سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی جی پی فنڈ میں مبینہ فراڈ کا معاملہ

0
107

کراچی: سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی میں جی پی فنڈ میں مبینہ فراڈ کا معاملہ۔
سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسیشن جامعہ کے ملازمین کی تنخواہوں سے کاٹے جانے والے جی پی فنڈ میں بڑے پیمانے پر مبینہ فراڈ کے خدشات ظاہر کئے ہیں۔ اس سلسلے میں جامعہ کے سینٹ ممبران کی جانب سے متعدد بار ڈائریکٹر فائننس غلام علی سراہیو کو خطوط لکھے گئے ہیں تاہم نہ تو ان کی جانب سے کوئی جواب دیا گیا اور نہ ہی جی پی فنڈ سے متعلق کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

 حال ہی میں جامعہ کے سینٹ ممبران نے ایک بار پھر ڈائریکٹر فائننس کو خط لکھا ہے جس میں اس مبینہ فراڈ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہیں کہ یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ اس سلسلے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔ اس مبینہ فراڈ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور نا ہی اس معاملے کی جانچ پڑتال کے لیے کوئی انکوائری کمیشن بنایا گیا ہے۔ تاہم جامعہ کے سینٹ ممبران نے اس بات کا شدید خطرہ ظاہر کیا ہے کہ جی پی فنڈ میں مبینہ فراڈ کی صورت میں جامعہ کے ملازمین کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 سمیوٹا کے صدر آصف حسین سموں نے جامعہ کی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں بنائی گئی انوسٹمینٹ کمیٹی کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ  ماضی میں جی پی فنڈ کی مد میں مبینہ کرپشن کی شفاف تحقیقات سے پہلے اگر ایسی کسی کمیٹی نے کام کا آغاز کیا تو سمیوٹا اس کے خلاف شدید ردعمل کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں جامعہ کے سینٹ ممبران کی جانب سے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، سیکریٹری یونیورسٹیز  اینڈ بورڈز، چیئرمین انکوائری اینڈ اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں