انتظامیہ اسٹیل ملز کا رہائشی منصوبہ فیز 4 دینے سے انکار، حکومت کو جوابی خط بھیج دیا

0
648

کراچی (مدثر غفور) حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کو گلشن حدید فیز 4 پلاٹوں کی الاٹمنٹ پر نجکاری کمیشن کی جانب سے لگائی گئی پابندی ختم کر دی حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل ملز کو باقاعدہ لیٹر بھیج دیا۔ پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ نے وفاقی حکومت کی طرف سے لکھے گئے خط کے جواب میں 19 مئی کو جوابی خط نمبر سیک۔/لینڈ/-259/2021/360 بھیج دیا جس میں ملازمین کو رہائشی منصوبہ فیز 4 دینے سے انکار کرتے ہوئے لکھا کہ فیز 3 کے ڈویلپمنٹ ابھی تک نہیں کراسکے اور فیز 4 پر کام ناممکن ہے۔

پرائیوٹائزیشن کمیشن آف پاکستان نے رہائشی منصوبہ فیز 4 لانچ کرنے اور پابندی ہٹانے کی پیشکش کردی جس پر انتظامیہ اسٹیل ملز کے سفارشی کانٹریکٹ پر بھرتی کارپوریٹ سیکریڑی بیچلر آف میٹالرجیکل انجنئیرنگ کے سند یافتہ شفیق انجم نے خط کا جواب دیتے ہوئے انکار کردیا۔

پرائم منسٹر پبلک آفیئر اینڈ گریوانس ونگ منسٹری آف پارلیمنری آفیئر کی طرف سے 22 مارچ 2021 کو لکھے گئے لیٹر نمبر پی اے & جی ڈبلیو/2021/سندھ/23325/2/177526 میں ‘شکایت کا ازالہ گلشن حدید میں پلاٹوں کی پابندی ختم کرنا اور الاٹمنٹ’ کے جواب میں اسٹیل ملز کے کارپوریٹ سیکریٹری شفیق انجم نے خط کا جواب دیتے ہوئے انتظامی نااہلی تسلیم  کرلی اور پرائیوٹائزیشن کمیشن آف پاکستان اور وزارت صنعت و پیداوار کا سہارا لے لیا۔

اسٹیل ملز کے کارپوریٹ سیکریٹری نے خط کے جواب میں فیز4 کے رہائشی منصوبے التوا کی وجوہات بتاتے ہوئے لکھا کہ 2015 میں نجکاری کی فعال فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو نجکاری کمیشن کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ نجکاری کمیشن نے بتایا کہ گلشن حدید فیز 4 کا آغاز پاکستان ملز کارپوریشن کی نجکاری تک واپس رکھا جائے گا۔

پاکستان اسٹیل مل نے ایک بار پھر وزارت صنعت و پیداوار سے درخواست کی کہ وہ گلشن حدید مرحلے کا آغاز پاکستان اسٹیل کی نجکاری کے عمل سے کریں۔ وزارت صنعت و پیداوار نے مطلع کیا کہ نجکاری کمیشن کے مشورے سے اس معاملے پر غور کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس مرحلے پر گلشن حدید فیز 4 کو نجکاری کے عمل سے شروع کرنے کا مشورہ دیا جائے اور اس وجہ سے متفق ہوکر ایسا نہیں ہوسکتا۔

حال ہی میں نجکاری کمیشن نے 16 فروری 2021 کو لکھے گئے خط کے ذریعے بتایا ہے کہ بنیادی اور اختیاری اراضی نجکاری کے امکانی خدشات کا باعث ہے۔ لہذا وزارت صنعت و پیداوار اور پاکستان اسٹیل مل کارپوریشن غیر پایہ اراضی سے متعلق معاملات کو اپنے اختتام پر نمٹا سکتی ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فی الحال نجکاری کمیشن کی طرف سے گلشن حدید فیز 4 شروع کرنے پر پابندی نہیں ہے کیونکہ پاکستان اسٹیل مل کالونی / رہائشی اراضی غیر کور ہے۔

اسٹیل ملز کے کارپوریٹ سیکریٹری شفیق انجم نے انتظامہ نااہلی تسلیم کرتے ہوئے خط کے آخر میں لکھا کہ گلشن حدید فیز 1 اور 2 کی توسیع اور مرحلے 3 کی الاٹ ٹیز سے ترقیاتی چارجز وصول ہونے کے باوجود پاکستان اسٹیل مل انتظامیہ مطلوبہ ترقیاتی کام انجام دینے میں ناکام رہا ہے۔ اس وقت پاکستان اسٹیل مل پر پابندی لگانے / بازپرستی کے عمل میں ہے اور جب تک کہ اس کی تشکیل مناسب طریقے سے نہیں ہوجاتی، گلشن حدید فیز 4 کی ترقی کے لئے بڑے پیمانے پر بڑے منصوبے میں شامل ہونا مناسب نہیں ہوگا۔

انتظامیہ اسٹیل ملز کے زرائع کے مطابق اگر گلشن حدید فیز 4 کا رہائشی منصوبہ شروع کیا جاتا ہے تو فیز 3 کے ڈویلپمنٹ کی مد میں اربوں روپے کرپشن کا حساب کتاب کُھل جائے گا جس میں موجودہ انتظامیہ کے بااثر افسران اور بڑے مگر مچھ  نیب اور ایف آئی اے کے رڈار پر آجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیل ملز انتظامیہ کے لوگ گلشن حدید فیز 4 رہائشی منصوبہ ملازمین کو دینے سے گُریز کررہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں