این اے 75 ڈسکہ، حکومتی عہدیداران، سیکیورٹی ایجنسیز اور سیاسی نمائندوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، الیکشن کمیشن

0
97

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرا دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے جواب کے متن میں لکھا کہ انتخابی عمل کے دوران حکومتی عہدیداران، سیکیورٹی ایجنسیز اور سیاسی نمائندوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی۔ ضلعی انتظامیہ امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے میں ناکام رہی اور ضلعی انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے انتخابات کے دن سنگین تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے۔

الیکشن کمیشن نے امن و امان کے پیش نظر ڈسکہ میں تمام تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی لیکن پابندیوں کے باوجود ذولفقار ورک کو ڈی ایس پی ڈسکہ کی اضافی ذمہ داری دی گئی۔ ڈی ایس پی ڈسکہ ذولفقار ورک الیکشن کمیشن کے طلب کرنے پر بھی پیش نہیں ہوئے اور ڈی ایس پی ڈسکہ ذولفقار ورک سے 6 فروری کو چارج لے کر مظہر گوندل کو سونپا گیا۔ تمام ترتحفظات کے باوجود ذولفقار ورک کو دوبارہ سینٹرل سرکل انچارج ڈسکہ کی ذمہداری سونپ دی گئی۔

پنجاب حکومت نے ڈسکہ میں سلیکٹڈ افسران تعینات کر کے الیکشن متنازع بنائے اور الیکشن کمیشن کے عہدیدار نے بتایا کہ 40 حلقوں میں انتخابات کے دوران حالات خراب ہوئے۔ ڈسکہ میں پولنگ کے دن قتل اور فائرنگ کے واقعات کے متعلق الیکشن کمشنر نے آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو خط لکھا۔ پنجاب حکومت نے ڈسکہ انتخابات میں الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کیا اور الیکشن کمیشن نے انتخابات کالعدم قرار دے کر 10 اپریل کو دوبارہ انتخابات کا اعلان کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں