بہت دیر کردی عمران خان آتے آتے

0
66

تحریر: کنول زہرا

رواں سال ستمبر میں ایک بار پھر حکومت نے تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیش کش کی، اس بار شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری کی جانب سے مثبت ردعمل بھی دیکھنے کو ملا تھا مگر چیئرمین تحریک انصاف کی نہ جانے کونسی کل سیدھی ہے، موصوف میں نہ مانو کی رٹ لگاتے لگاتے بند گلی میں چلے آئے۔ اب حالت یہ ہے کہ ڈٹ کر کھڑے رہنے والا کپتان مذاکرات کے لئے منتیں کر رہا ہے لیکن بدقسمتی تو دیکھیں آگے سے نو لفٹ کا سائن بوڈر منہ چڑا رہا ہے۔

عمران خان نے خود اپنی 27 سالہ سیاسی جدوجہد کو زمین بوس کیا ہے، اپنی ناتجربہ کار ٹیم کے مشورے میں آکر آج وہ خود تنہائی کا شکار ہیں، تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے لونڈے اور لونڈیوں نے بھی کپتان کو نقصان پہچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہ ٹولہ خان صاحب کا نادان دوست ثابت ہوا۔ ان ڈیجیٹل مجاہدین کی توپیں 9 مئی کے بعد سے خاموش ہیں جبکہ اس سیاہ دن یہ عقل سے پیدل  افراد بڑھ چڑھ کر فوجی تنصیبات،  املاک کی توڑ پھوٹ کو عوام کے غصے سے تشبہہ دے رہے تھے۔ شہدا کی یادگار شہدا کی بے حرمتی کو عوام کا ادارے پر سے اعتماد اٹھ جانے بتا رہے تھے۔ کور کمانڈر ہاوس لاہور (جناح ہاوس) کی بے توقیری کو عوام اور ادارے کے درمیان خلیج آجانے سے تعبیر کر رہے تھے مگر وہ کیا ہے کہ جهوٹ کے پیر نہیں ہوتے ہیں۔ جنہیں پی ٹی آئی عوام کہہ رہی تھی وہ دراصل ان ہی کے کارندے تھے، جس کا اعتراف وہ ویڈیو کی صورت میں کرچکے ہیں۔

پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے فوجی تنصبات پر حملے کی ہدایات جاری کرنا بھی فوری منظر عام پر آچکا ہے۔ یعنی اب تحریک انصاف کے پاس حیلے بہانے بنانے یا مظلومیت کی داستان سنانے کا کوئی آپشن نہیں رہا، اب تاخیر در تاخیر کے بعد خان صاحب حکومت سے مذاکرات کے لئے آمادہ ہیں۔ غالبا اب انہیں پی ڈی ایم چور نہیں لگتی ہے، یا شاید کپتان گھبرا گیا ہے، اگر عمران خان ستمبر میں ہی اپنی فضول ضد چھوڑ کر مذاکرات کی ٹیبل پر آجاتے تو پاکستان کا سیاسی بحران کا حل ممکن تھا، انتخابات بھی ہوجاتے لیکن جب خان صاحب کی ناں، ہاں میں نہیں بدلی، اب جبکہ بہت دیر ہوگئی ہے، پانی سر سے گزر چکا ہے، پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، زمان پارک وایرن ہے، اس صورتحال میں مذاکرات کے لئے بیٹھنا لڑائی کے بعد کا وہ مکا ہے، جو اگر بعد میں یاد آتا ہے، تو اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ اسے اپنے منہ پر ہی مار لینا چاہئے۔

تحریر کے تسلسل کی وجہ سے یہ بات مذکورہ بالا نہیں لکھی تھی کہ 9 مئی کو تو دہشتگرد باہر نکلے تھے، عوام تو 25 مئی کو اپنی فوج کے ساتھ اظہار یک جہتی منانے اپنے جوانوں پر گل پاشی کرنے آئے تھے، ان سے بغل گیر ہوئے تھے کیونکہ وہ جانتے ہیں، ہمارے سکون کے لئے یہ بے سکون ہیں، ہمارے خاندان کے لئے یہ اہلخانہ سے دور ہیں، الله کے بعد ہمیں دشمن سے بچانے کے لئے پاک فوج کے جوان سینہ سپر ہیں۔

یوم تکریم شہدائے پاکستان پر ان ناپاک عزائم کو شکست ہوئی جو پاک فوج اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، پاکستان کے عوام کسی خوف کے تحت نہیں بلکہ محبت کے عوض اپنے جوانوں کا احترام کرتے ہیں، البتہ خوفزدہ وہ ضرور ہیں۔ جو کہا کرتے تھے میں مر بھی سکتا ہوں مگر جیل جانے کے خیال سے ان کی روح تک کانپ جاتی ہے۔ یاد رہے 9 مئی وہ سیاہ دن ہے جس کی سیاہی ان گناہگاروں کا پیچھا نہیں چھوڑے گی جس نے پاکستان کا تماشا پوری دنیا میں بنایا، پاکستان زندہ باد۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں