کراچی (رپورٹ: اشتیاق سرکی) سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل آصف جان صدیقی پر عید الفطر کے موقع پر ریسٹورنٹس اور فوڈ انڈسٹری سے وابستہ کاروباری افراد سے بھاری غیرقانونی رقوم بٹورنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، انہوں نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جو عید کے دوران کھانے کے معیار کی جانچ پڑتال کے بہانے شہر بھر کے ہوٹلوں اور اسٹریٹ فوڈ زونز کے مالکان کو بلیک میل کرکے کروڑوں روپے کی جبری وصولی میں مصروف رہی۔
باوثوق زرائع کے مطابق یہ رقم سندھ کے مشیرِ خوراک جبار خان اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران تک پہنچائی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بدعنوانی محض ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
آصف جان صدیقی کا کرپشن سے جڑا سفر ان کے مختیارکار گوٹھ آباد کراچی کے دور سے شروع ہوا، جہاں وہ زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل، اور رشوت کے ذریعے پراپرٹی ڈیلز کو قانونی حیثیت دینے میں ملوث رہے۔ اینٹی کرپشن ایجنسیوں نے ان کے خلاف متعدد انکوائریاں کیں، لیکن وہ ہمیشہ اپنے اعلیٰ سطحی ‘رابطوں’ کے باعث احتساب کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
بعد ازاں، انہیں مختلف اضلاع میں ڈپٹی کمشنر اور لوکل گورنمنٹ کے کلیدی عہدوں پر تعینات کیا گیا، جہاں ترقیاتی بجٹ میں خرد برد، جعلی ٹینڈرز اور فنڈز کی بندربانٹ جیسے سنگین جرائم ان کے طرز حکمرانی کا حصہ رہے۔ موجودہ دور میں جب انہیں سندھ فوڈ اتھارٹی کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا، تو کرپشن کے نئے دروازے کھل گئے۔
محکمے کے اندرونی ذرائع کے مطابق، آصف جان صدیقی نے اپنے ماتحت عملے کو واضح ہدایات دیں کہ ‘خود بھی کماؤ اور مجھے بھی کھلاؤ، کیونکہ اوپر والوں کو بھی حصہ پہنچانا ہے’۔ اس پالیسی کے تحت سندھ فوڈ اتھارٹی میں کرپشن کا ایک نیا، منظم اور منافع بخش نیٹ ورک کھڑا کر دیا گیا، جہاں مختلف کاروباری افراد کو ‘معیاری چارج’ کے نام پر بھاری رقوم ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
محکمے میں ‘لیب کوٹ مافیا’ کے نام سے مشہور خصوصی ٹیم، عید کے موقع پر قائم کی گئی تھی، حالانکہ پہلے سے موجود جانچ پڑتال کی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر کوالٹی کنٹرول کے نام پر کام کر رہی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پرانی ٹیمیں فعال تھیں، تو پھر عید کے لیے نئی ٹیم بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟۔
محکمے کے ایک اعلیٰ افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کہ یہ ٹیم دراصل ‘عیدی ٹیکس’ اکٹھا کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ ہر ریسٹورنٹ اور ہوٹل سے 50 ہزار سے 5 لاکھ روپے تک کا جبری جرمانہ لیا جاتا رہا، جس کی مجموعی مالیت کروڑوں میں پہنچ چکی ہے۔ اس بھتہ خوری میں سیاسی شخصیات اور بااثر بیوروکریٹس بھی براہِ راست ملوث بتائے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، آصف جان صدیقی کو ہمیشہ ایسے محکموں میں تعینات کیا جاتا ہے جہاں سے بڑے پیمانے پر رقم بٹوری جا سکے، جیسا کہ ریونیو، لوکل گورنمنٹ، اور اب سندھ فوڈ اتھارٹی۔ ان پر کرپشن کے سنگین الزامات کے باوجود انہیں بار بار نئی ذمہ داریاں سونپنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اعلیٰ حکام کے لیے ایک ‘مالیاتی سہولت کار’ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
سماجی کارکنوں اور اینٹی کرپشن ایکٹیوسٹس نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘آصف جان صدیقی جیسے افسران سندھ میں کرپشن کی جڑ ہیں۔ ان کا ہر عہدہ عوامی خزانے کو لوٹنے اور سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کا ایک نیا موقع ہوتا ہے’۔ عوام میں یہ سوال شدت اختیار کر چکا ہے کہ آخر کیوں سندھ حکومت ایسے بدنام زمانہ کرپٹ افسران کو بار بار اہم عہدوں پر تعینات کرتی ہے؟ کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ بدعنوانی حکومتی نظام کا ایک بنیادی ستون بن چکی ہے؟۔
سندھ کے عوام کی نظریں اب عدالتی نظام اور اینٹی کرپشن اداروں پر جمی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آصف جان صدیقی جیسے کرپٹ افسران کو کبھی قانون کے شکنجے میں جکڑا جائے گا، یا پھر ان کے خلاف موجود تمام ثبوت ایک بار پھر سرکاری فائلوں میں دفن ہو جائیں گے؟ فی الحال، آصف جان صدیقی بلاخوف و خطر اپنی روش پر قائم ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ سندھ کا ‘سیاسی اشرافیہ کا سسٹم’ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔