شعور فاؤنڈیشن نے کراچی میں امن کے فروغ کے لئے بین المذاہب ہم آہنگی نیٹورک کا آغاز کردیا

0
60

کراچی: شعور فائونڈیشن کی جانب سے کراچی میں امن کے فروغ کے لئے آغاز نام سے ایک منصوبہ مکمل کیا جا چکا ہے جس کے بعد کراچی بین المذاہب ہم آہنگی نیٹورک کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اس نیٹورک کے ذریعے مختلف اداروں، سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں، تعلیمی، مذہبی، صحافت اور دیگر شعباجات کے نمائندگان کے ساتھ مل کر رواداری قائم کرنا ہے۔ نیٹورک میں نوجوانوں خصوصی طور خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

شعور فاؤنڈیشن کی جانب سے اس نیٹورک کے تحت اس وقت تک کی جانے والی سرگرمیوں میں کمیونٹی پیس ڈائلاگ، سوشل ایکشن پراجیکٹ، بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں مختلف جامعات، مذہبی عبادت گاہوں جیسا کہ مندر، مساجد، گوردواروں، چرچ، مدارس، امام بارگاہوں میں منعقد کی گئیں جن میں 1500 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

نیٹورک کی سرگرمیوں میں منتخب سیاسی رہنماؤں کے ساتھ سرکاری اداروں کے اہلکاروں، جامعات کے اساتذہ، محققین، مذہبی رہنماؤں، صحافیوں، اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے امن، برداشت، مذہبی رواداری کے متعلق رکھی گئی مختلف نشستوں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کراچی بین المذاہب ہم آہنگی نیٹورک کی جانب سے نیٹورک کی سرگرمیوں سے متعلق کراچی کے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں نیٹورک کے متعلق بتاتے ہوئے علامہ سید علی کرار نقوی نے کہا کہ یہ نیٹورک اپنی نوعیت کا منفرد کوشش ہے اور یہ اس وقت کی اہم ضرورت ہے کہ صوبے بھر میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اس طرز پر کام کیا جائے۔

نیٹورک کے رہنما تعلیمدان اور محقق شمس الدین حسن شگری نے بتایا کہ تمام مذاہب امن کی تعلیم دیتے ہیں کسی بھی مذہب میں نفرت انگیزی کی اجازت نہیں اس لیے ہم سب پر لازم ہے کہ ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہوئے تمام مذہبی تہواروں میں شرکت کرنی چاہیے۔

صحافی جیوتی مہیشوری نے شرکاء کو بتایا کہ یے نیٹورک امن کے قیام اور مذہبی رواداری کے لیے مختلف اداروں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے اور خصوصی طور پر خواتین کی شمولیت قابل ستائش ہے۔

نیٹورک کی رکن تعلیمدان ارم فضل نے کہا کہ اس نیٹورک کے توسط سے جامعات کے طلباء کو شامل کرنے سے مذہبی ہم آہنگی کے پیغام کو وسیع پیمانے پر پھیلانے میں مدد ملی ہے۔

نوجوان رہنما سید فراز لیاقت نے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مذہبی ہم آہنگی کے متعلق دلائل سے مطمئن کرنے کی ضرورت ہے اور اس نیٹورک کے ذریعے مختلف جامعات میں یہ کام ممکن بنایا گیا۔

کراچی بین المذاہب ہم آہنگی نیٹورک کے پراجیکٹ مینجر توفیق وسان نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹورک سندھ حکومت کی وزارت اقلیتی امور اور دیگر اداروں کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر امن کے قیام اور روادار معاشرے کی تشکیل ممکن بنانے کی کوشش کی جائے ایسا کرنے سے مذہبی شدت پسندی کو کم کیا جا سکے گا۔

پریس کانفرنس میں مختلف ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں