میں نے کورونا کو کیسے لیا؟

0
55

تحریر: شعیب واجد

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کورونا پاکستان میں نیا نیا آیا تھا۔ ملک میں لاک ڈاؤن کرنے کی باتیں ہورہی تھیں اور کورونا بچاؤ کے حفاظتی اقدامات پر بہت زور دیا جارہا تھا۔ ان اقدامات میں، سماجی فاصلہ، بار بار صابن سے ہاتھ دھونا اور منہ پر مسلسل ماسک پہننا بھی شامل تھا۔
کورونا وائرس سے مقابلے کیلئے پوری قوم کی طرح میں بھی ایس او پیز پر عمل کیلئے پوری طرح تیار تھا لیکن کچھ ایس او پیز کی منطق نہ جانے کیوں میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہی تھی۔ ان میں سے ایک ایک ایس او پی سماجی فاصلے سےمتعلق تھا، سماجی فاصلے کو حد سے زیادہ بڑھانے کے بجائے میں درمیانے درجے پر رکھنے کا قائل تھا۔ یہ اور بات تھی کہ اس وقت لوگوں کو اس قدر ڈرا دیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں تک سے ملنا چھوڑ دیا تھا۔ میرا اپنا ماننا تھا کہ گو کہ ابھی اس وائرس کی ہلاکت خیزی کی پوری معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں، تاہم پھر بھی ہماری احتیاط وہم کی حدود میں داخل ہوتی جارہی ہے۔
دوسرا ایس او پی ماسک لگانے سے متعلق تھا جس کے لئے بڑی تاکید اور سٓختی کی جارہی تھی۔ اس معاملے میں مجھے واقعی بہت حیرانی تھی کیونکہ یہ تاکید بزات خود ان اصولوں کے خلاف بھی جارہی تھی جو کورونا سے بچاؤ کیلئے سمجھائے جارہے تھے۔
بات یہ تھی کہ ایک طرف تو بتایا جارہا تھا کہ وائرس ہر طرف ہے، ہر شے پر ہے، جہاں جہاں انسان جاتا ہے وہاں وائرس کی آلودگی کے امکانات ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ہر وقت ہاتھ دھوئیں اور مسلسل ماسک لگائیں۔
لیکن کوئی ڈاکٹر یا میڈیا یہ نہیں بتا رہا تھا کہ جب کوئی شے وائرس سے محفوظ ہی نہیں رہ پارہی تو آپ کے منہ سے لگا ماسک ایک گھنٹے بعد کیسے وائرس سے آلودہ نہیں رہا ہوگا؟ اور آٹھ گھنٹے بعد اس کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ کیا یہ ممکن تھا کہ کوئی شخص اس آلودگی سے بچنے کے لئے ہر ایک گھنٹے بعد ماسک بدلے یا ہر گھنٹے بعد ماسک کو دھوئے؟
لوگ سارا سارا دن ماسک پہن کر گھومتے آٹھ، آٹھ گھنٹے ماسک لگا کر دفتروں میں کام کرتے، پھر بھی بیشتر کے ٹیسٹ پازیٹو آجاتے۔
مجھے پہلے ہی دن سے مسلسل ماسک لگانا بھی الٹا خطرے کی ہی علامت لگا۔
سرکاری اور دفتری سختیوں کے باوجود میں ماسک اسی وقت لگاتا تھا جب بہت ہی فیس ٹو فیس معاملہ درپیش ہو یا کہیں بازپرس سے بچنا ہو۔ اس کے علاوہ بنا ماسک رہنا ہی میں خود کو ذیادہ محفوظ خیال کرتا تھا۔
کورونا سے بچاؤ کیلئے کچھ ایس او پیز ایسے بھی تھے جن پر میں نے بہت سختی سےعمل کیا کیونکہ وہ مجھے ذیادہ منطقی لگتے تھے۔ ان میں ہاتھ بار بار دھونا خاص طور پر شامل تھا تاہم سینی ٹائزر میں نے بالکل استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ مجھے ناپسند ہے۔ ہاتھ دھونے والے ایس او پی میں، میں نے کچھ احتیاطوں کا اپنے طور پر اضافہ بھی کیا جن میں ہاتھ دھونے کے بعد کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور غرارہ کرنا شامل تھا۔
ان دنوں کورونا کی وجہ سے جو خوف پھیلا ہوا تھا وہ بھی غیر فطری نہیں تھا، جب بھی کوئی وبا پھوٹتی ہے تو اس ان دیکھے دشمن کی طاقت کا فوری اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لئے اسے خطرناک ترین ڈیکلیئر کرکے انتہائی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچا جاسکے، بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ اس وبا کی ہلاکت خیزی کی اصل مقدار سامنے آتی ہے۔
ان دنوں چین، اٹلی اور اسپین میں کورونا عروج پر تھا اور لوگ ہلاکتوں کا فیگر سن کر دہلے جاتے تھے۔ میرا کہنا تھا کہ یہ اعدادو شمار بظاہر زیادہ لگ رہے ہیں لیکن دیگر امراض سے ہلاکتوں کے تناظر میں یہ ذیادہ نہیں ہیں۔ لیکن اس وقت یہ بات کسی کو سمجھ آنا مشکل تھی۔
آج کورونا کی وبا کو پھوٹے آٹھ مہینے ہوچکے ہیں اس وبا سے دنیا میں چھ لاکھ سے کم افراد کی جان گئی ہے۔ یہ تعداد عراق جنگ میں امریکی بارود سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سے بھی کم ہے۔ دنیا میں اس سے کئی گنا زیادہ لوگ ملیریا اور ٹائیفائیڈ سے جان ہار جاتے ہیں۔
پاکستان میں کورونا سے پانچ ہزارسے زائد افراد کی جانیں گئی ہیں جن میں ستر فیصد افراد بوڑھے یا پرانے مریض تھے۔
عرض یہ کرنا ہے کہ کورونا اب ہمارے ساتھ رہے گا، کوئی لاک ڈاؤن یا ڈی انفیکشن اسے ختم نہیں کرسکتا۔ بے جا احتیاطوں کو بھی یہ وائرس کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ ہاں ایک عمل ایسا ضرور ہے جو اس سے بچاؤ کیلئے آپ کی مدد لازمی کرے گا اور وہ ہے صحت و صفائی کے وہ عمومی اصول جو بچپن سے آپ کو پڑھائے جاتے رہے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہورہا تھا۔ تو جناب صاف رہیں اور صاف غزا کھائیں۔ پھر بے فکر ہو کر جیئیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں