اردو کے مختلف نام

0
874


تحریر: آغا نیاز مگسی

برصغیر میں مسلمانوں کی آمد ہوئی تو یہاں عربی اور فارسی زبان بھی بولی جانے لگی اور وہ یہاں کی سب سے بڑی مقامی زبان  ہندی کے ساتھ ملتی گئی اور ان کی آمیزش اتنی بڑھی کہ اس نئی زبان کو ریختہ کا نام دیا گیا ۔ ریختہ کے معنی اور وجہ تسمیہ کے بارے میں ممتاز ماہر لسانیات حافظ محمود نے لکھا ہے کہ ریختہ کے معنی چونا سفیدی کا مرکب بھی ہے جبکہ ریختہ کا لفظ پختگی کے معنوں میں بھی مستعمل ہے ۔ اردو لکھنے کے 2 طریقے بیان کیئے جاتے ہیں ایک کو نستعلیق رسم الخط کہا جاتا ہے اور دوسرا زود نوشتہ یعنی کہ شکستہ طرز تحریر ۔  ریختہ مختلف مراحل طے کر کے اردو کے نام تک پہنچ گیا جسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے ۔ اردو زبان کا دامن کشادہ اور وسیع ہو گیا دنیا کی بہت سی زبانوں کو خود میں سمونے کی صلاحیت اور استعداد پیدا کر لی ہے اور اس کے بولنے اتنی لطافت اور مٹھاس آ گئی کہ بہت سے غیر اردو زبان کے شعراء نے بھی اپنی مادری زبان کے بجائے اردو میں شاعری کرنے کو ترجیج دی اور اردو کے بڑے شعراء کی صف اول میں شامل ہو گئے ان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے منیر نیازی، احمد فراز، قتیل شفائی، احمد ندیم قاسمی، عطاء الحق قاسمی اور عطا شاد و دیگر شامل ہیں جن کے نام اس وقت یاد نہیں آ رہے ہیں جبکہ ہندوستان میں بھی بہت سے ہندو اور سکھ شعراء اور شاعرات بھی اپنی مادری زبان سے زیادہ اردو زبان میں شاعری کی اور اردو شاعر کے طور پر مشہور ہو گئے ۔ اردو کی کشس، سلاست اور دلکشی کے بارے میں پنڈت گلزار دہلوی نے کیا
خوب کہا ہے کہ

اپنے محبوب کی خاطر تھی خدا کو منظور
ورنہ قرآں بھی اترتا بہ زبان اردو

ایسی اردو جسے شرفا کی زبان کہا جاتا ہے وہ  ” اردوئے معلی ” کہلاتی ہے ایک روایت کے مطابق یہ زبان مغلیہ دربار اور قلعہ شاہی میں پروان چڑھی ۔ اہل زبان نے اردوئے معلی کو فصاحت اور سلاست کا مرقع کہا ہے ۔ اس کی اپنی ایک خصوصی مٹھاس ہے ۔  خطوط غالب کے مجموعے کا نام بھی اردوئے معلی ہے ۔ ایک اردوئے مطلا ہے جسے لکھنو کے عمائدین اور سخن ور بولتے ہیں ۔اردوئے مطلا کا لہجہ بہت پرلطف اور پرتکلف ہے ۔  لکھنوی زبان رنگیں بیانی اور حسن آرائی سے بھرپور ہے ۔ اردوئے معلی اور اردوئے مطلا میں چاند اور سورج جیسا رشتہ محسوس ہوتا ہے ۔  بہت عالم فاضل لوگ اپنی بول چال میں لغت کے بھاری بھرکم مشکل الفاظ استعمال کرتے ہیں ان کو سمجھنے کے لئے لغت سے مدد لینے کی ضرورت پڑتی ہے ایسی زبان کو فرہنگی اردو کا نام دیا گیا ہے ۔  اخبارات و  رسائل اور جرائد جس قسم کی اردو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جس کے تحت اداریے،مقالے مضمون نگاری اور نامہ نگاری کی جاتی ہے اسے خود رنگی اردو کہا جاتا ہے ۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کہانی نویس اور تمثیل نگار جو زبان الفاظ استعمال کرتے ہیں اسے خود آہنگی اردو کہا جاتا ہے ۔ اگر کسی کے ساتھ مناظرہ کیا جائے یا کسی کی برائی کی جائے اور مخالفین کی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے جو ذومعنی الفاظ اور فقرے استعمال کیے جائیں اسے جنگی اردو کا نام دیا گیا ہے ۔

ایک ایسی زبان جس میں مزاحیہ انداز اختیار کیا جائے ہزل اور ظرافت کی کثرت کے باعث قیود و پابندی سے آزاد ہو ایسی زبان کو ہڑدنگی اردو کا نام دیا گیا ہے ۔ لکھنو اور دہلی کے کچھ ایسے لوگ جگت بازی و دشنام اور پھبتی میں شامل ہوتے ہیں ایسی زبان کو لفنگی اردو کا نام دیا گیا ہے جبکہ جو لوگ نشے کی حالت میں چرس، بھنگ اور شراب وغیرہ پی کر جملے کستے اور بے ڈھنگے اشعار بناتے اور سناتے ہیں خود کو فقیر کہلاتے اور نعرے لگاتے ہیں ایسی زبان کو سربھنگی اردو کہا جاتا ہے ۔  ایسی اردو جو انگریزی لوگ بولتے ہیں اور ان سے متاثر ہو کر مقامی عیسائیوں اور انگریزوں کے نوکروں نے بولنا شروع کر دیا اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اسے فرنگی اردو کہا جاتا ہے ۔ بابو قسم کے وہ لوگ جو زبان اور لہجہ اختیار کرتے ہیں جن کی زمین تو انگریزی الفاظ کی ہے مگر پٹ اردو کی ہوتی ہے تو اسے بے ڈھنگی اردو کہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں