پاکستان اسٹیل سی ای او، پی ای او اور جی ایم سیکیورٹی کی میرٹ کے برخلاف غیر قانونی من پسند تقرریوں کا انکشاف

0
2236

کراچی ( مدثر غفور) پاکستان اسٹیل ملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن، پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور جنرل منیجر سیکیورٹی کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کی متنازعہ، خلاف میرٹ کانٹریکٹ پر، عمر سے زائد تعیناتیوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور غیر قانونی من پسند تقرریوں کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیراعظم کی پابندی اور وفاقی کابینہ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 407 ویں اجلاس کی منظوری کے بغیر اشتہار شائع کرکے من پسند چیف ایگزیکٹو آفیسر کا تقرر کردیا گیا، وفاقی حکومت کے نجکاری کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل اور بورڈ کے ممبر سید افتخار حسین نقوی نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی اسامی کیلئے اشتہار اور تقرری پر اعتراض کرتے ہوئے نوٹ لکھا، اشتہار نہ تو بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظور تھا اور نہ ہی وزارت صنعت و پیداوار نے اس کی منظوری دیتے ہوئے کابینہ کو بھیجا، اسٹیل ملز 2015 میں بندش کے بعد دوبارہ بحالی منصوبے کے ساتھ چل رہی ہے اس کو چلانے کیلئے سی ای او کا اشتہار دیا گیا، سی ای او کے معیار کو تبدیل کرکے اشتہار میں دو بار ردو بدل کی گئی جو سروس رول کی خلاف ورزی تھی، سی ای او کی تقرری میں میٹالرجیکل یا ایڈمنسٹریشن سے متعلق قابل تجربہ کار اُمیدواروں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا، آڈٹ کے اعتراض کے مطابق اخبار میں سی ای او کی ضرورت کا اشتہار ‘اسٹیل ملز کو چلانے’ کیلئے دیا گیا جبکہ عملی طور پر’سی ای او سے پرائیوٹائِزیشن’ کیلئے کام لیا جارہا ہے، مذکورہ دونوں ‘سیکیورٹی ایکسپرٹ’ افسران لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کا ذکر/ انتخاب ان عہدوں کے لئے کیا گیا جو پہلے ہی پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) اور جنرل منیجر سیکیورٹی کی پوسٹوں کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں شریک تھے، مذکورہ دونوں افسران نے 31 اکتوبر 2019 کے 405 اجلاس میں انتظامیہ اور سیکیورٹی کے ماہرین کی حیثیت سے پاکستان اسٹیل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے ایک پریزنٹیشن پیش کی، بورڈ کے اجلاس میں پہلے ہی ایک ممبر نے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی پر اعتراض کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ دو نئے لوگوں کو باقاعدہ ایڈورٹائزمنٹ کے عمل کے ذریعے لینا چاہیے، پی ای او ڈائریکٹر اے اینڈ پی اور جنرل منیجر سیکیورٹی کی تقرری میں من پسند سلیکٹڈ اُمیدواروں کی تعلیمی قابلیت اور تجربے کے مطابق اخبار میں اشتہار دیا گیا، پی ای او (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) طارق خان نے اپنی تقرری سے قبل اسائنمنٹ کیلئے اسٹیل ملز میں مختلف ڈیپارٹمنٹس ہیڈ کے انٹرویو اور اسٹیل ٹائون گیسٹ ہائوس میں قیام کیا، ایسوسی ایشن آف پاکستان اسٹیل مل کے آرٹیکل 161 کے مطابق ‘کوئی دوسرا ممبر یا کسی دوسرے فرد کا کوئی ممبر ( ناہی کوئی ڈائریکٹر ہونے کے ناطے) کارپوریشن کی پراپرٹی میں داخل ہونے یا کارپوریشن کے ڈائریکٹرز کی اجازت کے بغیر کارپوریشن کی پراپرٹی کے احاطے کا معائنہ کرنے کا حقدار نہیں ہوسکتا، پاکستان اسٹیل مل بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 405 ویں اور 407 ویں اجلاس کے ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ یکم دسمبر 2019 کی تاریخ کا پورا عمل اور اشتہار سرکاری خزانے کے ساتھ محض شرمناک اور دھوکہ دہی تھا، اسٹیل ملز میں کیپٹن ریٹائرڈ رینک کے جنرل منیجر سیکیورٹی کے ماتحت میجر ریٹائرڈ رینک کے افسران منیجر سیکیورٹی کے طور پر ڈیوٹی کررہے ہیں، دونوں ‘سیکیورٹی ایکسپرٹ’ کی غیر قانونی تقرری کے بعد ایک سال میں 33 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی رجسٹرڈ چوریاں ہوئیں جبکہ حقیقت میں اربوں روپے کی چوریاں ہوئی، سابق وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر اپنی وزارت کے دوران ایک دن بھی دورے پر اسٹیل ملز نہ آئے اور سینیٹ آف پاکستان میں سینیٹرز کے سوالات کے جواب میں اسٹیل ملز اور سی ای او کی تقرری پر جھوٹ اور غلط بیانی کرتے رہے، آڈیٹر جنرل کمرشل آڈٹ کا کانٹریکٹ پر سلیکٹڈ غیر قانونی عمر سے زائد تقرریوں کے اعتراض پر اسٹیل ملز انتظامیہ کے افسران سی ای او، پی ای او اور جنرل منیجر سیکیورٹی تقرری کی صفائیاں، تعریف اور اسٹیل ملز ملازمین کو جبری نکالنے کے فوائد بتاتے رہے، ڈائریکٹر جنرل کمرشل آڈٹ نے تینوں من پسند غیر قانونی تقرریوں پر اعتراض لگا دیے، آڈٹ اعتراض کے بعد سیکریٹری صنعت و پیداوار کا اجلاس سوائے اپنی ہی کی گئی غیر قانونی تقریوں کی سیٹلمنٹ کے زریعے تحفظ فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سرکاری دستاویزات میں 6 بار اسٹیل ملز کو چلانے ‘ریوائول’ کا زکر کیا گیا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس قومی خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں اور قومی اداروں کیلئے سوالیہ نشان بن گئے، موجودہ حکومت میں اسٹیل ملز جیسے قومی ادارے میں ریٹائرڈ فوجی افسران کی میرٹ کے برخلاف تقرریوں نے دوسرے سول اداروں میں ریٹائرڈ فوجی افسران کے تقرر پر سوالات پیدا کردیے ہیں، پی ای او اے اینڈ پی اور جنرل منیجر سیکیورٹی کی ایک سالہ خراب کارکردگی کی مدت پوری ہونے کے باوجود چئیرمین بورڈ نے ایک سالہ مذید کانٹریکٹ اور بند اسٹیل ملز میں 50 ہزار تنخواہ بڑھا دی، اسٹیل ملز بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ہیومن ریسورسز کمیٹی کی ان تین فوجی ریٹائرڈ افسران کی من پسند خلاف میرٹ تعیناتیوں نے دوسرے ریٹائرڈ قابل فوجی افسران/ سویلین اُمیدواروں کے ساتھ نا انصافی کی جو رینک میں بڑے تجربہ کار اور جس کا فائدہ اسٹیل ملز کو بحالی/ چلانے کیلئے لیا جاسکتا تھا، مذکورہ افسران کی تنخواہوں میں بند اسٹیل ملز اور حکومت پاکستان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نیشنل بینک آف پاکستان کے 19 سینئر افسران پر کانٹریکٹ پرغیرقانونی بھرتیوں کے الزام میں انکوائری کے بعد طلب کرلیا اور انتظامیہ اسٹیل ملز کے خلاف بھی اسی طرز پر غیر قانونی کانٹریکٹ پر بھرتیوں کا بڑا ریفرنس بن سکتا ہے جو کہ مستقبل میں بڑا اسکینڈل ہے، مذکورہ افسران سے تنخواہیں واپس لے کر اسٹیل ملز میں واپسی کے بعد انتظامیہ اسٹیل ملز کے افسران اور کانٹریکٹ پر بھرتی غیر قانونی افسران کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے مثال قائم کرنی چاہئے، مذکورہ اہم عہدوں پر پاکستان اسٹیل مل کارپوریشن میں حالیہ تقرریاں غیر قانونی، غیر آئینی، غیر منطقی اور غیر منصفانہ ہے اور پاکستان اسٹیل آفیسرز سروس رولز اور ضوابط، پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 اور پبلک سیکٹر کمپنیاں (چیف ایگزیکٹو کی تقرری) کی گائیڈ لائنز 2015 کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ انتظامیہ اسٹیل ملز اور سابق سیکریٹری صنعت و پیداوار کا موقف دینے سے گریز، چئیرمین بورڈ عامر ممتاز نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم ان کا بورڈ میں جواب دیں گے’۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن کی غیر قانونی تقرری

دی پاکستان اُردو کے پاس دستیاب مختلف سرکاری دستاویزات انکشاف کرتی ہیں کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی غیر قانونی تقرری مذکورہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بورڈ ہیومن ریسورس کمیٹی کے 3 دسمبر 2019 کو منعقدہ اس سے قبل کی گئی میٹنگ میں بورڈ آف ہیومن ریسورس کمیٹی کے کئے گئے ہر مختصر درج امیدواروں کے ذاتی انٹرویو کے ذریعے مزید جائزہ لینے کے لئے تھی، بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی کا اجلاس 18 دسمبر 2019 کو طلب کیا گیا جس میں چیف ایگزیکیٹو آفیسر پاکستان اسٹیل مل / ایڈیشنل سیکریٹری کے دفتر میں وزارت صنعت و پیداوار اور چیئرمین (بورڈ ہیومن ریسورس کمیٹی) / ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان اسٹیل مل آصف جبار خان، عامر ممتاز ممبر (بورڈ) ہیومن ریسورس کمیٹی / چیئرمین، کیپٹن ریٹائرڈ شیرعالم محسود ممبر (بورڈ ہیومن ریسورس کمیٹی) / ایڈیشنل سیکریٹری وزارت برائے صنعت و پیداوار) اور اسٹیل مل کے اے ڈی جی ایم انچارج (اے اینڈ پی) ریاض حسین منگی سیکریٹری (بورڈ ہیومن ریسورسٹی کمیٹی) نے شرکت کی۔

اکتیس 31 اکتوبر 2019 کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا۔ 3 نومبر 2019 کو اخبار میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کیلئے اشتہار شائع ہوا اور ہیومن ریسورسز کمیٹی نے انٹرویو کے لئے 36 درخواست گزاروں میں سے 05 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا۔ بورڈ ہیومن ریسورس کمیٹی نے 5 اُمیدواروں کو انٹرویو کیلئے بلایا جو کہ اشتہار کے مطابق تجربہ، سابقہ ​​سروس ٹریک ریکارڈ، شخصیت کی تشخیص کے ساتھ ساتھ چیف ایگزیکٹو کے عہدے کے معیار پر پورا اُترسکیں۔

پاکستان اسٹیل مل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 407 ویں اجلاس میں بورڈ ہیومن ریسورس کمیٹی (بی ایچ آر سی) کی سفارشات پر اتفاق کیا اور سی ای او کی تقرری کے لئے اختیار کردہ معیار کو حل کیا اور تینوں اُمیدواروں کو اس پوسٹ کو ترجیحی بنیاد پر شارٹ لسٹ کردیا۔ بورڈ کی ہیومن ریسورس کمیٹی نے 18 دسمبر 2019 کو 03 اُمیدواروں کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے بلایا جن میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن، ایم فاروق عثمان صدیقی اور طارق اعجاز چودھری شامل تھے۔

پاکستان اسٹیل مل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی بورڈ ہیومن ریسورس کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے عہدے کے لئے تفصیلی انٹرویو لینے کے بعد تین شارٹ لسٹ امیدواروں کے حکومتی ناموں کی سفارش کی۔ اس کے مطابق بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن کی ٹاپ پیریوٹی پر سفارش کی گئی جو کہ امیدوار جنگی اور اسٹریٹجک مطالعات میں ڈگری رکھتا تھا اور ہائوسنگ سوسائٹی کا تجربہ رکھتا تھا۔

نوٹ: دوسرے اشتہار میں اُمیدواروں کے کاغذات جمع کروانے کی آخری تاریخ 18 نومبر 2019 تھی اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن کی تاریخ پیدائش 15 مارچ 1958 سے 18 نومبر 2019 تک عمر61 سال 8 ماہ اور 3 دن بنتی تھی۔ 

اسٹیل ملز کے سی ای او کیلئے اُمیدواروں کی اہلیت اور تجربے کو ریمارکس کی روشنی میں پرکھا جاسکتا ہے۔

ٹاپ پیریوٹی نمبر-1 کے اُمیدوار بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن کی تعلیم اور قابلیت: میں ایم ایس سی (آنرز) وار اسٹڈیز- 2002، اور ایم ایس سی (آنرز) ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز- 2006 شامل ہے جبکہ تجربہ کے لحاظ سے فوج میں صرف داخلی پوسٹنگ ٹرانسفر کا تجربہ جی ایچ کیو کور ہیڈکوارٹر، بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اور رجمنٹل یونٹس میں غیر متعلقہ تجربہ شامل ہے۔ جبکہ تجربہ میں السید ہائوسنگ سوسائٹی گگو منڈی تحصیل بوریوالہ، ضلع وہاڑی کے 7 سال سے چیف ایگزیکٹو آفیسر سی ای او کا تجربہ ہے۔  

نوٹ: بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی نے پیریوٹی نمبر ایک کے اُمیدوار بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن کے بارے میں جواز پیش کرتے ہوئے لکھا کہ پاک فوج کے ساتھ پیشہ ورانہ زندگی کے دوران اور اسٹرٹیجک آرگنائزیشن کے ساتھ عہدے کے تقاضوں کے مطابق ان کی ذمہ داریوں کی نوعیت ہے۔ انہوں نے عہدے کے قلیل مدتی مقاصد کو سنبھالنے کے لئے بھی شوق اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ اُمیدوار نے ملز کو بحال کرنے کے لئے حکومت پاکستان اور بورڈ ہیومن ریسورسز کے وژن کی حمایت کرنے کے لئے پختہ عزم کا مظاہرہ کیا۔ ان کا گہری انتظامی تجربہ ہے جو اس مشکل قومی مقصد کو انجام دینے کیلئے کام آئے گا نیز ان کا کراچی میں رابطوں کا عملی اچھا نیٹ ورک دکھائی دیتا ہے (رینجرز کے ساتھ سابقہ ​​دور کی وجہ سے)۔ اُمیدوار ماحول کی حوصلہ شکنی نہیں کرتا، وسائل اور عملی ہونے کی خواہش رکھتا ہے جس میں منصوبے کی قلیل مدتی نوعیت کو قبول کرتا ہے۔

پیریوٹی نمبر-2 کے اؐمیدوار ایم فاروق عثمان صدیقی کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ: میں ایم ایس (میٹالرجیکل انجینئرنگ) 1980، پی ایچ ڈی (میٹالرجیکل انجینئرنگل) جاپان 1987 اور پی جی ڈی بزنس ایڈمنسٹریشن 1981-82 ہے جبکہ تجربہ کے طور پر رستوی اسٹیل 2011-15 کے سی ای او، سی او او- 2015، اب تک کریسنٹ فیس انکارپوریشن 2003 کا صدر / ڈائریکٹر /      صدر، ISTIL گروپ 2009۔11 کے جی ایم، ڈونیٹسک ایم ایم زیڈ 2008-09 کا ایس وی پی، ایس وی پی اینڈ ڈائی۔ ISTIL (یوکرائن) کے چیئرمین، 2000-08، جی ایم ماسکو میٹلس روس HK 1993-96 پاکستان اسٹیل مل 1980-1993، متعلقہ قابلیت اور تجربہ پاکستان اسٹیل کا سابقہ ​​تجربہ، روسی اور یوکرین اسٹیل ملز بطور سی ای او اور ڈپٹی چیئرمین کا تجربہ شامل ہے۔

نوٹ: بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی نے لکھا کہ اُمیدوار نے مضبوط انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کیا کہ کس طرح پاکستان اسٹیل کا سابقہ ​​تجربہ رکھنے والا اور دوسرے ممالک میں اسٹیل ملز کے ساتھ کام کرنے والا بہت اچھے طریقے سے اہل امیدوار ہے۔ اُمیدوار نے ماہانہ 10 ہزار امریکی ڈالر معاوضے کی توقعات کے ساتھ پیش کش کی جو اشتہار شدہ پوسٹ کے دائرہ کار سے باہر ہے۔

پیریوٹی نمبر- 3 طارق اعجاز چودھری کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ: میں ایم ایس سی (جرائم اور سیکیورٹی) 2016، ایم ایس مارکیٹنگ 2005، مکینیکل انجینئرنگ 1990 ہے جبکہ تجربہ اب تک مختلف صنعتی منصوبوں 2017 میں مشیر، سی ای او (MP-1) انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ وزارت صنعت و پیداوار جنوری 2015 تا مارچ 2015، سی ای او (MP-1) پنجاب BIO انرجی کمپنی ایل ڈی (جنوری 2015 سے مارچ 2015)، روڈیس مشرق وسطی اور ایکسپ پروجیکٹس کے ایف بی ہولڈنگ گروپ (مارچ 2011 سے دسمبر 2014) میں بزنس ڈویلپمنٹ ہیڈ / جی ایم، بزنس ڈویلپمنٹ ٹیکنیکل ہیڈ برائے گلوبل انرجی سروسز ای ایس ٹی کنگڈم، سعودی عرب 2008-2011، جی ایم پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ لبریزول پاکستان (2003-2007)، جی ایم پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈائمنڈ گروپ (2002-03) کا غیر متعلقہ تجربہ شامل ہے۔

نوٹ: بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی نے لکھا کہ اُمیدوار کا فراہم کردہ جواب نظر میں اچھی طرح سے آتا ہے لیکن عملی طور پر کم ہے اور اس ‘کام کو انجام’ دینے کیلئے انتظامیہ کا مطلوبہ انتظامی تجربہ یا وابستگی حاصل نہیں ہے۔ اُمیدوار کے پاس کچھ انتظامی تجربہ ہوتا انہوں نے پی ایم ایس میں درپیش مسائل پر تحقیق کی ہے اور اس کے بارے میں کچھ تجویز پیش کی ہے۔ تاہم عہدے کا ‘قلیل مدتی مقصد’ حاصل کرنے کے لئے نوٹس سے متعلق مخصوص تجویز کیا گیا تھا۔

بورڈ کے فیصلے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے نتیجے میں اپنے لکھا کہ ‘بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی نے انٹرویو اور سفارشات / ترجیحی بورڈ کے ذریعہ مرتب کی اور تشخیص کے پیش نظر جو مرتب کیا ہے۔ اس معاملے کو بورڈ کے سامنے توثیق کے لئے آئندہ اجلاس میں رکھا جائے اور وزارت صنعت و پیداوار کو سی ای او پاکستان اسٹیل ملز کی جلد سے جلد تقرری کے لئے پیش کرنے سے پہلے اس کی توثیق کے لئے رکھا جائے گا۔

سات 7 اگست 2020 کو اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے ڈپٹی سیکریٹری قرۃ العین فاطمہ نے ایک سال کیلئے بریگیڈئیر ریٹائرڈ شجاح حسن کا سی ای او اسٹیل ملز کا نوٹی فیکیشن نمبر آئی/16/2020-ای-6 جاری کیا۔

اسٹیل ملز کے مسئلہ پر 18 اگست 2020 کو سینیٹ آف پاکستان میں سینیٹر سراج الحق، سینیٹرعثمان خان کاکڑ، سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری اور سینیٹر مشتاق احمد خان نے وقفہ سوالات پر پوچھا کہ اسٹیل ملز کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہوا ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کی تفصیلات کیا ہیں؟ کے سوال پر سابق وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیل ملز کو جوائنٹ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر چلانے کا آپشن بھی موجود ہے اور نجکاری پالیسی کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔

سینیٹرعثمان خان کاکڑ نے سوال کیا کہ اسٹیل ملز کا موجودہ سربراہ سلیکٹ کیا ہے جبکہ تین نام تھے اس میں ایک رشیا انجنئیر تھا اس نے پی ایچ ڈی کی تھی اور روس اور یوکرین کی اسٹیل ملز میں 14 سالہ تجربہ بھی تھا اس کو سلیکٹ نہیں کیا جو فوجی ریٹائرڈ افسر بندہ تھا اس کو سلیکٹ کیا۔ آیا کیا اس سے کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے؟ کے جواب میں سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ میرے منسٹری سنبھالنے سے پہلے پچھلے سال دسمبر میں سی ای او کی پوسٹ کو ایڈورٹائز کیا گیا تھا کیونکہ فل ٹائم سی ای او کی ہمیں ضرورت ہے مل کے اندر تاکہ پرائیوٹائزیشن کے پراسس کو آگے لیجانے کیلئے اور تمام جو کمیونیکیشن اور ایکسینج اینڈ ڈاکیومنٹس بڑی وسیع ہوتی ہے ایڈمنسٹریٹو ایشوز۔ انہوں نے مذید کہا کہ اس میں میرا خیال ہے کہ 30 کے 35 اپلیکیشن موصول ہوئیں، 5 لوگوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا، ان میں سے 3 جو تھے انٹرویو کیلئے آئے، جہاں تک میری یاداشت ہے کیونکہ یہ کوئسچن اُس سے ریلیٹ نہیں کرتا۔ اور اُن 3 کے اندر سے ایک سلیکشن کی گئی اور ‘میرٹ کے اٗوپر سلیکشن کی گئی’۔ ابھی جو شخص یہاں پر آئے گا اس مل کو چلانے کیلئے درکار نہیں ہے کیونکہ مل تو بند پڑی ہے۔ اور یہ جو ایک سال بعد نیا اسٹیک ہولڈر اندر آئے گا تو وہ نئی انوسٹمنٹ کرے گا، فریش مرمت کرے گا، اور سارا کچھ کرے گا، ابھی ایڈمنسٹریٹو ایشوز کی جو سیٹلمنٹ ہے جس میں لیبر ایشوز ہیں جس کے اندر یونین کے ایشوز ہیں، جس کے اندر اس کے ایکسینج آف ڈاکیومنٹس کے ایشوز ہیں، فلحال ہمیں اس کی درکار ہے۔ تو آئی سپوز کیوں میں بورڈ کا حصہ نہیں تھا، اس لئے میں نے اُمیدواروں کے انٹرویو نہیں کئے۔ لیکن آئی سپوز بورڈ میرا خیال ہے کہ ‘بورڈ نے جو شخص سلیکٹ کئے گئے ہیں وہ میریٹ پر ہوئے گے’۔  یہ بھی ایک ویو سامنے رکھا ہوا ہوگا کہ اس وقت اگلا ایک سال جو اسٹیل مل کا ہے وہ ‘میٹالرجیکل پوائنٹ آف ویو سے ریلاونٹ نہیں وہ ایڈمنسٹریشن کے پوائنٹ آف ویو سے ریلاونٹ ہے’۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر کی اسامی کیلئے 2 بار اشتہار تبدیل کیا گیا ہے۔ سابق چئیرمین بورڈ انجینئرعبدالجبارمیمن نے سی ای او کی اسامی کیلئے جو اشتہار دیا تھا موجودہ حکومت کے نامزد چئیرمین بورڈ عامر ممتاز نے مُسترد کرکے دوبارہ ردو بدل کے ساتھ شائع کرایا۔

پہلے 20 اگست 2019  کے اشتہار میں مطلوبہ بی ایس سی / بی ای انجینئرنگ (میٹالرجی، مکینیکل، کیمیکل، الیکٹریکل) میں ماسٹرز اور ایم بی اے کو اضافی مانگا تھا جب کہ دوسرے 3 نومبر 2019 کو دیئے گئے اشتہار میں تیکنیکی معیار کو حذف کردیا گیا اور ایک سادہ ماسٹر ان منیجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ بزنس اسٹڈیز کی درخواست ضروری تھی جبکہ عمر میں 55 سال کا نہ ہو۔ 3 نومبر 2019 کے اشتہار میں ترمیم کی گئی کہ درخواست دینے کے وقت عمر 64 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ 20 اگست 2019 کو دیئے گئے اشتہار میں سینئر عہدے پر 25 سال کا تجربہ درکار تھا۔

جبکہ دوسرے 3 نومبر 2019 کو شائع شدہ اشتہار میں اس کو مجموعی سال کا تجربہ اور سینئر پوزیشن میں صرف 7 سال کا تجربہ کیا گیا۔ مختصر طور پر 20 اگست 2019 کے اشتہار کو وزیر اعظم نے منظور نہیں کیا تھا لیکن وزارت صنعت و پیداوار اور بورڈ آف ڈائریکٹر آف پاکستان اسٹیل ملز نے منظوری دی تھی جو تیکنیکی اعتبار سے بہتر تھی۔ 3 نومبر 2019 کے ترمیم شدہ اشتہار کو کبھی بھی بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان اسٹیل ملز کی میٹنگ یا ایجنڈا میں نہیں رکھا گیا اور وزارت صنعت و پیداوار کو کبھی بھی منظوری کے لئے پیش نہیں کیا گیا۔ جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے نجکاری کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت میں اسٹیل مل بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر سید افتخار حسین نقوی نے اختلاف رائے کا نوٹ لکھا جو ریکارڈ میں موجود ہے۔ اُن کا اختلافی نوٹ یہ واضح کرتا ہے کہ 3 نومبر 2019 کو ترمیم شدہ اشتہار کبھی بھی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے منظوری کے لئے نہیں رکھا گیا تھا اور چیئرمین اور ایک ممبر پر مشتمل بورڈ کی ایک دو رکنی/ ممبر کمیٹی نے انٹرویو لیا اور ایک اُمیدوار کو منتخب کیا گیا۔ انہوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 407 ویں اجلاس کے دوران کہا تھا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کے لئے اعلی درجے کے امیدوار کی بادی النظر میں سندیں مناسب نہیں ہیں لیکن اجلاس کے منٹوں میں ان کے خیالات کو شامل نہیں کیا گیا جس کی انہوں نے بعد میں اجلاس کی نشاندہی کی۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کیلئے مناسب افراد کے معیار کے مقصد میں 3 نومبر 2019 کو دیئے گئے اشتہار کا موازنہ 20 اگست 2019 کے پہلے والے اشتہار کے ساتھ کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک منظوری کا تعلق ہے تو دونوں اشتہارات وزیر اعظم پاکستان نے منظور نہیں کیے تھے۔ وزیر اعظم کی منظوری اس لئے ضروری ہے کیونکہ وزیر اعظم نے پاکستان اسٹیل مل کی اوپن مارکیٹ میں ضرورت پر پابندی عائد کردی تھی جب تک کہ وہ منافع بخش نہ ہوجائے۔ جب تک وزیر اعظم یا اب کابینہ پیچیدہ حکم کو واپس نہیں لیتی ہے اس وقت تک پاکستان اسٹیل مل میں اوپن مارکیٹ سے کوئی تقرری نہیں کی جاسکتی ہے۔ البتہ 20 اگست 2019 کے اشتہار کو اسٹیل مل بورڈ آف ڈائریکٹرز اور وزارت صنعت و پیداوار نے منظور کیا تھا جبکہ 3 نومبر 2019 کا اشتہار نہ تو بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظور تھا اور نہ ہی وزارت صنعت و پیداوار نے اس کی منظوری دی تھی۔

وفاقی حکومت کے نجکاری کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل اور بورڈ کے ممبر کا سی ای او کے اشتہار اور تقرری پر اعتراض

وفاقی حکومت کے نجکاری کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل اوراسٹیل مل بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر سید افتخار حسین نقوی بورڈ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی اسامی کیلئے اشتہار اور سی ای او کی تقرری پر اعتراض کرتے ہوئے نوٹ لکھا کہ ‘میں نے پہلے ہی میٹنگ کے دوران اس کی نشاندہی کردی تھی اور اپنے تاثرات پیش کیے کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کے لئے اشتہار نہ تو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کے ایجنڈے میں تھا نہ ہی اس پر ‘چئیر کی اجازت کے بغیر کسی اور ایجنڈے’ کے تحت تبادلہ خیال کیا گیا تھا لہذا اس کی منظوری  کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ البتہ بورڈ کے دو ممبر کی کمیٹی جس میں چیئرمین شامل تھے ایک ممبر نے انٹرویو لیا اور ایک امیدوار کا انتخاب کیا۔ میں نے بورڈ کے 407 ویں اجلاس کے دوران یہ رائے دی تھی کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کیلئے  ٹاپ رینکڈ کے اُمیدوار کی بادی النظر میں اسناد دوسرے اُمیدواروں کی سی وی کو مدنظر رکھتے ہوئے موزوں اور مناسب نہیں ہیں۔ میں نے یہ ویو دیا تھا کہ تینوں اُمیدواروں کے ناموں کو کابینہ میں جمع کروانے کیلئے وزارت صنعت و پیداوار کو بھیجا جائے۔ میرا اپنا ویو منٹس میں شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا لیکن وہی نہیں ہیں۔ براہ کرم منٹس میں شامل کریں۔ یہ بتانا ہے کہ انتظامیہ نے وزارت صنعت و پیداوار کے ذریعے پاکستان اسٹیل ملز میں تقرریوں کے بارے میں وزیر اعظم کی ہدایت پیش نہیں کی۔ میں اس خط / ہدایت کی ایک کاپی منسلک کر رہا ہوں جس کو بورڈ کے ممبروں کے سامنے غیرمعلوم فیصلہ لینے کے لئے رکھنا ضروری ہے’۔

بریگیڈئیر ریٹائرڈ شجاح حسن نے آرمی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کام کے تجربہ میں اپنی پروفیشنل لنکڈن سی وی کے تعارف میں السید ہائوسنگ سوسائٹی کے سی ای او کا تجربہ لکھا ہے جو ان سب حقائق کی تصدیق کرتا ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے گورنمنٹ کمرشل آڈٹ شعبے نے سال 2019-2020 کے دوران اعتراض کیا ہے۔

اس معاملے پر 22 دسمبر 2020 کو ہونے والے پری ڈیپارٹمنٹس آکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں غور کیا گیا۔ ڈی پی نمبر507 کے کنٹرول نمبر 782 کے مطابق مینجمنٹ نے بتایا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیل ملز کی تقرری کے لئے کوئی طے شدہ معیار موجود نہیں ہے۔ فوری معاملہ، تمام کوڈل رسمی رواجوں کی تعمیل کی جارہی ہے۔ مزید یہ کہ خدمات موثر انتظام کی بجائے پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری کے لئے تقرری تھیں۔ آڈٹ نے اعتراض میں کہا کہ مذکورہ تقرری اشتہار میں مقررہ معیار کے مطابق نہیں کی گئی تھی۔ اضافی طور پر اشتہار کے مطابق تقرری نجکاری کے بجائے پاکستان اسٹیل مل چلانے کے لئے کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کمرشل آڈٹ نے ہدایت دی کہ وزارت اس معاملے کو قواعد و ضوابط کی روشنی میں دیکھے اور اس سلسلے میں رپورٹ پیش کرے۔

دی پاکستان اُردو کے پاس سرکاری دستاویزات میں انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن اور ڈی اے سی (ڈیپارٹمنٹ اکاؤنٹس کمیٹی) میٹنگ پی ڈی پیز کو اے آر پی ایس ای 2020-21 کے منٹس کے مطابق ڈیپارٹمنٹ اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کا اجلاس 15 اور 16 جنوری 2021 کو پی آئی ڈی سی ہیڈ آفس کراچی میں سیکریٹری صنعت و پیداوار افضل لطیف کی زیر صدارت ہوا۔ زرائع کے مطابق جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کو سیٹلمنٹ کے زریعے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس معاملے کی انتظامیہ کو اطلاع دی گئی تھی لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

آڈٹ کا اعتراض ہے کہ پاکستان اسٹیل انتظامیہ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کی ہے جس کے پاس نہ تو کوئی متعلقہ تجربہ ہے اور نہ ہی وہ کسی اسٹیل مینوفیکچرنگ کمپنی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے کام کرتا ہے جبکہ انتظامیہ نے انٹرویو میں پیش ہونے والے مذکورہ 03 درخواست دہندگان سے متعلقہ تجربے سے درخواست گزاروں کو نظرانداز کیا ہے۔ آڈٹ سے پتہ چلتا ہے کہ انتظامیہ کو چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کا جواز پیش کرنا چاہئے جس کے پاس متعلقہ تجربہ نہیں ہے اس کے علاوہ آڈٹ کے اطلاع کے تحت غلطی پر شخص (فرد) پر ذمہ داری طے کرنا بھی ضروری ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری بے بنیاد/ غیر قانونی تھی کیونکہ اسے اسٹیل انڈسٹریز میں مہارت حاصل نہیں تھی۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاع حسن کو اسٹیل ملز سے متعلق تجربہ کار کے حامل محمد فاروق عثمان پر ترجیح دے کر غیر قانونی تقرر کیا گیا۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری پاکستان اسٹیل آفیسرز رولز کے رُول 2.1 کی خلاف ورزی ہے جس میں پاکستان اسٹیل میں ڈائریکٹر کی تقرری کے معیار کی وضاحت کی گئی ہے۔ تقرری میں بالائی عمر کی حد 50 سال، متعلقہ نظم و ضبط میں کم سے کم قابلیت انجینئرنگ ڈگری (میٹالرجیکل) اور متعلقہ فیلڈ میں 15-20 سال کا مطلوبہ تجربہ کی خلاف ورزی ہے۔ جوکہ پبلک سیکٹر کمپنیوں (کارپوریٹ گورننس رولز) 2013 کے رُول اے 2: ‘ساؤنڈ اینڈ پروڈینٹ مینجمنٹ’ کے معیار کی خلاف ورزی ہے کیونکہ وہ اس میں مخصوص افراد اور مناسب افراد کے معیار پر پورا نہیں اترتا ہے۔ نیز پبلک سیکٹر کمپنیوں (چیف ایگزیکٹو کی تقرری) ہدایت نامہ 2015 کی بھی خلاف ورزی ہے۔ مذکورہ رہنما خطوط کے “اہلیت اور اہلیت کی ضرورت” کے مطابق ‘پبلک سیکٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے تقرری کے لئے فٹ اور مناسب معیار کے ضابطہ 1،2 اور 3 کے مطابق “قابلیت اور قابلیت: اس شخص کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس کے پاس متعلقہ ملکیت ہے۔ قابلیت، تجربہ اور کاروبار کی فنی ضرورت کو سمجھنے کی صلاحیت موجود ہو۔ ایک چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اپنے کردار کو مؤثر طریقے سے ادا کرنے کے لئے موروثی خطرات اور انتظامی عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز، پاکستان اسٹیل کی جانب سے بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کے لئے جو جائزہ لیا گیا ہے وہ پبلک سیکٹر کمپنیوں (چیف ایگزیکٹو کی تقرری) ہدایت نامہ 2015 کی خلاف ورزی ہے۔ جیسا کہ پاکستان اسٹیل ملز بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 16 جنوری 2020 کے 407 ویں اجلاس میں اس بات کی تصدیق کی جاسکتی ہے کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن کو ترجیح نمبر 1 جبکہ ڈاکٹر محمد فاروق عثمان صدیقی کو ترجیحی نمبر 2 کے طور پر تجویز کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسٹیل انڈسٹری میں 40 سال کا تجربہ رکھنے والے میٹالرجی میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر آف انجینئرنگ کو بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن کے مقابلے میں ترجیح نمبر 2 کے طور پر رکھا گیا تھا جو پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد ہائوسنگ سوسائٹی کا تجربہ رکھتے ہیں۔

پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر ڈائریکٹر (اے اینڈ پی) لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور جنرل منیجر (سیکیورٹی) کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کی غیرقانونی تقرریاں

دی پاکستان اُردو کے پاس دستیاب سرکاری دستاویزات انکشاف کرتی ہیں کہ پاکستان اسٹیل مل کے 405 ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس 31 اکتوبر 2019 کو وزارت صنعت و پیداوار سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ہوا۔

 پاکستان اسٹیل ملز بورڈ آف ڈائریکٹر کی میٹنگ میں عامر ممتاز نئے پاکستان اسٹیل ملز بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیرمین منتخب ہوئے اور اسٹیل ملز میں سیکیورٹی اور ایڈمنسٹریشن کی ضرورت کے تحت کامیابی سے چلانے کیلئے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان کا تعارف کرواتے ہیں۔ تعارف کے بعد بورڈ کے سامنے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان کو بلانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ‘میں نے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرد طارق خان جوکہ انتظامیہ اور سیکیورٹی امور کا کافی تجربہ رکھتے ہیں کو پاکستان اسٹیل مل میں دورے کے سلسلے کیلئے دعوت دی ہے وہ پاکستان اسٹیل مل کے انتظامیہ اور سیکیورٹی کے محکموں کے موجودہ سیٹ اپ کا جائزہ اور ان کی گہرائیوں کی نشاندہی کریں گے۔ انہوں نے میری دعوت قبول کرلی ہے اور چار ہفتوں تک بغیر کسی معاوضے کے پاکستان اسٹیل مل میں گزاریں گے تاکہ وہ اپنی رپورٹ بنائیں اور بورڈ کے سامنے پیش کریں’۔

اکتیس 31 اکتوبر 2019 کو ہی پاکستان اسٹیل ملز بورڈ آف ڈائریکٹرز (کے چئیرمین) لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کے ساتھ اسٹیل ملز کے ایڈمنسٹریشن اور سیکیورٹی کے مسائل پر پریزینٹیشن کیلئے بلاتے ہیں اس کے مطابق دونوں ‘سیکیورٹی ایکسپرٹ’ اپنی سی وی پہلے ہی بورڈ کی میٹنگ میں جمع کروا دیتے ہیں۔

چئیرمین بورڈ عامر ممتاز نے پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (پی ای او) اور جنرل منیجر (سیکیورٹی) کے عہدے کی تقرری کیلئے دونوں کے نام تجویز کیے جو ملز کی بحالی کے لئے ضروری ہیں لیکن بورڈ کے ایک ممبر سید افتخار حسین نقوی نے اعتراض کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ یہ بہتر ہوگا باقاعدہ ایڈورٹائزمنٹ کے عمل کے ذریعے ان دو نئے لوگوں کو لینا چاہئے جس کی کیپٹن ریٹائرڈ شیر عالم محسود نے افتخار نقوی کی رائے کی تائید کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ہمیں اشتہار کے ذریعہ فاسٹ ٹریک کی بنیاد پر ان دو اہم عہدوں کے لئے موزوں لوگوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئے۔ بورڈ کے تمام افراد نے اس پروپوزل کی توثیق کی اور ذیل میں یہ قرار دیا گیا کہ ‘پاکستان اسٹیل مل انتظامیہ کو کوڈل رسمی مراحل کی تکمیل کے پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (انتظامیہ) اور جنرل منیجر (سیکیورٹی) کے عہدے کے اشتہار کے ذریعے ایک سال کے معاہدے کی بنیاد پر بھرتی کرنے کی اجازت ہے’۔

پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان کی غیر قانونی تقرری

اے/ ڈی جی ایم- انچارج اے اینڈ پی ریاض حسین منگی نے بورڈ کی میٹنگ میں آگاہ کیا ہے کہ یکم دسمبر اتوار 2019 کو ملک کے بڑے اخبارات میں پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) کیلئے اشتہار شائع ہوا اور 26 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ 14 جنوری 2019 کو بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی نے اشتہار کے پیرا میٹرز اور معیار کے مطابق 7 اُمیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا، پاکستان اسٹیل مل زونل آفس کراچی میں انٹرویو کیلئے بلایا جس میں 6 اُمیدوار انٹرویو کیلئے آئے۔ انٹرویو کے بعد بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی نے 3 اُمیدواروں کو ترجیح کے لحاظ سے ‘پیرویٹی لسٹ’ میں شامل کرنے کی سفارش کی جس میں پہلے نمبرپر لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان دوسرے پر لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ راحت شہباز اور تیسرے نمبر پر کرنل ریٹائرڈ ہاشم علی خان کو رکھا گیا تھا۔

اسی مناسبت سے یہ معاملہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی کے زریعہ دی جانے والی سفارش کے بارے میں غوروفکر اور توثیق کے لئے رکھا گیا تاکہ سی ای او پاکستان اسٹیل ملز کے زریعہ باظابطہ منظوری کرنے کے بعد امیدوار نمبر 1 لیفیٹننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان کو بطور پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) تقرری ہوسکے۔

بورڈ نے فیصلہ کیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی کی سفارشات کی تفصیلی چانج پڑتال کے بعد لکھا کہ “بورڈ نے پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) کی تقرری کے لئے اختیار کردہ معیار کی تائید کی اور اُمیدواروں کی شارٹ لسٹ کی، اُمیدواروں کی ترجیحی اور شارٹ لسٹنگ کے بارے میں بورڈ کی ہیومن ریسورسز کمیٹی کی سفارشات سے اتفاق کیا۔

بورڈ نے پاکستان اسٹیل مل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ترجیحی نمبر 1 یعنی لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان کو پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمن اینڈ پرسنل) کے عہدے کے لئے امیدوار کو 01 سالہ مدت کے معاہدہ کی بنیاد پر ایک ماہ کے فارغ نوٹس کے ساتھ مقرر کریں۔

یکم دسمبر اتوار 2019 کو ملک کے بڑے اخبارات میں پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) کیلئے اشتہار شائع ہوا۔ اشتہار میں تعلیمی قابلیت اور تجربہ میں اشتہار کی تاریخ تک، بالائی عمر کی حد 65 سال ایم پی اے/ ایم بی اے کے ساتھ افراد اضافی قابلیت کے حامل ہوں گے، مسلح افواج کے لیفٹیننٹ کرنل/ کرنل کے رینک کے افراد زیر غور لائے جائیں گے۔

ٹاپ پیریوٹی نمبر-1 کے اُمیدوار لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان: کی تعلیمی قابلیت میں برن حال، ایبٹ آباد میں 1966-1973 تک تعلیمی سلسلے میں رہے۔ اے لیول فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا اور ایم بی اے مارکیٹنگ، ایچ آر میں کیا ہے۔ آرمی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد تجربہ میں 2009 سے پاکستان ٹوبیکو کمپنی لمیٹڈ اسلام آباد میں کنٹری سیکیورٹی منیجر کے طور پر کام کیا جب کہ بیٹ بریٹش امریکن ٹوبیکو کمپنی پاکستان میں بھی کنٹری سیکیورٹی منیجر کے طور پر کام کیا اور کام میں انوسٹی گیشن اور فراڈ پریونشن کرتے رہے اور اب غیر قانونی طور پر پاکستان اسٹیل ملز میں پی ای او (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) کے طور پر مسلط ہیں۔

اشتہار میں تعلیمی قابلیت اور تجربہ کی روشنی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق کے پروفیشنل لنکڈن میں تعلیمی قابلیت ایم بی اے مارکیٹنگ، ایچ آر لکھا ہوا ہے اور جبکہ ملٹی نیشنل کمپنی میں بطور سیکیورٹی مینجر اور ایچ آر لکھا ہوا ہے جس میں تقریبا 11 سال کا تجربہ بنتا ہے۔ موصوف خود لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔

کرنل ریٹائرڈ طارق خان پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) پبلک سیکٹر کمپنیوں (کارپوریٹ گورننس رولز) 2013 کے قاعدہ 2 اے: ‘انتطامیہ کے نظم و نسق کے معیارات’ کے تحت ہدایت کار کی تقرری کے لئے ‘مناسب اور مناسب شخصی معیار’ پر پورا نہیں اترتے ہیں۔ کرنل ریٹائرڈ طارق خان پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) کی سی وی میں عمر زیادہ ہے اور اسٹیل انڈسٹری میں ان کی کوئی اہلیت یا تجربہ نہیں ہے۔

جنرل منیجر (سیکیورٹی) کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کی غیر قانونی تقرری

اے/ ڈی جی ایم- انچارج اے اینڈ پی ریاض حسین منگی نے بورڈ کی میٹنگ میں آگاہ کیا ہے کہ یکم دسمبر اتوار 2019 کو ملک کے بڑے اخبارات میں جنرل منیجر (سیکیورٹی) کیلئے اشتہار شائع ہوا اور 29 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ 14 جنوری 2019 کو بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی نے اشتہار کے پیرا میٹرز اور معیار کے مطابق 7 اُمیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا، پاکستان اسٹیل مل زونل آفس کراچی میں انٹرویو کیلئے بلایا جس میں صرف 5 اُمیدوار انٹرویو کیلئے آئے۔ انٹرویو کے بعد بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی نے 3 اُمیدواروں کو ترجیح کے لحاظ سے ‘پیرویٹی لسٹ’ میں شامل کرنے کی سفارش کی۔ پیریوٹی لسٹ میں پہلے نمبرپر کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی، دوسرے نمبر لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ سید واجد حسین جبکہ تیسرے نمبر پر لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ یاسرعمیر کو رکھا گیا تھا۔

اسی مناسبت سے یہ معاملہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی کے زریعہ دی جانے والی سفارش کے بارے میں غوروفکر اور توثیق کے لئے رکھا گیا تھا تاکہ سی ای او پاکستان اسٹیل ملز کے زریعہ باظابطہ منظوری کرنے کے بعد امیدوار نمبر 1 کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کی بطور جنرل منیجر (سیکیورٹی) تقرری ہوسکے۔ 

بورڈ نے فیصلہ کیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بورڈ ہیومن ریسورسز کمیٹی کی سفارشات کی تفصیلی چانج پڑتال کے بعد لکھا کہ “بورڈ نے جنرل منیجر (سیکیورٹی) کی تقرری کے لئے اختیار کردہ معیار کی تائید کی اور اُمیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا، اُمیدواروں کی ترجیحی اور شارٹ لسٹنگ کے بارے میں بورڈ کی ہیومن ریسورسز کمیٹی کی سفارشات سے اتفاق کیا۔

بورڈ نے اسٹیل مل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ترجیحی نمبر 1 یعنی کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کو جنرل منیجر (سیکیورٹی) کے عہدے کے لئے 01 سالہ مدت کے لئے معاہدہ کی بنیاد پرایک ماہ کے فارغ نوٹس کے ساتھ مقرر کریں۔

ٹاپ پیریوٹی نمبر-1 کے اُمیدوار کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی: کی تعلیمی قابلیت علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے بیچلر/گریجویشن ڈگری ہے اور تجربہ کے لحاظ سے پاکستان آرمی میں جنوری 1988 سے دسمبر 1999 تک 12 سال سروس سے کیپٹن ریٹائرڈ، ایس ایم ایس (سیکیورٹی اینڈ مینجمنٹ سروس) میں اسسٹنٹ وائس پریزیڈنٹ آپریشن کی حیثیت میں یو ایس ایمبیسی اسلام آباد میں پوسٹ کمانڈ پر جنوری 2001 سے دسمبر2001 رہا، یو ایس ایمبیسی اسلام آباد سیکیورٹی آفس میں 2001 سے 2018 تک 17 سال سینئیر ایف ایس این آئی/ ایڈوائزر (مجرمانہ اور مالیاتی فراڈ سے متعلقہ انوسٹی گیشن)، رامادا اسلام آباد جنوری 2019 سے مئی 2019 تک چیف سیکیورٹی آفسیر، مرگلہ ہوٹل اسلام آباد جنوری 2019 سے فروری 2020 تک 12 ماہ چیف سیکیورٹی آفیسر اور اب غیر قانونی پاکستان اسٹیل ملز کراچی میں جنوری 2020 سے ایک سال ماہ 4 سے جنرل منیجر سیکیورٹی اینڈ پروٹوکول ہے۔

یکم دسمبر اتوار 2019 کو ملک کے بڑے اخبارات میں جنرل منیجر (سیکیورٹی) کیلئے اشتہار شائع ہوا۔ اشتہار میں تعلیمی قابلیت اور تجربہ میں اشتہار کی تاریخ تک بالا اسامی کیلئے بالائی عمر کی حد 60 سال ترجیحا اچھے ریکارڈ کے ساتھ ریٹائرڈ آرمی آفیسر، ایک منظور شدہ یونی ورسٹی سے کم از کم گریجویٹ، ملٹی نیشنل یا ایک فارن ایمبسی کے ساتھ سیکیورٹی تجربہ ایک اضافی قابلیت ہوگا، مجرمانہ اور مالیاتی فراڈ سے متعلقہ انوسٹی گیشنز کا کم از کم 10 سالہ تجربہ، سیکیورٹی پر پرسونل تربیت کا تجربہ ہو۔

جنرل منیجر سیکیورٹی کی پوسٹ کے اشتہار میں خاص طور تعلیمی قابلیت میں گریجویٹ شامل کیا گیا کیونکہ کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہے جبکہ سیکیورٹی تجربہ میں ملٹی نیشنل اور فارن ایمبسی کا تجربہ شامل گیا۔ دس سال مجرمانہ اور مالیاتی فراڈ سے متعلقہ انوسٹی گیشنز کا کم از کم 10 سالہ تجربہ کو اشتہار میں شامل کیا گیا جس کی وجہ متعلقہ غیر قانونی بھرتی بابر برنارڈ میسی کا یو ایس ایمبسی اسلام آباد میں تقریبا 17 سالہ سیکیورٹی کمپنی ایس ایم ایس کے زریعے تجربہ، 10 سال مجرمانہ اور مالیاتی فراڈ سے متعلقہ انوسٹی گیشنز کے حوالے سے کام کا تجربہ تھا۔

جنرل منیجر سیکیورٹی بابر برنارڈ میسی نے خود اپنی پر لکنڈن پروفیشنل سی وی میں سیکیورٹی انوسٹی گیشن اینڈ ایڈمن اسپیشلسٹ انٹرل اور ایکسٹرنل انوسٹی گیشن اور یونائیٹڈ اسٹیٹ یو ایس ایمبیسی میں کام کا پروفیشنل تعارف لکھا ہے۔ جو کہ ان سب حقائق کی تصدیق کرتا ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے گورنمنٹ کمرشل آڈٹ شعبے نے بھی سال 2019-2020 کے دوران مذکورہ دونوں افسران پی ای او اور جنرل منیجر کی تقرریوں کے بارے میں اعتراض اُٹھایا ہے۔

22 دسمبر 2020 کو ڈائریکٹر جنرل کمرشل آڈٹ کراچی (ڈی جی سی اے) کے آفس میں ان غیر قانونی تقرریوں کے معاملہ پر تفصیل کے ساتھ پری ڈیپارٹمنٹس آکائونٹس کمیٹی (ڈی اے سی) اجلاس میں غور کیا گیا۔ ڈی پی نمبر498 کے کنٹرول نمبر 773 کے مطابق انتظامیہ نے بتایا کہ تقرریوں کو سیکیورٹی کی موجودہ حالت پر غور کیا گیا ہے اور ہیومن ریسورس پالیسی میں معیار کو تبدیل کیا گیا ہے۔ آڈٹ کا موقف تھا کہ یہ تقرریاں پاکستان اسٹیل مل کے سروس رولز اور میرٹ کے خلاف دونوں افسران کے اشتہار کے تجربے کی خلاف ورزی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل کمرشل آڈٹ نے وزارت صنعت و پیداوار کو اسٹیل مل میں مذکورہ غیر قانونی تقرریوں پر وزارتی سطح کی تحقیقات/ انکوائری کی ہدایت کی تاکہ پاکستان اسٹیل مل کی مالی رکاوٹوں پر غور کرتے ہوئے اُمیدوار کی مناسب اہلیت کا پتہ لگائیں۔

دی پاکستان اُردو کے پاس سرکاری دستاویزات میں انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن اور ڈی اے سی (ڈیپارٹمنٹس اکاؤنٹس کمیٹی) میٹنگ پی ڈی پیز کو اے آر پی ایس ای 2020-21 کے منٹس کے مطابق ڈیپارٹمنٹ اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کا اجلاس 15 اور 16 جنوری 2021 کو پی آئی ڈی سی ہیڈ آفس کراچی میں سیکریٹری صنعت و پیداوار افضل لطیف کی زیر صدارت ہوا۔

ڈیپارٹمنٹس اکاؤنٹس کمیٹی نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ صورتحال کی حقیقت کی تصدیق کرے اور آڈٹ کا حکم دے۔ اس معاملے کی انتظامیہ کو رپورٹ دی گئی تھی لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ بظاہر یہ وزارت صنعت و پیداوار کی زیر صدارت اجلاس سوائے اپنی ہی کی گئی غیر قانونی تقریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔

پاکستان اسٹیل مل کے سال 2019۔20 کے آڈٹ میں دیکھا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کو ایک سال کے لئے کانٹریکٹ کی بنیاد پر بالترتیب پرسنل ایگزیکٹو آفیسر(ایڈمن اینڈ پرسنل) اور جنرل منیجر (سیکیورٹی) کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔

اے ڈی جی ایم انچارج اے اینڈ پی اور بورڈ ہیومن ریسورس کمیٹی کے سیکریٹری ریاض حسین منگی نے ایک سالہ کانٹریکٹ پر 22 جنوری 2020 کو لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان کا پی ای او اے اینڈ پی کا لیٹر نمبر اے & پی-20-سی پی & ایچ آر/2020/پی6565 اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کا جنرل منیجر سیکیورٹی کیلئے لیٹر نمبر اے & پی-20-سی پی & ایچ آر/2020/پی6566 جاری کیا۔ ان کے ایک سالہ مراعات کی تفصیل کو اس پیرا گراف 2019-20 کے تحت سمجھا جاسکتا ہے۔

آڈٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ان افسران کی تقرریاں فیورٹزم اور میرٹ کے خلاف کی گئی ہیں کیونکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 405 ویں اجلاس میں افسران کی تقرریوں کا پہلے سے فیصلہ کیا گیا تھا اور یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ تقرریوں کو میرٹ پر کیا گیا، کوڈل رسمی مراحل مکمل ہوگئے تھے۔ آڈٹ کی اطلاع کے تحت ذمہ داری طے کرنے کے علاوہ اس معاملے کا جواز بھی ہوسکتا ہے۔

اُوپر بورڈ آف ڈائریکٹرز میٹنگ میں تجویز کیا گیا ہے اور کوڈل کی باضابطہ تکمیل ہوئی تھی یعنی اشتہار یکم دسمبر 2019 کو شائع ہوا تھا۔ 26 اور 29 اُمیدواروں کی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے ہر عہدے کے لئے 07 اُمیدواروں کو بالترتیب پرسنل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمن اینڈ پرسنل) اور جنرل منیجر (سیکیورٹی) کے عہدے کے لئے انٹرویو کے لئے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ تاہم مذکورہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے منٹس میں مذکورہ دونوں ‘سیکیورٹی ایکسپرٹ’ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کا ذکر/ انتخاب ان عہدوں کے لئے کیا گیا جو پہلے ہی پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) اور جنرل منیجر سیکیورٹی کی پوسٹوں کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں شریک تھے۔

گزشتہ سال 22 جنوری 2020 کو کرنل ریٹائرڈ طارق پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی مذکورہ عہدوں پر یکم دسمبر 2019 کے اشتہار کے مطابق مقرر ہوئے تھے۔ ان کی تقرری پاکستان اسٹیل آفیسرز سروسز رولز کے رول 2.1 کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں پاکستان اسٹیل میں ڈائریکٹر اور جنرل منیجر کی تقرری کے معیار کی وضاحت کی گئی ہے کیونکہ ان دونوں کی عمر 50 سال سے زائد ہے۔ اس سے قبل اشتہار کی تاریخ یکم دسمبر 2019 سے قبل کرنل ریٹائرڈ طارق پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی نے 31 اکتوبر 2019 کے 405 اجلاس میں انتظامیہ اور سیکیورٹی کے ماہرین کی حیثیت سے پاکستان اسٹیل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ مذکورہ دونوں افراد نے بغیر کسی اختیار کے ناجائز اورغیر قانونی طور پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں نام نہاد ماہرین کی حیثیت سے شرکت کی اور اس طرح کی شرکت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کرنل ریٹائرڈ طارق پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی پہلے سے ہی ان پوسٹوں کیلئے منتخب ہوچکے تھے۔

 ایسوسی ایشن آف پاکستان اسٹیل مل کے آرٹیکل 161 کے مطابق ‘کوئی دوسرا ممبر یا کسی دوسرے فرد کا کوئی ممبر (ناہی کوئی ڈائریکٹر ہونے کے ناطے) کارپوریشن کی پراپرٹی میں داخل ہونے یا کارپوریشن کے ڈائریکٹرز کی اجازت کے بغیر کارپوریشن کی پراپرٹی کے احاطے کا معائنہ کرنے کا حقدار نہیں ہوگا، یا ضرورت پڑنے کے بعد اس معاملے پر کارپوریشن کی تجارت کی کسی بھی تفصیل کا احترام کرنے والی یا کسی بھی معلومات کی دریافت جو تجارتی راز کی نوعیت میں ہو یا ہو سکتی ہے۔ اسرار تجارت یا خفیہ عمل یا کسی بھی معاملے سے جو کارپوریشن کے کاروبار کے چلانے سے متعلق ہو اور جو ڈائریکٹر کی رائے میں ناتجربہ کار ہوگا۔ لہذا بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین نے کرنل ریٹائرڈ طارق پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) کو چار ہفتوں کے لئے پاکستان اسٹیل کی جانچ پڑتال کرنے کی دعوت دے کر رازداری کے مذکورہ آرٹیکل کی خلاف ورزی کی ہے جیسا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اجازت کے بغیر سابقہ ​​پیراگراف میں بتایا گیا ہے۔

کوئی بھی عام فہم پاکستانی اس سے اتفاق نہیں کرسکتا کہ 31 اکتوبر 2019 کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 405 اجلاس کے منٹس میں پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) جنہوں نے چار ہفتے پاکستان اسٹیل مل میں گزار پریزنٹیشن بنائی اور یکم دسمبر 2019 کے اشتہار سے قبل بورڈ کے اجلاس میں پیش کردی ہو۔ اس کے بعد پاکستان اسٹیل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 16 جنوری 2020 کے 407 ویں اجلاس کے منٹس کے مطابق شارٹ لسٹ اور تقرری کی گئی۔ یہ ثبوت پاکستان اسٹیل مل بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 405 ویں اور 407 ویں اجلاس کے ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ یکم دسمبر 2019 کی تاریخ کا پورا عمل اور اشتہار سرکاری خزانے کے ساتھ محض شرمناک اور دھوکہ دہی تھا۔

دی پاکستان اُردو کا نومبر 2019 میں لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان سے اسائنمنٹ کے دوران گیسٹ ہائوس اسٹیل ٹائون میں رابطہ

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے قریب مانے جانے والے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان پی ای او ڈائریکٹر اے اینڈ پی آفیسر اپنی سلیکٹڈ تعیناتی سے قبل سال 2019 نومبر میں ایک ماہ سے زائد اسٹیل مل کے گیسٹ ہائوس میں سرکاری مہمان کے طور پر مقیم رہے اور رپورٹر نے دو بار ( موبائل اور گیسٹ ہائوس رسیپشن کے فون سے رابطہ کرکے) ملنے کی کوشش کی جس پر طارق خان نے کہا کہ میں دن بھر اسٹیل ملز میں ہوتا ہوں اور بہت تھکا ہوتا ہوں اور ملنے سے معذرت کرتے رہے۔

زرائع کے مطابق اسٹیل ملز میں پی ای او کی تقرری اور عہدے کے بغیر لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اسٹیل ملز میں اسائنمنٹ کے دوران آپریشن بلڈنگ کے چوتھے فلور پر انچارج اے اینڈ پی ریاض حسین منگی کے آفس میں اسٹیل ملز کے تمام ڈیپارٹمنٹس کے ہیڈ کو بلانا شروع کیا اور انٹرویو لینے شروع کردیئے جس پر کچھ پیشہ ورانہ ڈیپارٹمنٹس کے ہیڈ نے اعتراض کیا اور پوچھا یہ کون ہیں کس حیثیت میں بلا رہے ہیں جس پر بتایا گیا کہ ان کو بورڈ کے نئے چئیرمین عامر ممتاز کے کہنے پر بلایا جارہا ہے۔ اس چار ہفتے کے دوران ادارے کے تمام تر وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اسٹیل مل کے انتظامی معاملات میں براہ راست مداخلت کرتے رہے بلکہ مختلف انتظامی یونٹس بشمول مکلی جھمپیر کے سربراہان سے میٹنگز کرکے ہدایات بھی جاری کرتے رہے۔

زرائع کے مطابق پاکستان اسٹیل مل زونل آفس کراچی میں لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور بابر برنارڈ میسی پی ای او اور جنرل منیجر سیکیورٹی کا سلیکٹڈ انٹرویو دینے کے بعد پرائیویٹ کار سے سیدھا اسٹیل ٹائون گیسٹ ہائوس پہنچے جہاں پر اس وقت کے انچارج گیسٹ ہائوس نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی نے تقریبا ایک گھنٹے تک اسٹیل ٹائون میں آفیسر کلب، قائد اعظم پارک، کرکٹ اور گرائونڈز اور مارکیٹس کا دورہ کیا۔

ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کے سامنے انتظامیہ اسٹیل ملز کے افسران کی صفائیاں

زرائع کے مطابق 22 دسمبر 2020 کو ڈائریکٹر جنرل آڈٹ نے انچارج اے اینڈ پی ریاض حسین منگی سے سوال کیا کہ سی ای او، پی ای او اور جی ایم سیکیورٹی تینوں کو سروس رُول کے مطابق رکھا ہے؟ جس پر انچارج اے اینڈ پی ریاض منگی نے جواب میں کہا کہ ‘سر مجھے یاد نہیں’ پھر کہا کہ ہاں سر ان تینوں کو سروس رُول کے مطابق رکھا ہے، جس پر ڈائریکٹر جنرل آڈٹ نے کہا کہ پہلے سروس رُول کدھر ہیں لے کر آئیں اور دکھائیں جس پر ریاض منگی نے کہا سر وہ میں لے کر نہیں آیا۔

ڈائریکٹر جنرل آڈٹ نے دوسرا سوال کیا کہ ان کو عمر سے زائد کیوں رکھا ہے؟۔ جس پر انچارج اے اینڈ پی ریاض منگی نے بعد میں مانا جی سر ان کو سروس رُول کے خلاف اور عمر سے زائد رکھا ہے کیوں کہ ان کی پروفائل بہت اچھی تھی۔

سی ایف او عارف شیخ نے مذکورہ تینوں تقرریوں کے حق میں تعریفی دلائل کی روشنی میں صفائی دیتے ہوئے  ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کو بتایا کہ ان تینوں کے آنے سے اسٹیل ملز کو کروڑوں روپے کا فائدہ ہوا، ہم نے 4 ہزار ملازمین نکالے ہیں اور بھی مذید نکالیں گے اور 35 کروڑ روپے کے بجائے اب 16 کروڑ روپے ملازمین کو دے رہے ہیں۔

15 جنوری 2021 کو دوسرے آڈٹ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آڈٹ نے سابق سیکریٹری صنعت و پیداوار افضل لطیف سے سوال کیا کہ سی ای او کو اسٹیل ملز چلانے کیلئے اخبار میں اشتہار دیا تھا مگر آپ تو نجکاری کیلئے ان کی خدمات لے رہے ہیں۔ جس پر سیکریٹری پیداوار ندیم افضال نے جواب میں کہا کہ اس سی ای او پر اعتراض نہ کریں ان سے ہم نے کام لینا ہے۔ سیکریٹری پیداوار نے مذید کہا کہ ‘سی ای او نے بتایا ہے کہ اگر میں سی ای او یہاں کام کرگیا تو کامیاب ہونگا ورنہ یہاں کوئی سی ای او کامیاب نہیں ہوگا اور وہ چھوڑ جائے گا آتا جاتا رہے گا۔ ملازمین نے سی ای او کو ہوسٹیج بنایا ہوا ہے مگر وہ استعفی نہیں دے رہے۔ (اس وقت اسٹیل ملز جبری برطرف ملازمین کا احتجاجی دھرنا کئی دنوں سے جاری تھا)۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز، انتظامیہ اسٹیل ملز، سابق سیکریٹری صنعت و پیداوار کا موقف

دی پاکستان اُردو نے بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن چیف ایگزیکیٹو آفیسر، کرنل ریٹائرڈ طارق خان پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی جنرل منیجر سیکیورٹی کی غیر قانونی تقرریوں پر چئیرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان اسٹیل ملز عامر ممتاز، اے ڈی جی ایم انچارج (اے اینڈ پی) سیکریٹری ہیومن ریسورس کمیٹی (بورڈ آف ڈائریکٹرز) ریاض حسین منگی، سابق سیکریٹری صنعت و پیداوار افضل لطیف اور ڈائریکٹر فنائنس اسٹیل ملز عارف شیخ سے سرکاری دستاویزات اور ذرائع سے حاصل انفارمیشن کی روشنی میں موقف لینے کیلئے مختلف سوالات بھیجے تاہم جن میں سے صرف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیرمین عامر ممتاز نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم ان کا بورڈ میں جواب دیں گے’۔

مذکورہ اہم عہدوں پر پاکستان اسٹیل مل کارپوریشن میں حالیہ تقرریاں غیر قانونی، غیر آئینی، غیر منطقی اور غیر منصفانہ ہے اور پاکستان اسٹیل آفیسرز سروس رولز اور ضوابط، پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 اور پبلک سیکٹر کمپنیاں (چیف ایگزیکٹو کی تقرری) کی گائیڈ لائنز 2015 کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ مذکورہ اشتہار بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن چیف ایگزیکٹو آفیسر، کرنل ریٹائرڈ طارق خان پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی جنرل منیجر سیکیورٹی کی تقرریوں کے لئے اپنی مرضی کے مطابق اشتہار تھے۔ یہ مخصوص شخصی اشتہار تھے جو بھرتی میں توڑ پھوڑ کرنے کے ساتھ منتخب ہونے والی ٹیم کی بڑے مقصد کیلئے تقرری کرتے ہیں۔

سی ای او، پی ای او اور جنرل منیجر سیکیورٹی کی بھرتی کےعمل میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرف سے میرٹ پر سمھجوتہ کیا گیا ہے اور وزارت صنعت و پیداوار نے مطلوبہ تجربہ اور اہم ترین شرط پر پورا نہ اُترنے کے باجود بریگیڈئیر ریٹائرڈ شجاح حسن کو ایک سالہ کانٹریکٹ پر سی ای او پاکستان اسٹیل تعینات کرنے کی منظوری دی۔ بریگیڈئیر ریٹائرڈ شجاح حسن سے بہتر تجربے کے حامل اُمیدواروں کا انٹرویو بھی نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان اسٹیل ملز میں بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر پر کام کرنے کی اہم ترین شرط پر بھی سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ ملک کے سب بڑے فولاد ساز ادارے میں سی ای او کی تعیناتی بالا آخر میرٹ سے ہٹ کر کیوں کی گئی؟۔

پاکستان اسٹیل ملز ایڈہاک ازم پر چل رہی تھی اور اس کو چلانے کے لئے مستقل چیف ایگزیکٹو آفیسر، پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (پی ای او) انتظامیہ اور جنرل منیجر سیکیورٹی وغیرہ کی خالی آسامیوں کو میرٹ پر مکمل کرنا ضروری تھا۔

پبلک سیکٹر کمپنیوں کے (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 سیکشن 5 (1) میں کہا گیا ہے کہ ‘بورڈ اپنی طاقت کا استعمال کرے گا اور کمپنی کے بہترین مفاد میں معروضی فیصلے اور آزادی کے احساس کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں فرائض انجام دے گا’۔ لیکن ورثتی ادارے پاکستان اسٹیل ملز کے موجودہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے عملی طور پر اس کے برعکس کام کیا ہے۔

اے ڈی جی ایم انچارج اے اینڈ پی نے ڈیلی ڈان نیوز پیپر اور دیگر اخبارات میں ملازمت کے مواقع کا اشتہار 3 نومبر 2019  اور یکم دسمبر 2019 کو شائع کیا۔ اشتہار 3 نومبر 2019 کو چیف ایگزیکٹو آفیسر کی خدمات حاصل کرنے کے لئے رکھا گیا اور یکم دسمبر 2019 کا اشتہار پی ای او (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) اور جنرل منیجر سیکیورٹی کی خدمات حاصل کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔ اشتہار کے مواد کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کے لئے مذکورہ بالا عمر 64 سال، پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر (اے اینڈ پی) 65 سال اور جنرل منیجر سیکیورٹی کے لئے 60 سال تھی۔ جبکہ پاکستان اسٹیل آفیسر سروس قواعد و ضوابط کے ضابطہ 2.1 اور ضمیمہ 1 کے مطابق پاکستان اسٹیل میں افسران کی تقرری کے لئے بالائی عمر کی حد 50 سال ہے۔ لہذا مذکورہ اشتہار میں تمام عہدوں پر تقرری کے لئے بالائی عمر کی حد قواعد 2.1 اور پاکستان اسٹیل آفیسرز سروس رولز اور ضوابط کے ضمیمہ 1 کی خلاف ورزی ہے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال ہے جبکہ موجودہ اشتہار میں بھرتی 60 سال سے اوپر کی ہے۔ مذکورہ اشتہار کے مطابق ان عہدوں کے لئے تیکنیکی قابلیت کی ضرورت نہیں تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ اس اشتہار کو عوامی شعبے (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 اور پبلک سیکٹر کمپنیوں (چیف ایگزیکٹو کی تقرری) ہدایات 2015 میں طے شدہ مناسب اور مناسب افراد کے معیارات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔

ہر تقرری کی انفرادی طور پر الگ الگ سرخی کے تحت جانچ پڑتال کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں یہ واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ اشتہارات پہلے ہی منتخب لوگوں کو پوسٹ سی ای او، پی ای او (اے اینڈ پی) اور جی ایم سیکیورٹی کے لئے مقرر کرنا باعث شرم کی بات ہے۔ قوانین اور طریقہ کار میں توڑ مروڑ کر آنکھوں میں دھول جھونک کر ان افراد کی تقرری کے لئے اس سارے عمل کو ملعون کے ساتھ داغدار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن چیف ایگزیکیٹو آفیسر، کرنل ریٹائرڈ طارق خان پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی جنرل منیجر سیکیورٹی کو غیر منصفانہ، غیر منطقی اور غیرقانونی طور پر مقرر کیا گیا ہے جو مناسب افراد کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ہیں۔

اسٹیل ملز میں سیکیورٹی ایکسپرٹ اور ایڈمنسٹریشن کے نام پر من پسند افراد کا تقرر کردیا گیا، پہلے پریزینٹیشن پھر ایک ماہ کی رپورٹ جمع کروانے کے بعد رسمی انٹرویو کے زریعے پی ای او (ایڈمنسٹریشن ایند پرسن) اور جنرل منیجر سیکیورٹی کی پوسٹ پر رکھ لیا گیا جبکہ باقی فل کرنل ریٹائرڈ رینک کے افسران کو اپنے ہدف اور مقصد حاصل کرنے کیلئے کھڈے لائن کردیا گیا۔ غیر قانونی بھرتیاں، تقرریوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں، آڈٹ اعتراضات بد انتظامی یہ کرپشن نہیں ہے؟۔

پاکستان اسٹیل مل کارپوریشن بد انتظامی، اقربا پروری اور بدعنوانی کی وجہ سے رُک چکی ہے۔ موجودہ حکومت یا تو اپنے وفاقی وزراء کی بدانتظامی، اقربا پروری اور بدعنوانی کی تازہ ترین کارروائیوں کے بارے میں غلط فہم ہے یا یہ ان تازہ ترین غیر قانونی اور غیر قانونی تقرریوں کا فریق ہے جو بالآخر پاکستان اسٹیل ملز میں تباہی کا باعث بنے گی۔

اسٹیل ملز جیسے حساس ادارے میں جنرل منیجر سیکیورٹی کیلئے ریٹائرڈ کرنل یا حاضر سروس کرنل کا تقرر کیا جانا چاہئے تھا جبکہ اس سیٹ کیلئے جونئیر من پسند خلاف میرٹ ریٹائرڈ کیپٹن بابر میسی کو حساس جگہ پر جنرل منیجر سیکیورٹی سلیکٹ کردیا گیا جو پہلے بورڈ کے اجلاس میں سی وی ہاتھوں میں لئے شریک تھا۔ جنرل منیجر سیکیورٹی کیپٹن ریٹائرڈ رینک کے ماتحت مختلف میجر ریٹائرڈ رینک کے افسر منیجر سیکیورٹی کے طور پر کام کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ان کی افسران کی ضرورت نہیں ہے لیکن بورڈ آف ڈائریکٹر نے بند اسٹیل ملز سے پی ای او اے اینڈ پی لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان کو ڈھائی لاکھ روپے اور جنرل منیجر سیکیورٹی کیپٹن ریٹائڑد بابر برنارڈ کو مشاہرے کی مد میں 2 لاکھ روپے دیتے رہے۔ چئیرمین بورڈ نے  پی ای او اور جنرل منیجر سیکیورٹی کی ایک سالہ خراب کارکردگی کی مدت پوری ہونے کے باوجود ایک سالہ مذید کانٹریکٹ اور تنخواہ میں 50 ہزار کا اضافہ کرکے 3 لاکھ اور ڈھائی لاکھ روپے بڑھا دی۔ جس سے اسٹیل ملز اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

گزشتہ 6 سالوں سے بند اسٹیل ملز کو نہ کوئی حکومتی کاروباری سیاست دان بحال کرکے چلانے کیلئے مخلص ہے اور نہ ہی وزارت صنعت و پیداوار کی نوکر شاہی اس کو چلانے میں اپنی زمہ داری پوری کرتی نظر آتی ہے۔ اسٹیل ملز میں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے اور 21 ارب روپے کی کرپشن میں ملوث آخری بچ جانے والے افسروں کو اسٹیل ملز کی اہم انتظامی سیٹوں پر بٹھا کر اور غیر قانونی طریقے سے کانٹریکٹ پر آئے ہوئے موجودہ افسران سے اسٹیل ملز کے اثاثوں کو تباہ کرنے کا کام لیا جارہا ہے تاکہ اسٹیل ملز بند ہو اور ان افسران کے بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے ازخود نوٹس کے تحت ایف آئی اے میں کیسز بند ہوں۔

وزیر اعظم عمران خان احتساب اور میرٹ کا مینڈیٹ لے کر برسراقتدار آئے ہیں۔ عمران خان کی کابینہ کے وفاقی وزیر نے پاکستان اسٹیل ملز میں ان تین ریٹائرڈ فوجی افسران کی میرٹ برخلاف غیر قانونی تقرری نے دیگر سویلین قومی اداروں میں سینکڑوں ریٹائرڈ فوجی افسران کی تقرریوں کو شکوک و شبہات میں ڈال دیا ہے۔ سوال یہ کہ کیا دیگر سویلین اداروں میں ریٹائرڈ فوجی افسران کی تقرریاں بھی اسی طرح میرٹ کے برخلاف کی گئی ہیں جس طرح پاکستان اسٹیل ملز میں بریگیڈئیر ریٹائرڈ شجاح، لفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور کیپٹن ریٹائرڈ بابربرنارڈ میسی کی گئی ہیں۔

وفاقی کابینہ میں سیاسی و کاروباری وزراء فیصلہ کرتے وقت اپنے کاروباری مفادات کو زہن میں رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے ہیں اور اسی طرح مدر آف انڈسٹری پاکستان اسٹیل ملز میں مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ کے برخلاف مختلف اسامیوں کو پُر کرکے اپنے خاص بندوں کو ایڈمنسٹریشن کے نام پر تعینات کیا گیا ہے۔ گزشتہ 6 سال سے بند اسٹیل ملز کو بحالی کے ساتھ چلانے کے بجائے نجکاری پالیسی کے تحت جوائنٹ اسٹیک ہولڈرز یا کسی اور آپشن کے تحت من پسند کاروباری شخصیت کو نوازنے کا پروگرام ہے۔ اس لئے گزشتہ ڈھائی سالوں میں مختلف وفاقی وزراء صنعت و پیداوار جیسی وزارت لے کر اپنے کاروباری مفادات کے مطابق خسارے کے حامل اداروں کو بحالی کے ساتھ چلانے کے بجائے نجکاری کے عمل سے ہتھیانے کی کوشش کررہے ہیں اور وزارت صنعت و پیداوار کی نوکر شاہی ان کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اسٹیل ملز پر اجلاس قومی خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں اور قومی اداروں کیلئے سوالیہ نشان بن گئے۔ اسٹیل مل نے قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے ارکین اسمبلی کا چہرہ بری طرح نمایاں کیا ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب عوامی نمائندے رکن ہیں لیکن کسی عوامی نمائندے کو اسٹیل مل جیسے حساس مسئلے پر اسٹیل ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے منٹس اجلاس میں منگوانے یا پڑھنے کی توفیق نہیں ہوئی یا وہ انگریزی زبان سے نابلد ہیں۔ قائمہ کمیٹی کے کسی رکن کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو سے اسٹیل ملز میں ہونے والی کانٹریکٹ پرغیر قانونی میرٹ کے برخلاف تقرریوں پر طلب کرتے ہوئے سوال پوچھ لے یا بورڈ آف ڈائریکٹرز/ بورڈ ہیومن ریسورس کمیٹی کے ممبران سے  مقاصد پوچھ لے کہ ان کی ایسی تقرریوں کا مقصد کیا تھا؟۔ اسٹیل مل میں ہونے والی سی ای او، پی ای او اور جنرل منیجر سیکیورٹی کی میرٹ کے برخلاف تقرریوں نے دوسرے اداروں میں ہونے والی تقرریوں کیلئے سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی کارکردگی کا نتجیہ سوائے صفر کے کچھ نہیں رہا۔

بورڈ آف ڈائریکٹر نے اپنے من پسند خلاف میرٹ ریٹائرڈ افسران کو غیر قانونی کانٹریکٹ پر بھرتی کرکے قومی خزانے کو کروڑوں کا روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری طرف گزشتہ ماہ ایف آئی اے نے نیشنل بینک آف پاکستان کے 19 سینئر افسران پر کانٹریکٹ پرغیرقانونی بھرتیوں کے الزام میں انکوائری کے بعد طلب کرلیا ہے۔ اسٹیل ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور انتظامیہ کے افسران کے خلاف بھی اسی طرز پر غیر قانونی کانٹریکٹ پر بھرتیوں کا بڑا ریفرنس بن سکتا ہے جو کہ مستبل میں بڑا اسکینڈل ہے۔


سندھ ہائی کورٹ میں مذکورہ تینوں بریگیڈیئر ریٹائرڈ شجاح حسن چیف ایگزیکیٹو آفیسر، کرنل ریٹائرڈ طارق خان پرنسپل ایگزیکیٹو آفیسر (ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل) اور کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی جنرل منیجر سیکیورٹی کو غیر منصفانہ، غیر منطقی اور غیرقانونی کانٹریکٹ پر کیس نمبر سی پی نمبر ڈی 4699-2020 بھی تاحال زیر سماعت ہے۔

یاد رہے 3 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ نے پروفیشنل انجنیئر کے ایک کیس سے متعلق میں قرار دیا تھا کہ حکومت کو تاکید کی جاتی ہے کہ ایسے کسی فرد کو پروفیشنل انجینئرنگ کے کام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جس سے متعلق پاکستان انجینئرنگ کائونسل ایکٹ میں تعین کردیا گیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سندھ سروس ٹریبونل کے فیصلے خلاف درخواست کی سماعت کی تھی اور عدالت نے قرار تھا کہ دلائل کی روشنی میں یہ درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ تاہم حکومت اس بات کا خیال رکھے کہ کسی بھی فرد جو انجینئرنگ ادارے سے مطلوبہ ڈگری نا رکھتا ہو اور اس کا نام انجینئر کی حیثیت سے رجسٹرڈ نہ ہو۔ یا پاکستان انجینئرنگ کائونسل ایکٹ کے تحت پروفیشنل انجنئیر نہ ہو اُسے انجنئیرنگ کی شعبے میں کام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں