زر داد عباسی کیس، بر طرف ملازمین اور گولڈن شیک ہینڈ

0
139

تحریر: سید محمد اشتیاق

انتظامیہ اسٹیل مل کو بر وقت فیصلے نہ کرنے اور بد انتظامی کی وجہ سے سینکڑوں کے حساب سے کورٹ کیسز کا سامنا ہے۔ سپریم کورٹ میں 29، ہائی کورٹ میں 320، سول اور ڈسٹرکٹ سیشن کورٹس میں 181 اور این آئی آر سی میں 112 کیسز زیر سماعت ہیں۔ ان سب میں مشہور زمانہ کیس عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت زر داد عباسی پروموشن کیس ہے۔ زرداد عباسی نے اپنی پروموشن کا کیس جیتا اور انتظامیہ نے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے 70 سے زائد افسران کو 2018 کے اوائل میں 31 دسمبر 2012 سے ترقی دی۔

2017 کے اوائل میں نا معلوم نمبر سے ایک میسیج میرے پاس آیا۔ جس میں دعوت تھی کہ اگر آپ زر داد عباسی کیس کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو رجوع کریں۔ رابطہ کیا اور کیس کا حصہ بننے کی ہامی بھرتے ہوئے مطلوبہ رقم کیس سے جڑی شخصیت کو جمع کرا دی چونکہ زرداد عباسی ہمارا ٹریننگ کا دور اور دورانیہ ایک ہی تھا۔ جب زرداد عباسی اور رفقاء ترقی پا گئے اور ہم محروم رہ گئے تو پتا چلا کہ ہم کو وعدے کے مطابق کیس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ بلکہ علیحدہ سے ایک کیس دائر کیا گیا ہے جو ہنوز زیر سماعت ہے۔

انتظامیہ نے زرداد عباسی کیس کے تمام شرکاء کو ترقی تو دے دی لیکن ساتھ ہی عدالت عظمیٰ میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی، کہ یہ ترقیاں اسٹیل مل کے موجودہ حالات کے پیش نظر درست نہیں ہیں۔ جب کہ یہ ترقیاں جولائی 2012 سے کھٹائی میں پڑی ہوئیں تھیں۔ گو کہ مل عالمی کساد بازاری اور انتظامیہ کی بد انتظامی وجہ سے خسارے میں تھی لیکن مل کا پہیہ چل رہا تھا اور دیگر افسران کی ترقیوں کا عمل بھی جاری تھا۔ اسی تناظر میں عدالت نے دسمبر 2012 سے ترقی کا حکم جاری کیا تھا۔

انتظامیہ کی جانب سے جب عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر ہوئی تو عدالت عظمیٰ نے ترقی پا جانے والے افسران کی ترقیاں معطل کرنے کا ابتدائی حکم دیا اور چیف جسٹس صاحب نے یہ بھی فرمایا: کہ اسٹیل مل کے تمام ملازمین کو ملازمت سے برخاست کر کے نئی بھرتیاں کی جانی چاہیئیں۔ گو کہ بعد میں ایک موقع پر یہ بھی فرمایا: کہ اسٹیل مل اگر ابھی چل رہی ہوتی تو میزائیل ٹینک بن رہے ہوتے۔ انتظامیہ اسٹیل مل نے عدالتی حکم کے با وجود ترقی پا جانے افسران کی ترقیاں تو معطل نہ کیں لیکن موقع غنیمت جانتے ہوئے، ملازمین کی برخاستگی کا فیصلہ کیا۔

اور 16 جولائی کو خوشی خوشی عدالت پہنچے اور عدالت کو ملازمین کی برخاستگی کا منصوبہ پیش کیا، ساتھ میں یہ استدعا بھی کی کہ سٹیل مل کے خلاف عدالتوں میں زیر سماعت کیسز کا جلد فیصلہ کیا جائے۔ چیف جسٹس صاحب ملازمین کی برخاستگی کے فیصلے سے برہم ہوئے اور فرمایا: بنایا گیا منصوبہ تباہی ہے۔ زیادہ ہوشیاری انتظامیہ کو گلے پڑ جائے گی۔ انتظامیہ تمام ملازمین کو نہیں نکال سکتی۔ ملازمین کو اس طرح نکالا تو پانچ ہزار مقدمات مزید بن جائیں گے اور ایسا نہ ہو کہ بر طرف ملازمین دوبارہ رکھنے پڑ جائیں۔ جب اسٹیل مل کے وکیل نے این آئی آر سی کی شق 11 کا حوالہ دیتے ہوئے، عدالت عظمیٰ کو مطلع کیا کہ مذکورہ شق برطرفی کے خلاف آڑے آئے گی تو چیف جسٹس نے فرمایا: قانون آپ کے آڑے نہیں بلکہ پورا آئے گا۔

عدالتی کارروائی کے بعد اسٹیل مل کے محکمہ تعلقات عامہ نے مؤرخہ 16 جولائی کو ہی ایک خبرنامہ ’نئے عزم سے بحالی کا سفر‘ کے عنوان سے جاری کیا۔ جس کے متن کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے۔

” عدالت عظمیٰ نے آج ایک اہم مقدمے میں مل کے تمام ملازمین کے معاشی حقوق کا پورا تحفظ کیا ہے۔ رب کائنات کا شکر بجا لاتے ہیں۔ جس کی توفیق اور ہزاروں ملازمین کی ڈھیروں دعاؤوں کی بدولت پاکستان کا یہ قابل فخر ادارہ اب بحالی کے نئے سفر پر نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ گامزن ہوگا۔ انتظامیہ آئین و قانون کی روشنی میں اپنے ملازمین کے تمام تر بنیادی حقوق کا تحفظ کرے گی۔“

واضح رہے کہ جب یہ خبرنامہ جاری ہوا تو زر داد عباسی محکمہ تعلقات عامہ سے منسلک تھے اور تا حال اسی محکمے سے منسلک ہیں۔

برخاست ملازمین حکومت اور انتظامیہ کے گولڈن شیک ہینڈ کے گمراہ پروپیگنڈے سے دل برداشتہ ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ دوسری طرف انتظامیہ نے کچھ ملازمین سے برخاستگی کے خط لے کر دوبارہ ڈیوٹی پر بلا لیا ہے۔ محکمہ ایجوکیشن کے اساتذہ کو ایک پرانے عدالتی حکم پر مستقل کر دیا گیا ہے اور منظور نظر افراد کو کونٹریکٹ پر بھرتی کی بھی خبریں ہیں۔ ایسی صورت حال میں صدر پاکستان عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور اسد عمر کو قبل از عام انتخابات اسٹیل مل کے دوروں اور ملازمین سے اپنے خطاب وعدوں کا پاس رکھنا چاہیے۔ ملازمین کی برخاستگی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم گولڈن شیک ہینڈ کا جس زور و شور ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے کم ازکم ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دیا جائے۔ چونکہ ملازمین اسٹیل مل کی تنخواہیں 2010 کی سطح پر ہیں۔

نیز 16 جولائی کے بعد سے زر داد عباسی کیس کی سماعت تو نہیں ہوئی ہے لیکن انتظامیہ نے 4500 سے ملازمین کو ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔ حکومت و انتظامیہ میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے اس گمراہ کن پروپیگنڈے میں مصروف ہیں کہ ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دیا جا رہا ہے۔ جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ملازمین کو 2010 کی تنخواہ کے حساب سے نا مکمل رقم ادا کی جا رہی ہے۔ چونکہ 2010 کے بعد سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ جب کہ خسارے میں چلنے والے دیگر سرکاری اداروں ریلوے، پی آئی اے میں تنخواہ بڑھنے اور ملازمین کی ترقیوں کا عمل تواتر سے جاری ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں