کینال اور آصف علی زرداری: قومی سیاست کا ‘ڈبل گیم’ ماسٹر؟

0
9

تحریر: اشتیاق سرکی

پاکستان کی سیاست کے تاریک ترین گوشوں میں جھانکیں تو آصف علی زرداری کا نام ایک ایسے ‘ماسٹر پلانر’ کے طور پر اُبھرتا ہے جو قومی مفاد کو اپنی ذات، خاندان، اور صوبائی اقربا پروری کی نذر کرنے میں ماہر ہے۔ حالیہ ‘گرین پاکستان منصوبے’ کے تنازع نے ان کی سیاسی چالاکی کو ایک بار پھر عریاں کر دیا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جہاں ایک طرف صدرِ مملکت کی حیثیت سے کینالوں کی تعمیر کی منظوری دی جاتی ہے، اور دوسری طرف صوبائی سطح پر اسی منصوبے کے خلاف آگ بھڑکا کر ‘سندھ کے مسیحا’ بننے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔ یہ محض سیاست نہیں، بلکہ ایک ‘منظم منافقت’ ہے جس کی دھمک پورے وفاق میں سنائی دے رہی ہے۔ 

کینالوں کی منظوری اور مخالفت، زرداری کا ‘ڈبل گیم’
زرداری صاحب کا کمال دیکھیے کہ انہوں نے گرین پاکستان منصوبے پر دستخط کرتے ہوئے نہ صرف کینالوں کی تعمیر پر زور دیا بلکہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کو فنڈز جاری کرنے کی ہدایات تک جاری کیں۔ مگر جب سندھ میں چند قوم پرست گروہوں نے احتجاج کی بنیاد رکھی تو پیپلز پارٹی نے یکایک اپنا لبادہ بدل لیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ منصوبہ سندھ کے لیے اتنا ہی تباہ کن تھا تو ابتدا میں ہی زرداری صاحب نے اسے کیوں سبز بتی دکھائی؟ کیا وفاق کی علامت ہونے کے ناتے ان کا فرض صوبائی تنازعات کو ہوا دینے کی بجائے انہیں سلجھانا نہیں تھا؟ یا پھر یہ سب ایک سوچا سمجھا ڈرامہ تھا جس کا مقصد صرف سندھ میں سیاسی ہیجان پیدا کرنا تھا؟۔

کینالوں کا پس منظر-سیلاب سے بچاؤ اور زراعت کی ترقی
پاکستان کا زرعی نظام بنیادی طور پر نہری پانی پر منحصر ہے۔ برطانوی دور میں تعمیر شدہ نہری نظام آج بھی زرعی پیداوار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اگر اضافی پانی کو محفوظ کر کے مزید کینالز تعمیر کی جائیں تو لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو زرخیز بنایا جا سکتا ہے، جس سے پنجاب کے چولستان سے لے کر سندھ کے صحراِ تھر کو سرسبز کرنے کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔

پاکستان کو ہر سال بھارت کے چھوڑے گئے اضافی پانی کا سامنا رہتا ہے، جو پورے ملک میں شدید سیلابی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ اگر یہی پانی ذخیرہ کر کے بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو پاکستان زراعت میں خودکفیل ہو سکتا ہے۔ گرین پاکستان منصوبہ اسی مقصد کے تحت تیار کیا گیا ہے تاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کر کے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔

گرین پاکستان منصوبے کے چند عملی فوائد:
1-سیلابی پانی کا ذخیرہ کر کے زراعت اور پینے کے لیے کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔

2-نئی زرعی زمینوں کی آبادکاری سے خوراک کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

3-روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔

4-ماحولیاتی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری ممکن ہوگی۔

صدرِ مملکت یا ضلع نوابشاھ کا وڈیرا؟
دستورِ پاکستان صدرِ مملکت کو چاروں صوبوں کی یکجہتی کا محافظ ٹھہراتا ہے، مگر زرداری صاحب نے اپنے آپ کو ضلع نوابشاہ کے ایک ایسے وڈیرے کی طرح پیش کیا جو اپنی جاگیر کو بچانے کے لیے وفاقی مفادات کو بھی داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرتا۔ کیا یہ وہی پیپلز پارٹی ہے جسے ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی عوامی طاقت کے طور پر متعارف کرایا تھا؟ آج یہ پارٹی اپنے ہی بنائے ہوئے وفاقی اصولوں کو پامال کرکے کیوں سندھ کے ایک ضلع تک سمٹ کر رہ گئی ہے؟ کیا یہ زرداری صاحب کی ‘ذاتی مفاد پرستی’ کا نتیجہ ہے جو پارٹی کو ایک خاندانی بزنس میں تبدیل کرچکی ہے؟ 

بلاول کی شیروانی اور زرداری کی سیاست-قومی یکجہتی کی قیمت؟
زرداری صاحب کی تمام تر سیاسی چالوں کا مقصد ان کے اکلوتے بیٹے ‘بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم’ بنوانا ہے۔ یہ وہ خواب ہے جس کے لیے زرداری نے نہ صرف بلاول کو ‘بھٹو’ کا لیبل چپکایا بلکہ سندھ اور پنجاب کے درمیان نفرت کی خلیج بھی گہری کی۔ ممتاز بھٹو کے الفاظ یاد کیجیے: ‘اگر زرداری خود کو بھٹو کہلوائیں گے تو ہم بھٹو خود کو کیا کہلوائیں؟’، کیا یہ بات عیاں نہیں کہ بلاول کو وزیرِاعظم بنانے کی خواہش میں زرداری صاحب نے سندھ کو ایک ‘سیاسی ہتھیار’ بنا لیا ہے؟ کیا پنجاب کے خلاف سندھ میں ماحول کشیدہ کرنا قومی یکجہتی کے لیے زہر سے کم ہے؟۔

یہ واضح ہے کہ آصف علی زرداری سندھ میں احتجاجی محاذ کھول کر دراصل شہباز شریف کی حکومت کو ناکام ثابت کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں مظاہروں کو بڑھاوا دے کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اس کا مقصد واضح ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو بطور متبادل وزیراعظم پیش کرنا۔ زرداری صاحب جانتے ہیں کہ اگر شہباز شریف کی حکومت غیر مقبول ہوتی ہے تو بلاول کے لیے سیاسی میدان ہموار ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں احتجاج کو ہوا دے کر وفاقی حکومت کے خلاف بیانیہ تشکیل دے رہی ہے۔

پنجاب میں ‘گاڑیاں’، سندھ میں ‘آگ’-پیپلز پارٹی کا دوہرا معیار؟
سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ جہاں سندھ میں پیپلز پارٹی کینالوں کے خلاف آتش فشاں بنی ہوئی ہے، وہیں پنجاب میں ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔ پنجاب حکومت کے ساتھ ہونے والے حالیہ اجلاس میں پیپلز پارٹی نے کینالوں کا نام تک لینا گوارا نہ کیا، بلکہ صرف اپنے گورنر کے لیے ‘نئی گاڑی’ کی فرمائش پر اکتفا کیا۔

پیپلز پارٹی کا زوال اور تاریخ کا منافقانہ موڑ
ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کو ‘عوامی طاقت’ کے طور پر متعارف کرایا تھا، مگر آج یہ پارٹی اپنی ہی بنائی ہوئی وفاقی روایات کو پامال کر رہی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک زمانے میں پورے پاکستان کی نمائندہ سمجھی جانے والی یہ جماعت آج سندھ کے دیہاتی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟ کیا یہ زرداری صاحب کی ‘جاگیردارانہ سوچ’ کا نتیجہ ہے جس نے پارٹی کو ایک خاندانی دکان بنا دیا ہے؟ کیا عوامی مسائل کی نمائندگی کی بجائے ذاتی مفادات کی جنگ نے پیپلز پارٹی کو اس مقام تک پہنچا دیا؟ 

پاکستانی کب تک چپ رہیں گے؟
سندھ کے دیہاتوں سے لے کر پنجاب کے شہروں تک عوام سوال کر رہے ہیں: کیا ہماری تقدیر چند سیاستدانوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ جائے گی؟ کیا زرداری صاحب جیسے لیڈر قومی یکجہتی کو تار تار کرکے بھی اپنی سیاست چمکاتے رہیں گے؟ ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ ‘یہ صرف زرداری کی نہیں، بلکہ پورے پاکستانی سیاسی نظام کی ناکامی ہے جہاں عوامی مفادات کو ذاتی ایجنڈے پر قربان کیا جاتا ہے’۔ بدقسمتی سے، چند مفاد پرست عناصر قومی مفاد کے ایسے منصوبوں کو سیاست کی نذر کر دیتے ہیں۔ گرین پاکستان منصوبہ ملک کے آبی وسائل کو بہتر استعمال میں لانے کا ذریعہ ہے اور اس کی حمایت قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے تاکہ پاکستان زراعت میں خودکفیل ہو سکے۔ 

آج پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف وفاقی اکائیاں کمزور ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف صوبائی تعصبات ہوا میں تیر رہے ہیں۔ زرداری صاحب جیسے لیڈران کا یہ ‘کھیل’ صرف ایک جماعت یا خاندان تک محدود نہیں، بلکہ پورے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام آنکھیں کھولیں اور ان سیاستدانوں کے بھیس بدلنے کے کھیل کو مسترد کر دیں جو قومی مفاد کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھاتے ہیں اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے پر تل گیے ہیں- فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں