ڈسٹرکٹ سینٹرل’ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث جعلی بلڈرز کے خلاف مقدمات درج، 7 بلڈرز نامزد، گرفتاریاں شروع

0
31

کراچی (رپورٹ: ایم جے کے) ضلع وسطی میں اب صرف غیرقانونی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ غیرقانونی تعمیرات میں خریداری کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوگا، ڈسٹرکٹ سینٹرل غیرقانونی تعمیرات میں ملوث جعلی بلڈرز کے خلاف مقدمات درج گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں، ایف آئی آر نمبر 270 /2025 تیموریہ تھانے میں درج کردی گئی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ڈی سی سینٹرل ایک پیچ پر آگئے۔

ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اسحاق کھوڑو کے خط پر کاروائیاں شروع، خط 2023 میں کراچی پولیس چیف خادم حسین رند کو لکھا گیا تھا جس پر اب کاروائی کی گئی ہے، خط میں شامل کاشف اسٹیکر نامی شخص گرفتار کرلیا گیا، کاشف اسٹیکر پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مدعیت میں مقدمہ درج مقدمہ نمبر 2025/270 تیموریہ تھانہ میں درج کیا گیا ہے، خط میں شامل 7 افراد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ایف آئی آر میں شامل ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات میں ملوث عناصروں کو نہیں بخشا جائے گا چاہے اس میں ایس بی سی افسران ہوں یا تھانہ ایس ایچ او ہوں، ڈسٹرکٹ سینٹرل میں غیر قانونی تعمیرات پر ڈی سی سینڑل اور ایس ایس پی سینٹرل بھی متحرک ہیں۔

ڈی سی سینٹرل طحہ سلیم کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں لاقانونیت کا راج توڑ کر دم لونگا، ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ذیشان شفیق کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ سینٹر میں کسی صورت غیر قانونی تعمیرات کو برداشت نہیں کیا جائے گا، شکایت ملنے پر فوری طور پر تھانہ ایس ایچ او کو تبدیل کردیا جائے گا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اسحاق کھوڑو نے نگراں دور حکومت میں دو سال قبل 26 ستمبر 2023 لکھے گئے خط نمبر  2023/108 پر ایکشن کروانا شروع کر دیا گیا ہے، خط میں 7 لوگوں کے نام ہیں ثاقب بن رؤف، کاشف بن رؤف، سلمان، فہد شفیق، فراز بلڈر، جنید نفیس، فیصل بلڈر، غیر قانونی تعمیرات کے بادشاہوں جو کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں ان میں سے ایک گرفتار کیا جاچکا ہے، جس کا نام کاشف اسٹیکر ہے، کاشف اسٹیکر ثاقب الروف کا بھائی ہے جو کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کو نارتھ ناظم آباد میں غیر قانونی تعمیرات کو روکنے پر روڈ پر زردوکوب کرتا ہے، ایف آئی آر میں نامزد بقیہ افراد فرار ہوچکے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں غیرقانونی تعمیرات کو روکنے کے لیے کیا واقعی ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈی سی سینٹرل اور ایس ایس پی سینٹرل مستقبل میں بھی اپنی سنجیدگی اسی طرح ظاہر کرینگے گے یا یہ کاروائیاں یہیں رک جائیں گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں