اسٹیل ملز ملازمین برطرفی کے کیس میں نیب کو پارٹی کیوں بنایا؟

0
92

تحریر: نسیم حیدر جنرل سیکریٹری ایمپلائیز یونٹی پاکستان اسٹیل رجسثرڈ

جون 2020 میں جب ایمپلائیز یونٹی رجسٹرڈ کی جانب سے ملازمین کی ممکنہ برطرفیوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی گئی تو اس پٹیشن میں وفاق سیکریٹری صنعت و پیداوار، پراویٹائزیشن کمیشن کے علاوہ نیب کو بھی پارٹی بنایا گیا تھا۔ اس وقت کچھ دوستوں نے مجھ سے سوال کیا کہ ملازمین کی برطرفیوں کے معاملے میں نیب کو کیوں فریق بنایا گیا ہے، اس وقت میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ پاکستان اسٹیل کی موجودہ حالات زار کا بنیادی سبب کرپشن بد انتظامی کے باعث ہونے والے نقصانات اور وہ انتظامی فیصلے ہیں جو مختلف پارٹیوں کو مالی فائدے پہچانے کی نیت سے کئے گئے ہیں۔

بادی النظر میں پاکستان اسٹیل کی بندش کی بنیادی وجہ ہی کرپشن ہے اور اگر پاکستان اسٹیل میں کرپشن کے زمہ داروں کا احتساب ہو جاتا تو آج پاکستان اسٹیل بند نہ ہوتی۔  آج ملازمین کا روزگار اور مرکز روزگار کا مستقبل داؤ پر نہ لگا ہوا ہوتا۔ 2008 تک ملازمین کو سال میں چار بونس دینے والی ملز 2010 میں حکومت سے بیل آؤٹ پیکیج کی بھیک مانگ رہی تھی۔

 پاکستان اسٹیل میں 2008 تا 2009 میں ہونے والی غضب کرپشن پر سپریم کورٹ نے سو موٹو نوٹس لیا اور ایف آئی اے کے ڈی جی طارق خان کھوسہ کو تحقیقات کا حکم دیا۔ جس کے نتیجہ میں 26 ارب روپے کی کرپشن کے شوائد ملے 11 ایف آئی آرز کا اندراج ہوا جس میں 64 ملزمان نامزد تھے۔ سپریم کورٹ نے اپنے 52 صفحات پر مشتمل فیصلے میں مزید تحقیقات ریکوری کیلے کیس نیب کے حوالے کرتے ہوئے 3 ماہ کے اندر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم نامہ جاری کیا۔ لیکن سیاسی مداخلت کے باعث معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا کیونکے اس وقت کی حکومتی بااٹر شخصیات پاکستان اسٹیل کرپشن میں براہ راست ملوث تھیں۔ ماضی میں انہیں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے پر راقم کے خلاف انتقامی کاروائیاں کیں گئیں شوکاز نوٹس انکوائریاں اور جھمپیر تبادلہ کی صحبتیں برادشت کیں۔  جب پاکستان اسٹیل کے کرپشن کے زمہ داروں کا احتساب نہیں ہوا تو راقم کی جانب سے 2016 میں نیب کے خلاف پاکستان اسٹیل میں کرپشن کے زمہ داروں کے خلاف کاروائی نہ ہونے پر آئینی پٹیشن بھی دائر کی لیکن صد افسوس ہمارے یہاں بااثر شخصیات کے خلاف کاروائی کرنے کی روایات موجود نہیں ہیں۔

 یہی سبب ہے کے آج بھی جب راقم کی جانب سے سپریم کورٹ میں ملازمین کی برطرفیوں کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے تو اس میں بھی نیب کو پارٹی بنایا گیا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس منافع بخش ادارے کی تباہی و بربادی کی بنیادی وجہ ہی کرپشن ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ پاکستان اسٹیل میں ہونے والی کرپشن کی سزا برطرفیوں کی صورت میں ملازمین کو نہیں دی جا سکتی ملازمین کسی بھی طور اس موجودہ صورتحال کے زمہ دار نہیں ہیں۔ اگر کاروائی کی جانی ہے تو ان زمہ داران کے خلاف کی جائے جو اس ادارے کی تباہی و بربادی کے براہ راست زمہ دار ہیں۔ ملازمین بے قصور ہیں انہیں نوکریوں پر بحال کیا جائے بس یہی ہماری انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے معزز ججز صاحبان سے استدعا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں