انصاف ڈاکٹر فورم کے وفد کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات

0
46

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کورونا وباء میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی خدمات کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کورونا مریضوں کی جانیں بچانے کی کوشش میں اپنی جانیں قربان کرنے والے طبی عملے کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کورونا سے شہید ہونے والے طبی عملے کے خاندانوں کوامدادی پیکج دینے پر کام کر رہی ہے اور عنقریب ان شہداءکے ورثا کو امدادی پیکج کے تحت چیکس دیئے جائیں گے ۔
ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پیر کے روز انصاف ڈاکٹر فورم کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جس میں تنظیم کے صوبائی صدر ڈاکٹر سجاد کی قیادت میں ان سے ملاقات کی اور صحت کے شعبے میں اصلاحات، ڈاکٹروں کے مسائل اور دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا ، ممبران صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سمیرا شمس ، رابعہ بصری اور آسیہ اسد کے علاوہ محکمہ صحت کے متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد نے صوبے کی سو فیصد آبادی تک صحت کارڈ اسکیم کی توسیع اور پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی کے افتتاح جیسی اہم کامیابیوں پر وزیراعلیٰ اورصوبائی حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے ان اقدامات کونہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح پر بھی پذیرائی مل رہی ہے۔
وفد نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن کی عدم دستیابی سے مریضوں کی ہلاکت کے واقعے کی بروقت تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لانے کے سلسلے میں بھی صوبائی حکومت کے کردار کی تعریف کی۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں صحت کے مجموی نظام کو مستحکم کرنا اُن کی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے محکمہ صحت میں اہم نوعیت کے اصلاحات متعارف کرائے جارہے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ صحت کے شعبے میں متعارف کروائے جانے والے تمام اصلاحات کے حوالے سے ڈاکٹر کمیونٹی اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کی بھر پور مشاورت کی جائے گی تاکہ ان اصلاحات کو تمام شراکت داروں کی بھر پور مشاورت سے کی جائے گی تاکہ ان اصلاحات کو تمام شراکت داروں کا اعتماد حاصل ہو۔
ضم شدہ اضلاع میں محکمہ صحت کے پہلے سے قائم عمارتوں کے بہتر استعمال کیلئے اقدامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ محکمہ صحت کو ان عمارتوں کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں اور بہت جلد ان عمارتوں کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں