سی پیک کے سنگھاسن پر بیٹھا پیاسا شہر، ترقی کے شور میں ڈوبا ہوا گوادر

0
15

تحریر: جمیل قاسم، گوادر

کہتے ہیں گوادر کی ترقی وہ خواب ہے جو جاگتی آنکھوں سے دیکھا گیا، مگر چشمِ حقیقت میں وہ خواب اب اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔ جہاں دنیا کو سی پیک کا جھومر جگمگاتا نظر آتا ہے وہیں گوادر کا پیاسا باسی اپنی بالٹی میں اندھیرے بھر لاتا ہے۔ دنیا کہتی ہے گوادر اسمارٹ سٹی ہے لیکن یہاں کی گلیاں صرف اسمارٹ فون کی فلیش سے روشن ہیں۔

سی پیک کے تحت شہر کے لیے سڑکیں بنیں، چند ایک فیکٹریاں لگیں، مگر پانی کی پائپ لائن آج بھی چُھپن چھپائی کھیل رہی ہے۔ گوادر پر دنیا کی نظریں ہیں اور گوادریوں کی نظریں بجلی کے بلب پر کہا جاتا ہے گوادر محورِ ترقی ہے مگر یہاں کے بچے اب بھی موم بتی و موبائل لائٹ کی روشنی میں سبق یاد کرتے ہیں۔ گوادر کے اربوں روپے کے چرچے ہر ایوان میں گونجتے ہیں مگر گوادر کے عوام کے حصے میں صرف خستہ حال انفراسٹرکچر، بجلی کی ننگی تاریں اور خالی پانی کی ٹینکی کی گونج رہ جاتی ہے۔ گوادر پر نمائندگی وہ بھی کر رہے ہیں جو یہاں آمد و رفت کا بھی تکلف نہیں کرتے اور جو یہاں کے ہیں وہ وفا کے امتحان میں غیر حاضر نکلتے ہیں۔

پردیسی ایم این اے منتخب ہوا تو گوادر کے کسی مسئلے سے کوئی سروکار نہ رہا۔ وہ یہاں اجنبی بن کر رہ رہے ہیں۔ ایم پی اے کی دوڑ دھوپ اور گرج چمک اب وہ نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ اب انہوں نے گوادر کو حق دینا ادھورا چھوڑ کر بلوچستان کو حق دینے نکلنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ ایم پی اے نے گوادر کو اپنی بے اختیار اور لاچار پی ایس کے کندھے پر رکھ دیا ہے۔ ضلعی چیرمین اور وائس چیرمین گوشہ نشینی اختیار کرکے صوفی بن بیٹھے ہیں شاید اب وہ گوادر کو صرف خواب میں نمائندگی دیتے ہیں۔ ان حضرات کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں، ان کے دفاتر مکڑیوں کے جالوں سے بھرے ہوں گے اور فائلیں گرد کی چادروں میں لپٹی ہوں گی۔ گوادر میونسپلٹی کی چیرمین شپ اس لیے تبدیل کی گئی کہ سابقہ نوجوان نہیں تھا۔ حق دو تحریک نے گوادر کو حق دلانے کے لیے سابقہ چیرمین سے زبردستی استعفیٰ لے کر دوبارہ الیکشن کروایا، مگر نیا چیرمین بھی گوادر کو حق دلانے میں ناکام رہا۔ تحریک کے دوران جب یہی چیرمین نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر سینہ تان کر قمیص چاک کرتا تھا تو عوام سمجھے کہ بس اب ہمیں حق ملنے ہی والا ہے۔ مگر کرسی پر براجمان ہو کر وہ گوادر کو صفائی کا نہیں صرف سیاسی گندگی کا شاہکار بنانے میں کامیاب ہوا۔ سیاسی پارٹیاں سیاست کے مچان پر بیٹھی ایک دوسرے کو گرانے میں عوام کو کب کا گرا چکی ہیں۔ لکھاریوں کے قلم پر احتیاط کا پہرہ ہے اور زبانوں پر مصلحتوں کا تالا لگا ہے۔ ادھر گھروں میں گرمی عروج پر ہوتی ہے تو مرد حضرات واٹس ایپ گروپوں میں انقلابات برپا کیئے بیٹھے ہوتے ہیں۔

بالآخر جب عورتیں سڑکوں پر نکلتی ہیں تو انتظامیہ کے ضمیر کو اچانک ہچکی آتی ہے اور پھر وہی ڈی سی سی پر ڈی سی سی کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ ایک اور اجلاس، ایک اور یقین دہانی، ایک اور وعدہ… اور عوام کے صبر کا ایک اور امتحان۔۔۔۔ کبھی کبھار چند دنوں کے لیے پانی کی کچھ بوندیں نلکوں سے جھانک لیتی ہیں تو بجلی بھی کسی محبوبہ کی طرح ایک آدھ جھلک دکھا کر غائب ہو جاتی ہے۔ خوشی کے نعرے لگتے ہیں، خوش آمدی بیانات بنتی ہیں اور پھر سب مطمئن ہو کر ایک بار پھر اندھیرے اور پیاس کی آغوش میں لوٹ جاتے ہیں۔ نئے دن کی کرنیں اب پرانے دکھوں کی چھاؤں میں جنم لیتی ہیں اور گوادر ایک بار پھر امید اور مایوسی کی چوسر پر پڑا تماشائیوں کی تالیاں سنتا ہے۔ مسائل وہی، چہرے وہی، افسر وہی، بیان وہی..
بس فرق صرف اتنا ہے.
نسلیں بدل گئیں… مگر پانی و بجلی کا نظام ابھی تک نہیں بدلے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں