات میں ہی شامل کیا جاتا ہے۔

   تاحال موصول ہونے والی مصدقہ رپورٹس کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر کی جیلوں میں کورونا وائرس سے متاثرہ قیدیوں کی تعداد 1500 کے قریب پہنچ گئی۔

محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک سندھ کی جیلوں میں 1464 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق سینٹرل جیل کراچی کے قیدیوں میں سب سے زیادہ 1293 کورونا کیسز سامنے آئے ہیں۔ کراچی کی سینٹرل جیل میں ایک قیدی کی موت بھی رپورٹ ہوئی ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق دوسرے نمبر پر سکھر کی جیل میں سب سے زیادہ 92 قیدیوں میں کورونا مثبت پایا گیا ہے۔ بدین جیل میں 32 ، ٹھٹہ جیل میں 13 جبکہ لاڑکانہ کی جیل میں 12 قیدیوں میں کورونا وائرس مثبت پایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق  سندھ بھر کی جیلوں میں اب تک 7287 قیدیوں کے کورونا ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق 1432 قیدی اس وقت آئسولیشن میں موجود ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثرہ 31 قیدی اب تک صحتیاب ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب کی جیلوں میں بھی قیدیوں میں کورونا سے متعلق  سرکاری اعداد و شمار ابہام کا شکار ہیں جبکہ انسانی حقوق کے ماہرین کے جانب سے  پنجاب حکومت سے اس سلسلے میں شفافیت کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ جبکہ یہ بات بھی اپنی جگہ حیران کن ہے کہ پنجاب بھر میں قیدیوں سے ملاقاتوں کی اجازت دیدی گئی ہے۔

تاہم کورونا کے باعث 15 دن بعد قیدی سے ایک رشتہ دار ملاقات کر سکتا ہے جبکہ ملک کے باقی حصوں سے بھی قیدیوں کی صحت کے حوالے سے کوئی خوشگوار اطلاعات موصول نہیں ہورہی ہے۔  اندازے کے مطابق اس وقت ملک بھر کی جیلوں میں 65 فیصد سے زیادہ قیدی سزا یافتہ ہی نہیں اور ان کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی جیل میں موجود قیدی حکمرانوں اور معاشرے کی روایتی بے حسی کا شکار ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنی سی کوششیں کرتی رہتی ہیں تاہم یہ آٹے میں نمک کے برابر اب وقت آگیا ہے کہ جیلوں میں موجود قیدیوں کی حالت زار پر صوبائی حکومتیں اور وفاق اپنا کوئی مثبت کردار نبھائے ورنہ  وبا کے اس تاریک دور میں پاکستان کی جیلوں کہیں کوئی بڑا انسانی المیہ جنم نہ لے لے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں