ملازمین ریٹارمنٹ عمر بڑھانے کے خلاف سپریم ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

0
31

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کے پی ملازمین کی ریٹارمنٹ عمر بڑھانے کے خلاف ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے کے پی حکومت کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے ملازمین کی ریٹارمنٹ عمر بڑھانے سے متعلق صوبائی حکومت کا قانون کالعدم قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے معاملہ دوبارہ فیصلے کے لیے پشاور ہائی کورٹ کو واپس بھجوا دیا۔

عدالت نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ کرے۔
وکیل سرکاری ملازمین کے ولیل نے کہا کہ سول سرونٹ ایکٹ میں ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال کر دی گئی ہے۔ 25 سال کی سروس پر ریٹائرمنٹ کا قانون ختم کر دیا گیا ہے۔ اسمبلی میں کسی کو سنے بغیر اور بنا بحث کیے بل پاس کیا گیا تھا۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چند سول سرونٹس کے تحفظات پر قانون تو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا اور صرف وضاحتوں سے قانون چیلنج نہیں ہوتے۔قانون بنانا حکومت کا کام ہے عدالتیں اس پر عملدرآمد کرواتی ہیں۔ قانون آئین کے تحت بنتا ہے رولز آف بزنس سے نہیں ہے۔

جسٹس منیب اختر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی کو اسمبلی کی کاروائی پر اعتراض ہے تو اسمبلی میں جاکر شکایت کرے۔ جب روٹی پک چکی تو یہ پوچھنا بے کار ہے کہ آٹا کہاں سے آیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ جب قانون پر گورنر کے دستخط ہوگئے تو معاملہ ختم ہوگیا ہے۔ قانون سازی میں کسی کا موقف سننے کا تصور نہیں ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں